بھارت

بھارت:شادی شدہ افراد کا باہمی رضامندی سے دوسروں سے تعلقات غیرقانونی نہیں

پولیس ایسے لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنائے:بھارتی عدالت کا شادی اور محبت کے حوالے سے بڑا فیصلہ

چندی گڑھ:پنجاب اور یریانہ ہائی کورٹ نے شادی شدہ ہونے کے باوجود باہمی رضامندی کے ساتھ دوسروں کے ساتھ تعلقات رکھنا کوئی جرم نہیں اور پولیس کو ایسے لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔بھارتی عدالت نےشادی اور محبت کے تعلق سے بڑا فیصلہ دیا ہے۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ شادی شدہ ہونے کے باوجود کسی اور کے ساتھ افیئر ہونا  کوئی جرم نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں ان کے تحفظ سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

تفصیلات کے مطابق،بھارتی صوبے پنجاب کی ہائی کورٹ میں ایک شادی شدہ شخص نے درخواست داہر کی کہ اسکی طلاق کامعاملہ عدالت میں زیرالتوا ہے اور وہ ایک لڑکی سے تعلقات میں ہے۔اْس شخص کا یہ بھی کہنا تھا کہ اْسکی بیوی اور اْسکے گھر والوں سے ہمیں جان کا خطرہ ہے۔متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ پولیس اْسکی بیوی کے کہنے پر مجھے اور میری محبت کو مسلسل ہراساں کررہی ہے۔جس پر عدالت پولیس کو محبت کرنے والے جوڑے کی حفاظت کویقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے فیصلہ دیا کہ اگر جوڑے میں سے ایک پہلے سے شادی شدہ ہے تو بھی انہیں تحفظ سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور یہ جرم نہیں ہے۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں