انصافبرطانیہپاکستانحقوقکالم و مضامینکراچیکشمیرلاہور

اب آر ہوگا یا پار

– کالم و مضامین –

مسلم لیگ ن کے لئے جمعرات کی صبح ایک اور ڈراؤنی خبر اس وقت آئی جب ایک صحافی نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ ان کے ذرائع کے مطابق پارٹی صدر شہباز شریف نے آزاد کشمیر انتخابات میں ان کی دی ہوئی حکمتِ عملی کو نظر انداز کرنے پر پارٹی صدارت سے علیحدہ ہونے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، اور اب ان کی جگہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی پارٹی کے قائم مقام صدر ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف نے تاحال یہ اعلان اس لئے نہیں کیا ہے کہ ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے انہیں روک رکھا ہے۔

مسلم لیگ ن کے ذرائع نے البتہ اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتہائی مضحکہ خیز خبر ہے اور اس کو وہ اس قابل بھی نہیں سمجھتے کہ اس کی تردید بھی کی جائے۔ لیکن اب کیا کریں اس حقیقت کا کہ نئی بات کے رپورٹر کو بھی یہ خبر پارٹی ہی کے اندرونی ذرائع نے دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ ذرائع خود حمزہ شہباز کے خاصے قریبی سمجھے جاتے ہیں اور ایسے میں اس خبر کو مکمل طور پر غیر اہم قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خبر درست نہیں ہے۔ لیکن یہ خبر دی ضرور گئی ہے۔ خبر دینے والے کا کیا مقصد تھا، اس پر آگے چل کر قیاس آرائی کی جا سکتی ہے لیکن پہلے ذرا گذشتہ پانچ دن میں جو کچھ ہوا ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اتوار 25 جولائی کو، 2018 کے عام انتخابات سے ٹھیک تین سال بعد، مسلم لیگ ن کو آزاد جموں و کشمیر میں تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بہت سے لوگوں کے لئے کوئی حیرت انگیز خبر نہیں تھی۔ مگر کچھ لوگ وہ بھی تھے جو اس بات پر حیران تھے کہ اتنے بڑے بڑے جلسوں کے باوجود، اور حکومتی جماعت کے 6 لاکھ کے مقابلے میں 5 لاکھ ووٹ لینے کے باوجود مسلم لیگ ن کے حصے میں محض 6 نشستیں کیوں آئیں جب کہ حکومت ان سے 20 نشستیں زیادہ لینے میں کامیاب ہو گئی؟ یہاں تک کہ پیپلز پارٹی بھی 2 لاکھ ووٹ مسلم لیگ ن سے کم لے کر ان سے 6 سیٹیں زیادہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت سوال ہو رہا ہے کہ آیا مریم نواز کا بیانیہ اکیلا ہی انتخابات جیتنے کے لئے کافی ہے؟ کیا اس کے ساتھ شہباز شریف، حمزہ شہباز اور پارٹی کے دیگر بڑوں کی کوئی ضرورت نہیں جو الیکشن کی حرکیات کو مریم جیسی نو آموز لیڈر کے مقابلے میں بہتر سمجھتے ہیں؟

یہی سوال سیالکوٹ میں تین دن بعد پھر ابھر کر سامنے آیا جب مسلم لیگ ن کے طارق سبحانی پی پی 38 سے پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار احسن سلیم بریار کے مقابلے میں الیکشن ہار گئے۔ سبحانی خاندان برسوں سے اس نشست پر کامیاب چلا آ رہا ہے۔ یہاں بھی بہانے تو موجود ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ پارٹی نے الیکشن کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ کچھ کے خیال میں سبحانی خاندان ضرورت سے زیادہ پر اعتماد تھا۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ علاقے کے اندر مختلف دھڑے جو ماضی میں مسلم لیگ ن کے ساتھ رہے ہیں، اس مرتبہ اپنے کام نکلوانے کے لئے احسن سلیم بریار کے ساتھ مل گئے۔ وہ سبحانی خاندان کی گردن سے سریا بھی نکالنا چاہتے تھے۔ مگر شہباز شریف کو پارٹی میں مضبوط دیکھنے کی خواہش رکھنے والے اس شکست کو بھی مریم نواز کے کھاتے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ سوال تو سبحانی خاندان اور سیالکوٹ کی مقامی لیڈرشپ سے ہونا چاہیے۔ اس سے بھی بڑھ کر سوال پارٹی کے صدر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ سے ہونا چاہیے جو دعویدار ہیں کہ پنجاب کے ہر حلقے کی سیاست کو جانتے اور سمجھتے ہیں۔

