پاک آرمیپاکستان

جنرل فیض حمید کا دورہ کابل’نامناسب‘ تھا،اسد درانی

حکومتی وزرا طالبان کی حکومت پر بیانات دینے کی بجائے اپنا منہ بند رکھیں تو بہتر ہوگا‘‘

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی)کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی  نے ایک غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے آئی ایس آئی کے موجودہ چیف جنرل فیض حمیدکے حالیہ دورہ کابل کو نامناسب قرار دیا اورکہا کہ اس دورے نے مفروضوں اور شکوک کو جنم دیا۔

Don't worry, everything will be okay': ISI chief during Kabul visit - DAWN.COM

اسد درانی کا کہنا تھا کہ بعض حلقوں کے خیال میں خطے میں پاکستان کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے یہ ضروری تھا کہ لیفٹینٹ جنرل فیض حمید کا دورہ عوامی سطح پر کیا جائے لیکن اس ملاقات کے ردعمل کا ایک غیر ضروری نتیجہ نکلا ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق سربراہ آئی ایس آئی نے کہا ‘ڈی جی آئی ایس آئی کے پاس ایسی ملاقاتیں خاموشی سے کرنے کے کئی طریقے ہوتے ہیں۔’

سابق آئی ایس آئی چیف نے کہا کہ اگر وہ جنرل فیض حمید کی جگہ ہوتے تو عوامی سطح پر ملاقات کرنے کی جگہ خاموشی سے کوئی اور طریقہ کار چنتے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد لیفٹینٹ جنرل فیض حمید نے رواں ماہ پانچ ستمبر کو کابل کا اچانک دورہ کیا تھا جس کی تصاویر بھی میڈیا کی زینت بنی تھیں۔

اْنہوں نے طالبان کی حکومت پر قبل از وقت بیانات دینے پر حکومتی وزرا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا بہتر ہو گا کہ وہ ‘اپنا منھ بند رکھیں۔

#ISI #Taliban #Pakistan #Pak Army #Afghanistan #Kabul #Gen_Faiz_Hameed

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں