برطانیہ

سٹون ہینج کے پتھروں میں پیدا ہونے والے سوراخوں اور داڑروں کی مرمت کا کام شروع کر دیا گیا

برطانیہ کی سب سے اہم اور مقبول یادگارکاشمار دنیا کی مشہور ثقافتی ورثہ میں ہوتا ہے

  لندن(روبی حیدر)انگلش ورثہ کی دیکھ بھال کرنے والے ادارے  کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی سب سے اہم اور مقبول یادگار سٹون ہینج کے پتھروں میں ہوا اور بارشوں کی وجہ سے پڑی داڑروں اور سورخواں کی مرمت کا کام شروع کردیا گیا ہے۔

اسٹون ہینج قدیم پتھر کا دائرہ ولٹ شائر میں واقع ہے۔

اسٹون ہینج ، دنیا کی مشہور ثقافتی ورثہ  یادگاروں میں سے ایک ہے جس کے پتھر تقریبا 4،500 سال پرانے ہیں۔انگلش ہیریٹیج کے سینئر کیوریٹر ہیدر سیبائر کا کہنا تھا کہ اسٹون ہینج میں کٹاؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل اور پرانی مرمتوں کو ٹھیک کرنے کا کام کیا جائے گا جو لیزر سکین  کے ساتھ کیے گے تفصیلی جائزہ کے بعد ظاہر ہوئیں ہیں۔۔”

"ساڑھے چار ہزار سال پرانے پتھر ہوا اور بارش سے متاثر ہوئے جس کے باعث پتھروں کی سطح میں دراڑیں اور سوراخ پیدا ہو گئے ہیں ، اور یہ اہم کام ان خصوصیات کی حفاظت کرے گا جو اسٹون ہینج کو مخصوص بناتی ہیں۔”

سٹون ہینج کی کہانی

سٹون ہینج کی جگہ پر سب سے پہلے انسانی سرگرمیاں 7000 سال قبل از مسیح میں دیکھی گئی تھیں۔ اس کی زمین پر بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام 3100 سال قبل از مسیح کے دوران کیا گیا تھا جبکہ کام کا دوسرا دور 2150 سال قبل از مسیح میں کیا گیا تھا۔

سٹون ہینج اب برطانیہ کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کو یقینی بنانے والی تنظیم انگلش ہیریٹج کے زیرانتظام ہے

تعمیراتی کام کا تیسرا دور 150 سال بعد اس وقت کیا گیا جب ایک اندازے کے مطابق سینڈ سٹون (مخصوص پتھر) وِلٹ شائر کے شمال سے وہاں پہنچائے گئے تھے۔ بڑے سے بڑے پتھر کا وزن 50 ٹن تھا جنھیں چمڑے کی رسّی اور گھسیٹنے والی گاڑیوں پر رکھ کر گھسیٹا جاتا تھا۔

تقریباً 1500 سال قبل از مسیح کے دوران ان پتھروں کو دائرے نما گھوڑے کی نعل کی شکل میں رکھا گیا تھا۔

سٹون ہینج کی تعمیر کا مقصد آج بھی مخفی ہے۔ تاہم مختلف زمانوں میں لگائے گئے مختلف اندازوں کے تحت یہ جگہ شاہی قبرستان، عبادت کی جگہ، انسانی قربانی دینے کی جگہ، یا پھر یہ وہ جگہ ہو سکتی ہے جہاں سورج گرہن کی پیش گوئی کی جا سکتی ہو۔

سٹون ہینج سورج کے سامنے بالکل سیدھ میں اس طرح سے بنایا گیا ہے کہ گرمیوں اور سردیوں میں جب سورج زمین سے سب سے زیادہ اور سب سے کم فاصلے پر ہوتا ہے، تو دونوں اوقات میں اس کی روشنی سٹون ہینج کی ایک مخصوص جگہ پر پڑتی ہے۔

تاہم اس بات پر آج تک علمی لحاظ سے کوئی اتفاق نہیں ہو سکا ہے کہ اس دور کے مقامی باشندوں کے لیے پتھروں کی یہ ترتیب اور ان کا رُخ اتنی اہمیت کے حامل کیوں تھے۔

 

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھئے
Close
Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں