میگزین

تم ہی غالب رہو گے

تحریر: آصف گوہر

ارشاد باری تعالی ہے ۔
وَلَا تَهِنُواْ وَلَا تَحۡزَنُواْ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
"تم نہ سستی کرو اور غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے، اگر تم ایماندار ہو.”
سورة آل عمران 139
20 سال قبل امریکہ میں دہشت گردی کی مبینہ واردات کے بعد دنیا بدل گئ کل کے مجاہد امریکہ کے منظور نظر وائٹ ہاوس کے مہمان ایک دم سے مجرم اور دہشت گردٹھہرے۔۔ امریکہ نے دنیا کو پیغام دیا جو ہمارے ساتھ نہیں وہ ہمارا دشمن ہے اور پاکستان کو عجلت میں فون کرکے دھمکا کر ساتھ دینے کا وعدہ لے لیاگیا.
افغانستان میں امارت اسلامی کو سخت پیغام دیے گئے۔ اسلام آباد میں موجود طالبان کے دنیا میں واحد سفارت خانے کو بند کر دیا گیا۔ سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو گرفتار کرکے گوانتا نامو بے کے عقوبت خانے پہنچا دیا گیا ۔
افغانستان پر جدید ترین بی52 طیاروں سے بمباری کرکے طالبان کی برائے نام دفاعی قوت کو ختم کیا گیا، مدرسوں سکولوں اور ہسپتالوں پروحشیانہ بمباری کر کے وسیع پیمانے پر قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا گیا۔
جب متوقع مزاحمت مکمل ختم ہونے بارے پختہ یقین ہوگیا تو امریکہ اکیلے زمین پر اترنے کی بجائے نیٹو اتحاد کو اپنے ساتھ لے آیا اور پختون افغانوں پر مظالم کا نیا باب رقم ہوا ۔افغانستان میں اپنا قبضہ مضبوط بنانے کے لئے شمال کے فارسی بولنے والے کرائے کے قاتلوں کو ساتھ ملا کر قلعہ جنگی ننگرہار قندہار ہلمند میں طالبان کا قتل عام ہوا اور بدنام زمانہ عقوبت خانے معرض وجود میں آگئے جبر کے ذریعے طالبان کو پہاڑوں غاروں میں پناہ لی وہاں پر بھی تورا بورا جیسی تباہی مچائی کچھ ہجرت کرکے پاکستان آگئے یہاں پر بھی انکا پیچھا کیا گیا اور پاکستانی سابق حکومتوں کی خاموش اجازت سے قبائلیوں علاقوں میں ڈرون حملوں کے ذریعے سول آبادی پر آگ اور بارود برسا کر ہزاروں معصوم لوگوں کو قتل کر کے امریکہ نے کابل میں کٹھ پتلی حامد کرزئی عبدالرشید دوستم اور اشرف غنی جیسے کرداروں پر سرمایہ کاری کی اور اپنے قبضے کو مضبوط بنانے کی اپنے تئیں بھرپور کوشش کی لیکن حاصل ضرب کیا ملا ۔
طالبان نے اپنی بچی کچھی قوت کے بل پر اتحادی فورسز پر حملے شروع کر دیئے وقت کے ساتھ ساتھ ان گوریلا کاروائیوں میں شدت آنے لگی امریکہ نے پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی کے پاکستان طالبان کی مدد کر رہا ہے۔ افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت نے بھارت کے ساتھ پیار کی پینگیں ڈالیں پاکستان کے ازلی دشمن کو ڈیورنڈ لائن کے ساتھ ساتھ سفارت خانوں کے نام پر تخریب کاری کے اڈے فراہم کئے گئے جہاں سے پاکستانی سیکورٹی فورسز پولیس اور عوام پر دہشت گردانہ کاروائیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا۔
لیکن افغان طالبان نے مسلسل اتحادی افواج پر حملے جاری رکھے اور کٹھ پتلی افغان حکومت کو کابل اور شمال تک محدود کردیا ۔امریکہ نےاس مکمل ناکامی کا الزام پاکستان پر لگانا شروع کیا اور
پاکستان پر دباؤ ڈالا جانے لگا کے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن کیا جائے اور امریکہ اور اتحادی افواج کو پاکستان کے اندر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی کی اجازت دی جائے۔
پاکستان دفاعی قیادت نےامریکی مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے پیغام دیا کہ پاکستان اپنے علاقے میں جو کاروائی کر گے خود کرے کسی کو اجازت نہیں کے سرحد پار آئے۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو کردار ادا کیا اور قربانیاں دیں وہ ایک الگ باب ہے اس پر گفتگو پھر کبھی۔۔۔
پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان نے کئ سال قبل کہا تھا کہ اس دہشت گردی کے خلاف جنگ ایسے نہیں جیتی جا سکتی طالبان سے مذاکرات کرنے کے لیے پشاور میں طالبان کا دفتر کھولا جائے اس وقت لوگوں نے عمران خان کی بات کا مزاق اڑایا اور عمران خان کوطالبان خان کہا گیا۔۔
لیکن چند ہی سالوں بعد دنیا نے دیکھا کہ عمران خان کی تجویز کے مطابق قطر کے درالحکومت دوحہ میں طالبان کو دفتر کھول کر دیا گیا۔مذاکرات کے کئ ادوار ہوئے طالبان نے کئ دفعہ امریکی بات سننے سے انکار کر دیا پھر پاکستان کی منت سماجت کی جاتی کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے ۔
پاکستان نے افغانستان میں امن کے لئے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا جسکی دنیا معترف ہے۔
امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومت میں آتے ہی عندیہ دیا کے سابقہ حکومتوں نے امریکہ کو غیر ضروری جنگوں میں الجھا کر نقصاں پہنچایا ہم افغانستان جنگ سے نکلیں گے ۔

 

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں