برطانیہبین الاقوامیتارکین وطنتعلیمکورونا وائرس

اے لیول رزلٹ: لڑکیوں نے مجموعی طور پر لڑکوں کو پیچھے چھوڑدیا

اے لیول کے نتائج میں طلبہ کے گریڈز گذشتہ سال سے کم آئے ہیں لیکن یہ اب بھی کرونا وبا سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

جمعرات کو انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں لاکھوں طلبہ اے لیول کے نتائج آنے کے بعد اپنے نمبر دیکھ رہے ہیں۔ کرونا وبا کے دوران لگاتار دو سال باضابطہ امتحانات منسوخ ہونے کے بعد اس بار دوبارہ اے لیول کے امتحانات میں بیٹھنے والے یہ پہلے طلبہ تھے۔

پاس ہونے کی مجموعی شرح 2021 کے مقابلے میں 99.5 فیصد سے کم ہو کر اس سال 98.4 فیصد پر آ گئی ہے۔ تاہم 2021 میں وبا کے باعث امتحانات منسوخ ہونے پر اساتذہ نے گریڈ دیے تھے۔ اس کے باوجود یہ گریڈز کرونا وبا سے پہلے یعنی 2019 میں دیے گئے امتحانات سے زیادہ ہیں جب A* سے E گریڈ تک پہنچنے والے طلبہ کا تناسب 97.6 فیصد تھا۔

2021 کے مقابلے میں اس سال A* اور A گریڈ حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد بھی کم ہے جو 44.8 فیصد سے کم ہو کر 36.4 فیصد پر آگئی ہے۔ لیکن پھر بھی یہ گذشتہ امتحان کے بیٹھنے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں جب 25.4 فیصد نے اعلیٰ گریڈز حاصل کیے تھے۔

وزیر تعلیم نے طلبہ کو خبردار کیا تھا کہ ان کے گریڈ امیدوں یا توقع سے کم ہوسکتے ہیں کیونکہ گریڈ انفلیشن کو روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اس حکومتی پالیسی کے تحت امتحانی بورڈز کو گذشتہ سال کے مقابلے میں گریڈ کم کرنے کے لیے کہا گیا تھا کیوں کہ اس سال طلبہ کی ایک ریکارڈ تعداد نے اے گریڈ یا اس سے اوپر حاصل کیا تھا۔ تاہم پاس ہونے والوں کی تعداد کرونا وبا سے پہلے کے مقابلے اب بھی زیادہ ہے۔

جوائنٹ کونسل فار کوالیفیکیشنز (جے سی کیو) کے مطابق 2021 میں ریکارڈ A* گریڈ کے اعداد و شمار 19.1 فیصد سے کم ہو کر اس سال 14.6 فیصد رہ گئے لیکن 2019 میں یہ محض 7.7 فیصد سے کچھ زیادہ تھے۔ اس دوران A* سے C گریڈ تک کا تناسب 2021 میں 88.5 فیصد سے کم ہو کر اس سال 82.6 فیصد ہو گیا حالانکہ یہ 2019 میں 75.9 فیصد سے زیادہ ہے۔

جے سی کیو کے مطابق لڑکیوں نے مجموعی طور پر لڑکوں کو پیچھے چھوڑنا جاری رکھا۔ لڑکیوں کی A* سے E گریڈ حاصل کرنے کی شرح 98.1 فیصد سے بڑھ کر 98.7 فیصد ہو گئی۔

جے سی کیو سے وابستہ کیتھ تھامس نے کہا: ’جیسا کہ پیش گوئی تھی کہ ان نتائج کے گریڈز 2019 کے موسم گرما کے امتحانات کے آخری سیٹ سے زیادہ ہیں لیکن گذشتہ سال اساتذہ کی جانب سے دیے گئے گریڈز سے کم ہیں۔‘

ان کے بقول: ’یہ نتائج ان خصوصی اقدامات کی عکاسی کرتے ہیں جو کووڈ کی وجہ سے ایک اور مشکل سال کے دوران طلبہ، سکولوں اور کالجوں کی مدد کے لیے کیے گئے تھے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انگلینڈ کے امتحانی ریگولیٹر کی سربراہ ڈاکٹر جو سیکسٹن نے کہا کہ انہوں نے محسوس کیا کہ کرونا وبا سے پہلے کی درجہ بندی کی سطح پر ایک ہی بار میں واپس آنا درست نہیں ہوتا اور اس کے لیے ’معمول پر واپس‘ جانے کی ضرورت ہے۔

نئی ٹیکنیکل ڈگری یعنی ٹی لیول کے لیے کوالیفائی کرنے والے طلبہ کے پہلے گروپ کے نتائج بھی آج جاری کیے گئے جہاں پاس ہونے کی شرح تقریباً 92 فیصد ہے۔

برطانوی حکومت کے مطابق پاس ہونے والے ان میں سے بہت سے طلبہ اپنی پہلی ملازمت یا اپرنٹس شپ پر جا رہے ہیں جب کہ تقریباً ایک تہائی کو یونیورسٹی کورس کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

تعلیمی یونینز نے طلبہ اور اساتذہ کو خراج تحسین پیش کیا ہے جنہوں نے دو سال سے زیادہ کی رکاوٹ کے بعد گریڈ حاصل کرنے کے لیے محنت کی، اس میں اس سال امتحان دینے والے جی سی ایس ایز گروپ بھی شامل ہیں جن کے  بھی منسوخ کر دیے گئے تھے۔

ٹیچرز یونین NASUWT سے وابستہ ڈاکٹر پیٹرک روچ نے اس حوالے سے کہا: ’یہ گریڈز ان حالات کی عکاسی کرتے ہیں جن میں امتحانات منعقد کیے گئے تھے اور ان نتائج کا پچھلے سالوں سے موازنہ کرنا یا سابقہ طلبہ کی کارکردگی کے ساتھ موازنہ کرنا غلط اور مکمل طور پر جائز نہیں ہوگا۔‘

ایسوسی ایشن فار سکول اینڈ کالج لیڈرز سے وانستہ جیوف بارٹن نے کہا: ’اس بات کا امکان ہے کہ سکولوں، کالجوں اور طلبہ کی سطح پر نتائج غیر مساوی ہوں گے کیوں کہ کرونا وبا کے انتہائی غیر مستقل اثرات کی وجہ سے ان لوگوں کے ساتھ جو انفیکشن سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ممکنہ طور پر دوسروں کے مقابلے میں کم بہتر ہوتے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’یہ کسی بھی طرح سے ایک عام سال نہیں ہے اور یہ ضروری ہے کہ ہم گریڈز پر بہت زیادہ وقت صرف کرنے کی بجائے طلبہ کے آگے بڑھنے میں مدد کرنے پر توجہ دیں۔‘

اے لیول کے نتائج کے دن طلبہ کی تقریباً ریکارڈ تعداد کو ان کی پسندیدہ یا دوسری پسند کی یونیورسٹی میں داخلہ دیا گیا۔

یوکاس نے کہا کہ کل چار لاکھ 25 ہزار 830 طلبہ نے اپنی فرم یا انشورنس چوائس یونیورسٹی کے لیے مطلوبہ گریڈ حاصل کیے جو 2021 کے بعد اب تک کی دوسری بلند ترین سطح ہے۔

’یونیورسٹیز یو کے‘ کے چیف ایگزیکٹیو کرس ہیل نے کہا: ’ایک بار پھر اتنی بڑی تعداد میں درخواست دہندگان کو اعلیٰ تعلیم میں اپنا سفر جاری رکھنا بہت پرجوش خبر ہے جو ہماری یونیورسٹیوں کی مضبوط کشش کی عکاسی کرتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اس سال داخلے کی درخواست دینے والے طلبہ کو کئی سالوں سے تعطل کی شکار تعلیم کا سامنا کرنا پڑا ہے اور انہیں اور ان کے خاندانوں کو اپنی کامیابیوں پر غیر معمولی طور پر فخر کرنا چاہیے۔‘

یونیورسٹیوں کے ’سلیکٹیو رسل‘ گروپ کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر ٹِم بریڈشا نے کہا: ’یہ دیکھنا حیرت انگیز ہے کہ 2019 کے مقابلے میں یونیورسٹیوں میں داخلے حاصل کرنے والے نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جن میں انتہائی پسماندہ پس منظر والے طلبہ بھی شامل ہیں۔‘

یوکاس کے مطابق 2019 کے مقابلے میں اس سال یونیورسٹی کے کورسز میں داخلہ لینے والے انتہائی پسماندہ پس منظر کے طلبہ کی تعداد تقریباً تین ہزار سے زیادہ تھی۔

ڈاکٹر بریڈشا نے کہا کہ یہ ’داخلوں کے لیے مسابقتی سال‘ رہا ہے کیونکہ کرونا وبا کے بعد حالات معمول پر آ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’اگلے چند ہفتوں کے دوران ہماری داخلہ ٹیمیں ہماری یونیورسٹیوں میں زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو جگہ دینے کے لیے سخت محنت کریں گی جب کہ اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ہر طالب علم عالمی معیار کا تدریسی اور سیکھنے کا تجربہ حاصل کر سکیں جس کی وہ بجا طور پر توقع کرتے ہیں۔‘

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button