تیسری خبر شہباز شریف کے پارٹی کی صدارت چھوڑنے کی تھی۔ یہ درست ہے کہ وہ صدارت نہیں چھوڑ رہے۔ مگر کیا انہیں پارٹی صدارت رکھنی چاہیے؟

بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن میں ن نواز شریف کا ہے۔ پارٹی کا ورکر نواز شریف کو لیڈر سمجھتا ہے۔ اس کی وجوہات بہت سی ہو سکتی ہیں لیکن حقیقت بہرحال یہی ہے۔ شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کی پالیسی پارٹی کے لئے درست نہیں۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پارٹی کی سینیئر قیادت بھی نواز شریف کے بیانیے سے متفق نہیں۔ لیکن عوام تو وہی سب کچھ سننے کے لئے جوق در جوق سڑکوں پر چلے آتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ مسلم لیگ ن کا موازنہ 2013 یا 2012 کی تحریکِ انصاف سے نہیں کیا جا سکتا کہ جب عمران خان کے جلسوں میں لوگ ہزاروں کی تعداد میں آتے تھے لیکن ڈبوں میں سے ووٹ ن لیگ کا ہی نکلتا تھا۔ ن لیگ ایک تجربہ کار جماعت ہے جسے انتخابات لڑنے کا کئی سال کا تجربہ ہے۔ اس جماعت کے لئے تو عوام کو سڑکوں پر لانا ایک پلس پوائنٹ ہونا چاہیے تھا۔ الٹا ہو یہ رہا ہے کہ لوگ جلسوں میں آنا شروع ہو گئے ہیں اور پولنگ بوتھ پر آنے سے انکاری ہیں۔

اس کی وجہ یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ چونکہ مریم نواز اسٹیبشلمنٹ مخالف بیانیہ اپنائے ہوئے ہیں تو عوام میں بھلے مقبولیت زیادہ ہو، انتخابی گھوڑے اس بیانیے کو لے کر نہیں چل سکتے اور ایسا کرنے سے وہ کھیل سے باہر ہونے کا ڈر رکھتے ہیں۔ لیکن حقیقت کچھ مختلف ہے۔ شہباز شریف صاحب کو مریم نواز کے ساتھ آزاد جموں و کشمیر میں الیکشن مہم کے لئے جانا تھا لیکن وہ عین موقع پر کمر درد کی وجہ سے رک گئے اور پھر سیالکوٹ جانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ حمزہ شہباز مکمل طور پر کشمیر اور پھر سیالکوٹ الیکشن سے لاتعلق رہے۔ ابھی چند ماہ قبل مسلم لیگ ن سیالکوٹ میں ہی الیکشن جیتی تو بتایا گیا تھا کہ حمزہ شہباز کی جانب سے علاقے کے مختلف لیگی دھڑوں کو ساتھ بٹھانے اور مل کر کام کروانے سے ن لیگ کے ووٹ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ گئے۔ لیکن اب یہی دھڑے جب ایک دوسرے کی مخالفت کر رہے تھے تو حمزہ شہباز نے آگے بڑھ کر اپنا کردار کیوں ادا نہیں کیا؟ اور پھر اگلے ہی دن صبح خبر لگ رہی ہے کہ شہباز شریف صاحب رس گئے ہیں۔ بھئی آزاد کشمیر میں تو چلیے سمجھ میں آتی ہے کیونکہ ایک لمبی الیکشن مہم تھی۔ سیالکوٹ کے الیکشن میں تو مریم نے محض ایک جلسے سے خطاب کیا ہے۔ کیا اس وجہ سے صورتحال تبدیل ہو گئی؟ ایسا ممکن نہیں ہے۔

شہباز شریف اور ان کے برخوردار کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ عوامی لیڈر نہیں ہیں۔ حمزہ کو بلا شرکتِ غیرے دس سال پارٹی چلانے دی گئی۔ وہ لیڈر نہیں بن سکے۔ شہباز شریف جس دن سے صدر بنے ہیں پارٹی زیرِ عتاب ہے۔ جو چار ضمنی الیکشن پارٹی نے جیتے ہیں وہ بھی تب ہی جیتے جب موصوف جیل میں تھے۔ 2013 میں مسلم لیگ ن کے پاس ایک بہترین حکمتِ عملی موجود تھی۔ نواز شریف بطور قومی لیڈر ملک بھر میں جلسے کر رہے تھے۔ وہ دن میں دو یا تین جلسوں سے خطاب کرتے۔ سوات جاتے، حویلیاں، مری، مانسہرہ، ہر جگہ انہوں نے جلسے کیے۔ شہباز شریف پنجاب میں جلسوں سے خطاب کرتے، حمزہ شہباز کی ذمہ داری لاہور کی الیکشن مہم تھی جب کہ مریم اپنے والد نواز شریف کے حلقے این اے 120 (جو اب 125 ہو چکا ہے) کی الیکشن مہم کو دیکھ رہی تھیں۔ مقابلے پر عمران خان اکیلے لیڈر تھے جو تحریکِ انصاف کے تمام جلسوں سے خطاب کرتے اور ظاہر ہے کہ یہ ایک ناممکن ٹاسک تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی بھول جاتے کہ نواز شریف کتنے ارب پاکستان سے لے گیا ہے، کبھی جلسے کے شرکا کو کہہ دیتے کہ شیر پر مہر لگائیں، کبھی گرمی سے بے ہوش ہونے کی خبریں آتیں اور پھر لاہور میں غالب مارکیٹ جلسے کے دوران تو کرین سے ہی گر گئے۔ یہ سب ن لیگ میں بیک وقت چار ایسے لیڈران کی موجودگی کا نتیجہ تھا جو پارٹی کی انتخابی مہم چلا سکتے تھے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف تو لندن میں ہیں اور عملی سیاست سے باہر کر دیے گئے ہیں۔ جب کہ شہباز شریف اور حمزہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ پچھلے چار سال میں مریم پارٹی کا چہرہ بن گئی ہیں۔ پارٹی کے دیگر سینیئر رہنما بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ یہ کل کی بچی جو 2013 میں صرف ایک حلقے میں اپنے والد کی انتخابی مہم چلا رہی تھی، اب ان کی لیڈر بن چکی ہے۔ جو بات چودھری نثار میں دھڑلے سے منہ پر کرنے کی ہمت تھی، ان لیڈران میں موجود نہیں، کہ یہ مریم کی لیڈرشپ کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ لیکن مشکل میں اس لئے بھی ہیں کہ ان سب کو اچھی طرح پتہ ہے کہ چودھری نثار کے ساتھ کیا ہوا۔ پارٹی سے کٹے تو راندہ درگاہ ہو گئے۔ ان لوگوں کو بھی شاید پی ٹی آئی تو قبول کرے گی نہیں۔ ن لیگ میں مریم کے بغیر ووٹ نہیں ملنا۔ اسٹیبلشمنٹ ظاہر ہے کہ دباؤ ڈالتی ہوگی، اسے نواز شریف کی شکل پسند نہیں۔ مریم کو وہ نواز کی ایکسٹنشن کے طور پر دیکھتے ہیں۔ لیکن مریم کی پارٹی کے اندر بڑھتی مخالفت کی یہ واحد وجہ نہیں ہے۔

مریم اس وقت اسی صورتحال سے گزر رہی ہیں جس سے قریب تین دہائیاں قبل بینظیر بھٹو گزری تھیں جب انہیں اپنے والد کی پارٹی والدہ کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ میں لینا پڑی تھی اور پارٹی میں بہت سے انکلز اس تبدیلی کے حق میں نہیں تھے۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ نواز اور شہباز شریف میں کوئی اختلافات نہیں، اور نہ ہو سکتے ہیں، وہ غلطی پر ہیں۔ اس بار لڑائی حقیقی ہے۔ نواز شریف کو شہباز شریف والد کی جگہ سمجھ سکتے تھے، مریم کو نہیں۔ یہ جھگڑا یہاں ختم ہونے والا نہیں۔ اب آر ہوگا یا پار!

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں .
آواز جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں