افغانستانبین الاقوامیپاکستانتارکین وطنتعلیمکوئٹہ

سرسوں سے تیل کشید کرنے کا قدیم طریقہ زندہ رکھنے والا خاندان

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا ضلع کچھی اپنی تاریخی اہمیت اور آثارقدیمہ کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔

اس علاقے کے باسی آج بھی زمانہ قدیم کے ایک طریقے سے سرسوں کے بیج سے تیل کشید کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، جس میں اب کچھ جدت آگئی ہے۔

شمن علی بھی ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، جو زمانہ قدیم کے اس فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بہت پرانا طریقہ ہے، جس کو ان کے خاندان اور دوسرے رشتہ داروں نے زندہ رکھا ہوا ہے۔

شمن علی کے مطابق: ’ضلع کچھی میں قدیم زمانے میں بیل، اونٹ اور دیگر جانوروں کے ذریعے تیل کشید کیا جاتا تھا۔ آج بھی وہاں اونٹ کے ذریعے تیل نکالا جاتا ہے۔‘

شمن علی کوئٹہ کے اس علاقے میں گذشتہ 11 سالوں سے یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں، جس میں انہوں نے جدت کا استعمال کرتے ہوئے قدیم نظام کو مشین سے جوڑ دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اس کام کو جاری رکھنے والی اپنے خاندان کی پانچویں یا چھٹی پیڑی سے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’نہ صرف کوئٹہ بلکہ بلوچستان کے جس علاقے میں بھی سرسوں کا تیل نکالنے کا کوئی نظام اگر لگا ہوا ہے، اس کا تعلق ہمارے خاندان سے ہے۔‘

شمن علی کا یہ آبائی پیشہ ہے۔ اس سے پہلے ان کے باپ دادا یہ کام کرتے تھے اور اب انہوں نے یہ کام سنبھالا ہوا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ یہ جہاں ایک قدیم طریقہ کار ہے وہاں اس کی اہمیت اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ اس میں کسی چیز کی ملاوٹ نہیں کی جاتی ہے۔ یہ بالکل خالص ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس میں دونوں میٹھا اور کڑوا تیل نکالا جاتا ہے، جس کو بعد میں لوگوں کی طلب کے مطابق فروخت کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا: ’جو قدیم طریقہ ہے اس سے تیل اچھا نکلتا ہے۔ مشین سے نکالنے میں وہ بات نہیں رہتی لیکن اسے وقت کی بچت کے ساتھ زیادہ نکال سکتے ہیں۔‘

ایک قدیم زمانے کے سانچے میں، جو ایک قسم کے لکڑی کے ڈھول جیسی ہے، اس میں سرسوں کا بیج ڈالا جاتا ہے، جس کے اوپر دو لکڑیاں لگائی گئی ہیں، جن کے سر نوکیلے ہیں۔

ان لکڑیوں کو ان کے نیچے لگے ہوئے ایک موٹر کے ذریعے گمایا جاتا ہے، جس سے بیج سے تیل نکلتا ہے۔ اس دوران صرف نمی برقرار رکھنےکے لیے بیج میں پانی ڈالا جاتا ہے۔

شمن علی نے بتایا کہ ان سانچوں میں تقریباً 15 کلو گرام کے قریب بیج ڈالتے ہیں، جن سے تقریباً ڈھائی کلو کے قریب تیل نکلتا ہے۔

یہ تیل نہ صرف یہاں پر بلکہ پاکستان اور ہمسایہ ملک افغانستان کے لوگ بھی لے جاتے ہیں۔

شمن کے بقول: ’اس تیل کے خالص ہونے کے باعث جو بھی لوگ یہاں سے ایک بار تیل لے جاتے ہیں، وہ دوبارہ ضرور آتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’یہ تیل بالوں کی مضبوطی کے لیے استعمال ہونے کے ساتھ کھانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس میں مچھلی پکانے کا مزہ ہی اور ہے۔ لوگ گھروں میں بھی کھانا پکانے میں بھی اس کا استعمال کرتے ہیں۔‘

شمن علی تعلیم یافتہ ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ ہمارا آبائی پیشہ ہے اس لیے انہوں نے اس کو نہیں چھوڑا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے چھوٹوں کو بھی اس کام کی تربیت دیتے ہیں تاکہ ہمارا یہ قدیم فن ختم نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ یہ کام مزید ترقی کررہا ہے۔

مشین کے ذریعے تیل کشید کرنا آسان اور مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے۔ تاہم شمن علی کہتےہیں کہ جو قدیم طریقے سے تیل نکالا جاتا ہے وہ زیادہ بہتر ہوتا ہے، جس میں بیج کو بہتر طریقے سے نچوڑا جاتا ہے۔

بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے بھاگ اور کچھ دوسرے علاقوں میں اب بھی اونٹ یا بیل کے ذریعے مشین کو چلا کر سرسوں کا تیل نکالا جاتا ہے۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں