بین الاقوامیپاکستانتارکین وطنتعلیمکوئٹہلاہور

شیعہ سنی علماء نے فرقہ واریت اور مقدسات کی توہین کو جرم قرار دیدیا

اسلام ٹائمز۔ مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ، جامعہ عروۃ الوثقی کے تحت لاہور میں تاریخی اور اہم قومی مشاورتی اجلاس برائے بیداریٔ امت منعقد ہوا، جس میں ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کے نمائندہ علماء کرام، زعماء عظام اور تمام وفاق ہائے مدارس کے عہدیداران نے شرکت کی۔ قومی مشاورتی اجلاس کا مقصد وطنِ عزیز میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور تفرقہ انگیز عوامل میں تشویش ناک اضافے کے تدارک کیلئے مشاورت اور لائحہ عمل کا تعین کرنا شامل تھا، تاکہ تمام مکاتبِ فکر ہم آواز اور ہمقدم  ہو کر فرقہ واریت کے عفریت کیخلاف عوامی بیداری پیدا کریں اور اس زہرِ قاتل کے تریاق کی خاطر عملی اقدامات کریں۔

مشاورتی اجلاس میں  لیاقت بلوچ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان، مولانا زاہد الراشدی مجلس ملی شرعی، خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، کوٹ مٹھن، پیر سید ھارون علی گیلانی دربار میاں میر، مولانا مفتی فصیح احمد جامعہ بنوریہ العالمیہ، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری متحدہ جمعیت اہلحدیث، صاحبزادہ سلطان احمد علی حضرت سلطان باہو، مفتی راغب حسین نعیمی جامعہ نعیمیہ، علامہ ناظر حسین تقوی مرکزی رہنما شیعہ علماء کونسل، علامہ رانا محمد ادریس منھاج القرآن، ڈاکٹر عبدالغفور راشد نائب امیر مرکزی جماعت اہلحدیث، پروفیسر ظفر اللہ شفیق ممبر متحدہ علماء بورڈ، ڈاکٹر طاہر رضا بخاری ڈائریکٹر جنرل محکمہ اوقاف، پروفیسر ڈاکٹر علی اکبر الازہری، مفتی گلزار احمد نعیمی و دیگر جید علماء کرام و علمی، سیاسی و سماجی شخصیات شامل تھیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مجمع المدارس  تعلیم الکتاب والحکمہ جامعہ عروۃ الوثقی کے سربراہ اور قومی مشاورتی اجلاس کے منتظم علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات میں کئی پہلوؤں سے تفرقہ ایجاد کر کے اشتعال کو ہوا دی جا رہی ہے، اختلاف رائے کا ہونا بُرا نہیں لیکن دشمن اختلاف کو عداوتوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں  نے کہا کہ جب علماء اور زعما آپس میں مل کر بیٹھتے ہیں تو عوام کے دل نرم ہو جاتے ہیں اور آپس میں عداوتیں اور نفرتیں دور ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم دیکھیں تو تمام مسالک میں 90 فیصد مشترکات ہیں جبکہ 10 فیصد اختلاف آپ کو ملیں گے۔
علامہ سید جواد نقوی کا کہنا تھا کہ توحید مسلمانوں کے درمیان وحدت کا مظہر ہے اور اسی پر مسلمانوں کو ایک ہونا چاہیے تاکہ فرقہ واریت کی آگ پر پانی ڈالنے کا کام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ  آج وہ علماء موجود ہیں جو جلتی پر تیل کا کام نہیں کر رہے بلکہ جلتی پر پانی کا کام کر رہے ہیں، ان علماء کی کاوشوں سے بہت جلد پاکستان ایک فہیم قوم کے طور پر دنیا میں متعارف ہوگی۔

علامہ سید جواد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے اجلاس کو رسمی کارروائی نہ سمجھا جائے بلکہ امت کی وحدت کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ اجلاس کے بعد متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں دیگر اظہارات کیساتھ ساتھ واضح کیا گیا کہ قرآن کریم اور سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق وحدتِ امت واجب اور تفرقہ حرام ہے، تفرقہ اور اختلاف کو ہوا دینا مسلمانوں کی کمزوری اور دشمن ِ اسلام کیساتھ تعاون شمار ہوگا، پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ دوبارہ بھڑکانے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، تمام فرقہ و مذاہب اور مسالک کے مقدسات کے احترام کو لازمی سمجھتے ہوئے ہر قسم کی گستاخی، توہین، بےحرمتی اور ہتاکی کو ناجائز اور قابل گرفت جرم سمجھتے ہیں اور محرم الحرام میں امن، اتحاد اور رواداری کو لازمی سمجھتے ہیں۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں