افغانستانامریکہپاکستانپشاور

امریکی جاسوسوں نے کیسے کابل میں القاعدہ کے سربراہ کو ڈھونڈ نکالا؟ – Niazamana

گذشتہ سال افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران صدر جو بائیڈن نے عہد کیا تھا کہ ان کی انتظامیہ طالبان کی قیادت والی نئی حکومت کو افغانستان کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنانے کی اجازت نہیں دے گی۔ان ریمارکس کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کے لیے دہشتگردی کے خلاف دہائیوں پرانی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔تقریباً ایک سال بعد صدر کے اعلیٰ سکیورٹی مشیروں نے ان سے رابطہ کیا اور بتایا کہ انٹیلیجنس حکام نے القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کا افغانستان میں پتا لگایا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے پس پردہ بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ گذشتہ سال مغربی حمایت یافتہ حکومت کے خاتمے کے بعد الظواہری افغانستان واپس آ گئے تھے۔ امریکی انخلا کے بعد سے ہی امریکی جاسوس افغانستان پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے کہ القاعدہ کے رہنما آہستہ آہستہ ملک میں واپس آ رہے ہیں۔

الظواہری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ کابل کے مرکز میں بلند حفاظتی دیواروں والے ایک بڑے کمپاؤنڈ میں رہ رہے تھے۔الظواہری نے جس علاقے کا انتخاب کیا وہ نسبتاً ایک اچھا علاقہ ہے۔ پچھلی انتظامیہ میں جو پورا علاقہ غیر ملکی سفارت خانوں اور سفارت کاروں کا گھر تھا، اب طالبان کے زیادہ تر اعلیٰ عہدیدار اس عالیشان علاقے میں رہتے ہیں۔

اپریل کے اوائل میں، سی آئی اے افسران نے پہلے بائیڈن کے مشیروں اور پھر صدر کو خصوصی بریفنگ میں بتایا کہ انھوں نے انٹیلیجنس کے ذریعے ایک ایسے نیٹ ورک کی نشاندہی کی ہے جو القاعدہ کے رہنما اور اس کے خاندان کی مدد کرتا ہے۔امریکی جاسوسوں نے آہستہ آہستہ گھر کے مکینوں کے رویے اور ان کی نقل و حرکت کی تفصیلات جمع کیں، جس میں ایک خاتون پر بھی نظر رکھی گئی جنھیں الظواہری کی بیوی کے طور پر شناخت کیا گیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ انھوں نے وہ طریقے اختیار کر رکھے تھے جن سے کابل میں اس محفوظ رہائش گاہ تک کوئی بھی ان کے شوہر تک نہ پہنچ سکے۔

جاسوسوں نے غور کیا کہ اس گھر میں آنے کے بعد، الظواہری خود کبھی بھی احاطے سے باہر نہیں نکلے لیکن انھوں نے نوٹ کیا کہ وہ وقتاً فوقتاً بالکونی میں مختصر وقت کے لیے نمودار ہوتے تھے اور عمارت کی بلند دیواروں کا جائزہ لیتے تھے۔

مئی اور جون کے دوران، امریکی صدر کی توجہ یوکرین کی جنگ پر مرکوز رہی اس کے علاوہ وہ ملک میں گن کنٹرول اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق قانون سازی کے مسئلے میں مصروف رہے لیکن خفیہ طور پر انٹیلیجنس کے اعلیٰ افسران کے ایک ’چھوٹے اور منتخب‘ گروپ نے اس حملے کی منصوبہ بندی کرنی شروع کر دی تھی۔

صدر بائیڈن نے انٹیلیجنس افسران کو یہ ذمہ داری سونپی تھی کہ اس حملے میں الظواہری کے خاندان کے افراد، طالبان اہلکاروں اور عام شہرویوں کو نقصان نہ پہچانے کو یقینی بنائیں۔یکم جولائی کو، صدر بائیڈن نے کئی اعلیٰ حکام کو جمع کیا، جن میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز اور نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر ایورل ہینس شامل تھے۔

مسٹر بائیڈن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ’بریفنگ میں پوری توجہ سے شامل ہوئے اور تمام تفصیلات کو غور سے سنا جب ان کے مشیر الظواہری کے گھر کے ایک بڑے ماڈل کے ارد گرد جمع ہوئے جسے انٹیلیجنس حکام تیار کر کے وائٹ ہاوس لائے تھے۔ایک سینئر مشیر نے کہا ’وہ خاص طور پر اس بات کو یقینی بنانے پر زور دے رہے تھے کہ آپریشن کے دوران پھونک پھونک کر قدم رکھے جائیں اور کسی بھی طرح کے خطرے کو کم سے کم رکھا جائے۔بائیڈن نے ہفتے کے آخر میں کیمپ ڈیوڈ جانے سے پہلے عمارت کے ڈھانچے کے بارے میں معلومات طلب کیں اور جائزہ لیا گیا کہ حملے کا اس عمارت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

اگلے چند ہفتوں کے دوران، حکام نے وائٹ ہاؤس کے اہم کمرے میں ملاقات کی یہ وائٹ ہاؤس کے نیچے قائم کیا گیا ایک بنکر نما کمانڈ سینٹر ہے جہاں صدر اندرون اور بیرون ملک بحرانوں پر نظر رکھ سکتے ہیں۔حکام نے انتہائی محتاط انداز میں اس آپریشن کی منصوبہ بندی کی اور صدر کی جانب سے پوچھے جانے والے کسی بھی ممکنہ سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی۔

دریں اثنا، وکلا کی ایک چھوٹی ٹیم اس حملے کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کے لیے جمع ہوئی اور بالآخر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ’القاعدہ میں الظواہری کے قائدانہ کردار اور القاعدہ کے حملوں کے لیے ان کی آپریشنل حمایت‘ کی بنیاد پر ایک جائز ہدف تھا۔25 جولائی کو اپنی ٹیم کو ایک آخری بار بلانے اور اپنے اعلیٰ مشیروں سے ان کے خیالات پوچھنے کے بعد مسٹر بائیڈن نے اس حملے کی اجازت دے دی۔

انٹیلیجنس حکام کے مطابق مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجکر 18 منٹ پر ایک ڈرون سے داغے گئے دو ہیل فائر میزائل الظواہری کے مکان کی بالکونی سے ٹکرائے جس کے نتیجے میں القاعدہ کے سربراہ ہلاک ہو گئے۔ اس حملے میں ان کے خاندان کے دوسرے ارکان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔حملے کے بعد مکان کی کھڑکیاں اڑ گئیں مگر حیرت انگیز طور پر کوئی اور نقصان نظر نہیں آیا۔اس حملے کم معروف ہیل فائر میزائل استعمال کیا گیا تھا جس میں دھماکہ خیز مواد نہیں ہوتا۔ میزائل کی یہ ایک خاص قسم ہے اور بارود کی جگہ اس میں چھ بلیڈ لگے ہوتے ہیں جو نشانے پر پہنچتے وقت میزائل کے اطراف سے نکل آتے ہیں۔

اصل میں تباہی اس کائنیٹک انرجی (حرکی توانائی) کی وجہ سے ہوتی ہے جو بلیڈوں پر مشتمل ہتھیار کے چلنے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ یہ بلیڈ اپنے ٹارگٹ کو تو کاٹ کر رکھ دیتے ہیں مگر کسی اور کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ہزاروں میل دور واشنگٹن میں صدر کو آگاہ کیا گیا کہ حملہ کامیاب رہا ہے۔

اتوار کو طالبان کی وزارت داخلہ نے مقامی ٹیلی ویژن چینل طلوع نیوز کو آگاہ کیا تھا کہ ایک خالی مکان پر راکٹ لگا ہے جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا ہے۔ اس وقت انھوں نے مزید تفصیل بتانے سے انکار کر دیا تھا۔

مگر اس کے فوراً بعد امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک کے جنگجو الظواہری کے گھروالوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے پہنچ گئے اور ان کی موجودگی کو چھپانے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہوگئے۔پیر کی صبح جب بی بی سی کے رپورٹر وقوعہ کے مقام پر پہنچے تو ایک طالبان محافظ نے بندوق تان کر انھیں وہاں سے چلے جانے کو کہا اور اصرار کیا کہ وہاں ’دیکھنے کو کچھ نہیں۔‘

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ’انٹیلیجنس کے متعدد ذرائع‘ سے الظواہری کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے تاہم اس بات پر زور دیا کہ کابل میں امریکی عملے کا کوئی بھی فرد موجود نہیں تھا۔ حکام نے حملے کی کامیابی کی تصدیق کے بارے میں مزید تفصیل فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔

انٹیلیجنس ایجنسیاں اپنے جاسوسوں کی شناخت چھپانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں۔ سابق امریکی صدر اوبامہ کے دور میں نیشنل انٹیلیجنس کے سابق ڈائرکٹر جیمز کلیپر نے بی بی سی کو بتایا کہ کابل میں امریکہ کے سابق اتحادیوں نے شاید کچھ معلومات فراہم کی ہوں۔یہ واضح نہیں کہ حملے کے بعد الظواہری کی لاش کہاں گئی۔ بائیڈن انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اسامہ بن لادن کے برعکس الظواہری کی باقیات حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

مئی 2011 میں امریکی سپیشل فورسز نے اسامہ کی لاش کو شناخت کی غرض سے لے جانے کے بعد اس غرض سے اسے سمندر میں دفن کرنے کا اعلان کیا تھا کہ کہیں ان کی قبر مسلمان شدت پسندوں کے لیے مزار نہ بن جائے۔مگر علاقے کی صفائی کے بعد ممکن ہے کہ ان کی باقیات طالبان نے حاصل کر لی ہوں۔

جس وقت امریکی ایوان صدر کی بالکونی سے صدر بائیڈن کی تقریر دنیا بھر میں ٹیلی ویژن پر دکھائی جا رہی تھی اس سے کچھ ہی دیر پہلے طالبان رہنماؤں نے افغانستان کی علاقائی حدود میں حملے کی بھرپور مذمت کی تاہم اپنے بیان میں انھوں نے الظواہری کا ذکر نہیں کیا۔اب اس بارے میں قیاس آرائیاں ہوں گی کہ الظواہری کی کابل میں موجودگی کے بارے میں سینیئر طالبان رہنماؤں کو کس قدر علم تھا اور انھوں نے کتنی مدد فراہم کی ہوگی۔

ایک شہری نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان جنگجو اس سڑک پر پہرہ دیتے تھے اور وہاں ’غیر افغان مکینوں‘ کی موجودگی کے بارے میں مقامی لوگوں کو علم تھا۔اس تاثر سے طالبان رہنماؤں کے لیے مشکل سوال پیدا ہو سکتے ہیں۔

bbc.com/urdu

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button