برطانیہپاکستانیورپ

پاکستانی بزنس ٹائیکون،بحریہ ٹاون کے چیئرمین ملک ریاض اور انکے بیٹے احمد علی ریاض پر برطانیہ داخلے پر پابندی عائد کردی

برطانیہ سے آپ کا اخراج عوامی بھلائی اور آپ کے طرز عمل اور کردار کی وجہ سے بہت ضروری ہے، برطانوی جج کا فیصلہ

لندن: برطانوی ہائی کورٹ نے پاکستان کی طاقتور شخصیت اور بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض اور انکے بیٹے احمد علی ریاض پر برطانیہ داخلے پر پابندی عائد کرتے ہوئے اْنکا دس سالہ سیاحتی ویزہ بھی منسوخ کردیا ہے۔

ملک ریاض،چیئرمین بحریہ ٹاون

اطلاعات کے مطابق پاکستانی بزنس ٹائیکون اور ڈی ایچ اے کے بعد ملک کی سب سے بڑی رہائشی سیکم کے 73 سالہ چیئرمین ملک ریاض اور اْنکے 43 سالہ بیٹے احمد علی ریاض نے برطانوی ہائی کورٹ میںکرپشن کے خلاف برطانوی ہوم آفس کی جانب سے دئیے گے فیصلے پر اپیل دائر کررکھی تھی جس میں عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ اِن پر برطانیہ میں داخلہ پر دس سالہ پابندی کا خاتمہ کیا جائے۔عدالت نےاْنکی اپیل کافیصلہ سناتے ہوئے لکھا ”برطانیہ کرپشن اور مالی جرائم کے خلاف ہے اورمجھے پورا یقین ہے کہ برطانیہ میںآپ کے طرزعمل اور کردار کے باعث آپ ( ملک ریاض اور انکے بیٹے احمد علی ریاض)کا اخراج عوامی مفاد میں بہت ضروری ہے۔ اسی فیصلے کی روشنی میں عدالت نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کا ویزا دس سال کے لیے منسوخ کردیا ہے۔بحریہ ٹاون کے چیئرمین اور اْنکے بیٹے پرکرپشن کے الزامات سندھ میں زمینوں پر قبضے سے متعلق تھے۔

برطانوی عدالت کے فیصلے کی کاپی

یاد رہے کہ تین دسمبر 2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض کے خلاف کرپشن کا فیصلہ سناتے ہوئے ان کے برطانیہ میں موجود 190 ملین پونڈ کے اثاثے ضبط کرکے حکومت پاکستان کے حوالے کیے تھے۔
اس تصفیے کے تحت ملک ریاض حسین اور ان کا خاندان جو 19 کروڑ پاونڈ کی رقم/اثاثے ضبط کیے گئے جن میں منجمد کیے جانے والے بینک اکاونٹس میں موجود رقم کے علاوہ مرکزی لندن کے متمول علاقے میں واقع ون ہائیڈ پارک پلیس نامی عمارت کا ایک اپارٹمنٹ بھی شامل ہے جس کی مالیت پانچ کروڑ پاونڈز کے لگ بھگ تھی کو گورنمنٹ آف پاکستان کے حوالے کیا گیا تھا۔
برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے بتایا کہ اگست 2019 میں اسی تحقیقات کے سلسلے میں آٹھ بینک اکاونٹ منجمد کیے گئے تھے جن میں 12 کروڑ پاونڈ کی رقم موجود تھی۔ یہ برطانوی کریمنل فنانسز ایکٹ 2017 میں اے ایف او کے متعارف کروائے جانے کے بعد سے اب تک کسی بھی اکاونٹ کی منجمد ہونے والی سب سے بڑی رقم ہے۔
اس سے قبل اسی تحقیقات کے سلسلے میں دسمبر 2018 میں بھی دو کروڑ پاونڈکی رقم منجمد کی گئی تھی۔
برطانوی مجسٹریٹ کے احکامات کے بعد نیشنل کرائمز ایجنسی نے ان فنڈز کے حوالے سے مزید تحقیقات کیں۔ این سی اے نے امکان ظاہر کیا تھا کہ اگر اس رقم کو غیر قانونی ذریعوں سے حاصل کیا گیا ہے یا اسے غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کیا جائے گا تو پھر اسے ضبط کر لیا جائے گا۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button