بین الاقوامیپاکستانتارکین وطنشاملاہور

نور مقدم قتل کیس: عدالت نے ملزم ظاہر جعفر کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توسیع کردی

جی ہاں


31۔ خیالات

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق پاکستانی سفیر کی بیٹی نور مقدم کے قتل کے مشتبہ ملزم ظاہر جعفر کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توسیع کردی۔

ملزم ظاہر جعفر کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جوڈیشل مجسٹریٹ محمد شعیب اختر کی عدالت سخت سیکیورٹی میں پیش کیا گیا۔

عدالتی کارروائی کے آغاز میں پولیس نے ملزم کے مزید 3 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس کی مدعی کے وکیل شاہ خاور نے بھی حمایت کی۔

شاہ خاور نے عدالت کو بتایا چالیس گھنٹوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے مزید کچھ چیزیں اور مزید کردار سامنے آئے ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ یہ نئی تفصیلات اور کرداروں کو تحقیقات کا حصہ بنایا جائے گا۔

تاہم ملزم کے وکیل نے مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی اور کہا کہ ملزم کا پولی گرافک ٹیسٹ بھی کرا لیا گیا ہے اور ریکوری بھی ہوگئی ہے تو مزید جسمانی ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے۔

بعد ازاں عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا جسے بعد ازاں سناتے ہوئے ملزم ظاہر جعفر کے جسمانی ریمانڈ میں دو روز کی توسیع کردی۔

عدالت نے پولیس کو ملزم ظاہر جعفر کو 2 اگست کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔

کیس کا منظر نامہ۔

یاد رہے کہ 20 جولائی کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف۔7/4 کے رہائشی سابق پاکستانی سفیر شوکت مقدم کی بیٹی 27 سالہ نور کو قتل کر دیا گیا تھا۔

ظاہر ذاکر جعفر کے خلاف منگل کو رات گئے ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی گئی تھی اور مقتولہ کے والد کی مدعیت میں تعذیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت قتل کے الزام میں درج اس مقدمے کے تحت ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اپنی شکایت میں شوکت مقدم نے بتایا تھا کہ وہ 19 جولائی کو عیدالاضحٰی کے لیے ایک بکرا خریدنے راولپنڈی گئے تھا جبکہ ان کی اہلیہ اپنے درزی سے کپڑے لینے گئی تھیں اور جب وہ دونوں شام کو گھر لوٹے تو انہیں اپنی بیٹی نور مقدم کو گھر سے غائب پایا۔

ایف آئی آر کی کاپی کے مطابق انہوں ںے مذکورہ لڑکی کا موبائل فون نمبر بند پایا اور اس کی تلاش شروع کی، کچھ دیر بعد نور مقدم نے اپنے والدین کو فون کر کے بتایا کہ وہ کچھ دوستوں کے ساتھ لاہور جا رہی ہیں اور ایک یا دو دن میں واپس آ جائیں گی۔

شکایت کنندہ نے بتایا کہ اسے بعد میں ملزم کی کال موصول ہوئی جس کے اہل خانہ سابق سفارت کار کے جاننے والے تھے، جس میں ملزم نے شوکت مقدم کو بتایا تھا کہ نور مقدم اس کے ساتھ نہیں ہے۔

20 جولائی کی رات تقریباً 10 بجے متاثرہ کے والد کو تھانہ کوہسار سے کال موصول ہوئی جس میں اسے بتایا گیا کہ نور مقدم کو قتل کردیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق پولیس بعد میں شکایت کنندہ کو ظاہر جعفر کے گھر سیکٹر ایف -7/4 میں لے گئی جہاں اسے پتہ چلا کہ اس کی بیٹی کو تیز دھار ہتھیار سے بے دردی سے قتل کیا گیا ہے اور اس کا سر قلم کردیا گیا ہے۔

اپنی بیٹی کی لاش کی شناخت کرنے والے شوکت مقدم نے اپنی بیٹی کے مبینہ قتل کے الزام میں ظاہر جعفر کے خلاف قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا کا مطالبہ کیا ہے۔

نور مقدم قتل کیس: پنجاب فرانزک لیب میں ملزم ظاہر جعفر کا پولی گراف ٹیسٹ

اسلام آباد: سابق سفارت کار کی بیٹی نور مقدم کے مبینہ قاتل ظاہر جعفر کے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے) لاہور میں پولی گراف سمیت دیگر ٹیسٹ کیے گئے تاکہ اس کے بیانات اور قتل کے سلسلے میں جمع کیے گئے شواہد کی تصدیق کی جاسکے۔

پوسٹ مارٹم کے دوران مقتولہ کے جسم سے لیے گئے نمونے بھی ایجنسی کو ٹیسٹ کے لیے بھیجے گئے ہیں۔

اس سے قبل ملزم کو 28 جولائی کو اپنے بیانات اور اس کے انکشافات پر جمع کیے گئے شواہد کی تصدیق کے لیے مزید 3 دن کے لیے جسمانی تحویل میں لیا گیا تھا۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس کی ایک ٹیم مبینہ قاتل کو جمعرات کی رات لاہور لے گئی تھی اور جمعہ کو ملزم کو ‘پی ایف ایس اے’ لے جایا گیا جہاں اس کے ٹیسٹ ہوئے۔

ملزم کا پولی گراف ٹیسٹ (جھوٹ پکڑنے والا ٹیسٹ) کیا گیا تاکہ تفتیش کے دوران پولیس کو دیے گیے بیانات کی تصدیق کی جاسکے۔

اس کے علاوہ ملزم کا ویڈیوگراف ٹیسٹ بھی کیا گیا۔

عہدیدار نے بتایا کہ یہ تفتیش کاروں کی جانب سے برآمد کی گئی ویڈیوز سے ملزم کو میچ کرنے اور تصدیق کرنے کے لیے کیا گیا تھا، جس میں وہ نور مقدم کا پیچھا کر رہا تھا اور اسے گھر کے اندر گھسیٹ رہا تھا۔

تفتیش کاروں نے ملزم کے گھر اور پڑوس میں نصب کیمرے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوٹیج سے پتہ چلتا ہے کہ مقتولہ نور مقدم گھر کی پہلی منزل سے چھلانگ لگا کر مرکزی دروازے کی طرف بھاگتی ہیں، لیکن وہاں تالا لگا ہوا تھا۔

بعد ازاں وہ ایک گارڈ کے کمرے میں پناہ لی لیکن ملزم نے دروازہ توڑ کر اسے گھر کے اندر گھسیٹ لیا۔

انہوں نے بتایا کہ جنسی زیادتی کی تصدیق کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے ملزم کے نمونے بھی لیے گئے ہیں۔

عہدیدار نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے دوران مقتولہ کے جسم سے لیے گیے دل، پھیپھڑوں، پیٹ، جگر، تلی اور آنت کے نمونے بھی فرانزک ایجنسی کو جمع کرائے گئے۔

پولیس افسران نے بتایا کہ مقتولہ اور ملزم کے موبائل بھی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو بھیجے گئے تھے تاکہ انہیں فرانزک ٹیسٹ کے اَن لاک کیا جاسکے اور حذف شدہ ڈیٹا بازیاب کیا جاسکے۔

کیس کے تفتیشی افسر (آئی او) انسپکٹر عبدالستار نے بتایا کہ پی ایف ایس اے میں ملزم کے تقریباً 25 ٹیسٹ کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پولی گراف، ویڈیوگراف اور ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار ہے، مقتولہ اور ملزم آئی فون استعمال کر رہے تھے اور ایف آئی اے کو بھیجے جانے کے وقت وہ بند تھے۔

منبع: ڈان نیوز

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button