افغانستان

جنگ ختم،آو ملکر ملک کی تعمیرنو کریں،ترجمان طالبان

عوام جان لے جارحیت کرنے والے کبھی بھی افغانستان کی ترقی میں حصہ نہیں لیں گے،پریس کابفرنس سے خطاب

کابل:طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے پیر کو کابل میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ افغانستان میں جنگ مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے اور امید کرتے ہیں کہ ’’افغانستان ایک پرامن اور مستحکم ملک کے طور پر دنیا بھر میں جانا جائے گا۔ترجمان طالبان نے حکومت کی تشکیل میں تاخیر کو آپس کے اختلافات کاباعث دینے والی خبروں کی تردید کی اور کہا کہ ‘‘کچھ تکنیکی مامعلات کے باعث تاخیر ہورہی ہے ” ۔اْنہوں نے اس بات کا امکان بھی ظاہر کیا کہ نئی افغان حکومت کا اعلان  عبوری ہوسکتا ہے۔”حتمی فیصلے ہو چکے ہیں ، ہم اب تکنیکی مسائل پر کام کر رہے ہیں۔ تکنیکی مسائل حل ہوتے ہی ہم نئی حکومت کا اعلان کریں گے۔

اْنہوں نے افغانستان کو پرامن ریاست بنانے کے اپنے منصوبوں کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ، "لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جارحیت کرنے والے” افغانستان کو کبھی نہیں بنائیں گے اور ملک کی ترقی افغان عوام کی ذمہ داری ہے۔ ہم ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے مشترکہ ہدف کیلئے مل جل کر کام کریں گے۔ افغانستان کی سیکورٹی اور دفاعی افواج ، جو کہ پچھلے 20 سالوں سے مختلف شعبوں میں تربیت یافتہ ہیں ، کو دوبارہ سیکورٹی اور دفاعی اداروں میں طالبان کے ساتھ بھرتی کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ  جلد ہی کابل میں حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں شروع ہوجائیں گی۔اس سلسلے میں قطر اور ترکی کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کی تکنیکی ٹیمیں ایئرپورٹ کی مرمت کر رہی ہیں۔  ذبیح اللہ مجاہد نے اس بات کی تصدیق کی کہ آئی ایس آئی کے چیف جنرل فیض حمید  تصدیق کابل آئے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان افغان جیلوں سے ٹی ٹی پی کے قیدیوں کی رہائی سے پریشان ہے اور پاکستان کوخدشہ ہے کہ رہا ہونے والے تحریک طالبان پاکستان کے لوگ پاکستان میں دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے طالبان کے اس بیان کو دہرایا کہ ہم کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دینگے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرسکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان دنیا کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں اور چین سے افغانستان کو بہت سی توقعات وابستہ ہیں ۔افغانستان کی تعمیر وترقی کیلئے چین کو ہم بہت اہم سمجھتے ہیں۔چین ایک بڑی معاشی طاقت ہے اورہمیں اس کے تعاون کی ضرورت ہے۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button