آسٹریلیاامریکہاولمپکسبرطانیہبین الاقوامیتارکین وطنچینخواتینروس

تیراکی کی ریلے دوڑ میں پہلی بار مرد اور عورت کا ایک ساتھ مقابلہ

دنیا بھر سے آنے والے کھلاڑیوں کا ایک ساتھ جمع ہونا اور مختلف کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینا اولمپکس کی پہچان ہے۔ ہر کھلاڑی کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ تمغہ جیتے اور اپنے ملک کا نام روشن کرے۔

دوسری جانب یہ مقابلے دیکھنے والے اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کون سا ملک کتنے تمغے حاصل کر رہا ہے۔

ان تقریبات کی رنگارنگی کے علاؤہ ایک اور بات جو شائقین نظر انداز نہیں کر سکتے وہ ہے اس کا نظم و ضبط۔ لیکن، اب تیار ہو جائیے کچھ ہنگامے اور ہلچل کے لئے کہ اولمپکس کی تاریخ میں پہلی بار تیراکی کی ایسی ریلے دوڑ ہونے والی ہے، جس میں مرد اور عورتیں ایک ساتھ مقابلہ کریں گے۔

اپنی نوعیت کی اس پہلی مخلوط دوڑ میں ہر ٹیم سے دو خواتین اور دو مردوں سمیت چار کھلاڑی شرکت کریں گے۔

خبر رساں ادارے، ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق 400 میٹر کی اس ریس کے ہر راؤنڈ میں ایک مختلف تکنیک سے سوئمنگ کی جائے گی۔ بریسٹ سٹروک، بٹرفلائی سٹروک، بیک سٹروک اور فری اسٹائل تکنیکس پر مبنی چار مختلف راؤنڈرز میں کون سا کھلاڑی کس طریقے سے سوئمنگ کرے گا، یہ ٹیم کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے۔ اس طرح کسی بھی قسم کے اسٹروک کے لئے مرد اور خواتین دونوں ایک ساتھ پول میں اتر سکیں گے۔

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی تیراک، کیٹ کیمبل جو اب تک ٹوکیو اولمپکس میں ایک سونے کا اور ایک کانسی کا تمغہ جیت چکی ہیں اس ‘مکسڈ میڈلی ریلے ریس’ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ "جب یہ مقابلہ پہلی بار متعارف کرایا گیا تھا تو مجھے عجیب لگا تھا۔ مگر اب میں بہت پرجوش ہوں کہ یہ اولمپکس کا حصہ بن چکا ہے، یہ مقابلہ اتنا دلچسپ ہوتا ہے کہ بس آپ کرسی کی نوک پر جمے ہوتے ہیں”.

تیراکی کی کھیلوں کے بین الاقوامی ادارے فینا (ایف آئی این اے) نے کازان، روس میں سال 2015 کی ورلڈ چیمپئن شپ کے دوران دو ملی جلی سوئمنگ ریس کے مقابلے متعارف کروائے تھے۔ انہی مقابلوں میں چار کھلاڑیوں کی ٹیم ریس پر مشتمل فری اسٹائل سوئمنگ مقابلہ بھی پہلی بار منعقد کیا گیا تھا۔

گو کہ اولمپکس میں ہونے والی اس مخلوط ریلے ریس میں مرد اور خواتین کھلاڑیوں کو اس بات کا پابند نہیں کیا گیا ہے کہ وہ کون سا اسٹروک استعمال کریں گے مگر مقابلہ کرنے والی ٹیمیں جیت کے لئے اپنی سی ترتیب بنانے کی کوششیں کرتی ضرور نظر آرہی ہیں۔

زیادہ تر ٹیموں نے دوڑ کے آخری راؤنڈ میں، جس میں فری اسٹائل اسٹروک استعمال کیا جائے گا، خواتین کو رکھا ہے، کیونکہ یہ وہ واحد اسٹروک ہے جس میں مرد و خواتین کھلاڑیوں میں وقت کا فرق زیادہ نظر نہیں آتا۔

اسی طرح بریسٹ اسٹروک کے لئے توقع کی جا رہی ہے کہ مرد کھلاڑی پول میں اتریں گے، کیونکہ اس سلسلے کی ابتدائی دوڑوں میں تیز ترین مرد اور تیز ترین خاتون تیراک کے درمیان ساڑھے سات سیکنڈز کا فرق پایا گیا تھا۔

بیک اسٹروک اور بٹرفلائی دو ایسے راؤنڈرز ہیں جہاں ٹیموں کے پاس اس بات کی زیادہ گنجائش دیکھی گئی کہ مرد اور خواتین دونوں کو ایک ساتھ کھلایا جا سکے۔ ابتدائی مقابلوں کے دوران 16 میں سے 10 ٹیموں نے بیک اسٹروک کے لئے مردوں کو بھیجا جب کہ بٹرفلائی اسٹروک کے لئے 9 خواتین اور 7 مرد پانی میں اترے۔

برطانوی تیراک ڈنکن سکاٹ، اے پی سے بات چیت میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "ہر قوم کی مختلف تکنیکوں میں مختلف قوت ہے اور وہ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی بنا رہی ہیں، آپ دوڑ میں بظاہر بہت پیچھے ہوں لیکن اگلے ہی راؤنڈ میں آپ آگے نکل سکتے ہیں ".

بریسٹ اسٹروک میں ایڈم پیٹی کی شاندار کارکردگی پر کوالیفائنگ راؤنڈ میں برطانیہ کو پہلی پوزیشن ملی تھی جب کہ چین اور آسٹریلیا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے امریکہ دوسرے نمبر پر رہا تھا۔

تاہم، کوالیفائنگ مقابلوں کے بعد ایڈم پیٹی کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کوئی پریشر محسوس نہیں کر رہی۔

ہر ٹیم کے کوچ کی اس وقت یہی کوشش ہے کہ وہ چاروں راؤنڈرز کے لئے کھلاڑیوں کا بہترین میل بنا سکیں۔ اس مقابلے میں تیراکوں کو مستقل متلاطم پانی کا سامنا ہو گا۔ تبصرہ نگار توقع کر رہے ہیں کہ ایسی ٹیم جو دو مرد کھلاڑیوں کو پہلے میدان میں اتارے گی بڑی لیڈ حاصل کر سکتی ہے۔ تاہم، ان کے خیال میں یہ ریس اتنی ہنگامہ خیز اور تیز ہوتی ہے کہ یہ بتانا بھی مشکل ہوتا ہے کہ اس میں کون آگے ہے۔

ایڈم پیٹی کہتے ہیں "یہ ممکن ہے کہ آپ ایک سو میٹر میں بہت آگے ہوں مگر دوسرے مرحلے میں کوئی اور آگے نکل جائے، یہی اس کی سب سے دلچسپ بات ہے”۔

ایک روایتی طریقے پر چلنے والے اولمپکس کھیلوں میں اس مخلوط سوئمنگ ریس کو شامل کرنے پر کئی جانب سے اعتراض بھی کیا جا رہا ہے۔ مگر پیٹی کا خیال ہے کہ یہ نہ صرف اولمپکس کو جدت بخشنے کا بہترین طریقہ ہے بلکہ اس سے سوئمنگ کی تفریحی قدر میں بھی اضافہ ہو گا۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں