افغانستانامریکہبھارتپاکستانپشاورحقوقصنعتکشمیرلاہورمعیشت

خطے میں قیام امن مسئلہ افغانستان و کشمیر سے منسلک

اس وقت خطے میں قیام امن و امان کا دارومدار مسئلہ کشمیر اور افغانستان سے منسلک ہے لیکن بھارتی چیرہ دستیاں اور آر ایس ایس کا نظریہ قیام امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ بھارت یہ چاہتا ہے کہ افغانستان کا مسئلہ حل نہ ہو ، وہ کسی نہ کسی صورت پاکستان کو نیچا دکھانا چاہتا ہے ۔ اس سلسلے میں بھارت نے طالبان سے رابطے بھی کئے لیکن طالبان نے دو ٹوک انداز میں واضح کردیا کہ وہ کسی صورت بھی بھارت سے مل کر پاکستان کیخلاف نہیں جاسکتے ۔ اس کے علاوہ بھارت اپنی دہشت گردانہ کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ڈانڈے تمام دہشتگرد تنظیموں سے ملتے ہیں پھر انہی تمام حالات کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ افغانستان میں امن عمل کے قیام میں بھارت کے ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ مودی بنیادی طور پر ایک دہشتگرد ہے اور وہ کوئی بھی ایسا موقع خالی نہیں جانے دیتا جس کے تحت و ہ خطے میں انارکی پھیلا نہ سکے ۔ وزیراعظم عمران خان سے پاک افغان یوتھ فورم کے وفد نے ملاقات کی جس میں اعلی حکام کے علاوہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں ، ایڈیٹروں ، فلمسازوں ، کاروباری شخصیات، صنعت کاروں اور دفائی تجزیہ نگاروں نے شرکت کی ۔ اس ملاقات کا مقصد پاک افغان فورم کے اراکین کے پاکستان افغان تعلقات، پاکستان کے افغانستان میں پائیدار امن کیلئے اٹھائے گئے اقدامات اور خطے کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے اراکین کے سوالات پر حکومت کا موقف واضح کرنا اور نوجوانوں کو پاکستان کی افغان امن عمل کیلئے کوششوں کے بارے ;200;گاہی دینا تھا ۔ ملاقات میں وزیرِ اعظم نے اراکین کے

سوالات کے جوابات دیئے ۔ افغانستان امن عمل میں ہندوستان اور پاکستان کے اشتراک کے متعلق سوال کے جواب میں وزیرِاعظم نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کیا، ناصرف یہ بلکہ کشمیریوں پر ظلم وبربریت کے نئے باب کا آغاز کیا ۔ پاکستان 1948 سے کشمیریوں کے حقوق کے تحفط کیلئے عالمی سطح پر اپنی ;200;واز بلند کر رہا ہے ۔ جب تک بھارت اپنے 5 اگست کے اقدام کو واپس نہیں لیتا، کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال نہیں کرتا، کشمیری جب تک اقوامِ متحدہ کے تفویض کردہ حقِ خود ارادیت کا اظہار نہیں کرتے، تب تک کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے، تب تک بھارت سے بات چیت اور پاکستان اس کے سہ فریقی افغان امن عمل میں شمولیت کو قبول کرنا ممکن نہیں ہے ۔ وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ انہوں نے حال ہی میں افغانستان کا دورہ کیا اور صدر اشرف غنی سے انکے اچھے تعلقات ہیں لیکن حالیہ بیانات میں افغان رہنماں نے پاکستان کو افغان بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا جو کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کیونکہ پاکستان نے پہلے امریکہ اور پھر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے طالبان کو قائل کرنے کے لئے سخت جدوجہد کی ہے ۔ خطے کا کوئی اور ملک پاکستان کی کوششوں سے برابری کا دعویدار نہیں ہو سکتاجس کی تائید امریکی نمائندہِ خصوصی زالمے خلیل زاد نے بھی کی ہے ۔ ادھر دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان کی خانہ جنگی پاکستان میں بھی داخل ہوسکتی ہے، پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ، افغان مہاجرین کے کیمپ ہیں ، پاکستان پر افغانستان میں 10 ہزار جنگجو بھیجنے کا الزام احمقانہ ہے، پاکستان مزید افغان مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، افغانستان پہلے اپنے مہاجرین کو واپس لے پھر پاکستان سے جواب طلبی کرے ۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ، پاکستان خطے کے امن میں شراکت دار ہے، ہم مزید کسی محاذ ;200;رائی کاحصہ نہیں بننا چاہتے ۔ امریکا کو اڈے دینے سے پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے گا ۔ موجودہ صورت حال میں افغانستان میں امریکا اور نیٹو فورسز کے پاس طالبان سے مذاکرات کی صلاحیت نہیں رہی کیونکہ اب طالبان خود کو فاتح سمجھ رہے ہیں ۔ اس لئے انہیں سیاسی حل کے لیے مجبور کرنا مشکل ہے، طالبان کے ساتھ اس وقت مذاکرات کرنے چاہیے تھے جب افغانستان میں ڈیڑھ لاکھ نیٹو فورسز تھیں ۔ وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ افغان جنگ سے پہلے القاعدہ افغانستان میں تھی، پاکستان میں کوئی عسکریت پسند طالبان نہیں تھے، افغانستان میں خانہ جنگی ہوئی تو پاکستان میں بھی اس کے اثرات پڑیں گے، خانہ جنگی پاکستان میں داخل ہوسکتی ہے کیونکہ یہاں بھی کثیر تعداد میں پشتون ہیں ، وہ اس خانہ جنگی کا شکار ہوسکتے ہیں اور ہم ایسا کبھی نہیں چاہیں گے ۔ پاکستان میں 30 لاکھ افغان مہاجرین پہلے سے موجود ہیں ، اس صورت حال کے بعد مزید لاکھوں ;200;جائیں گے، پاکستان کی معیشت مزید مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی ۔

مون سون کی بارشیں ، اداروں کی قلعی کھل گئی

مون سون کی بارشوں کی وجہ سے اسلام آباد کے ای سیکٹر میں آنیوالے تباہ خیز سیلاب نے سی ڈی اے کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیے ہیں ، یہ ادارہ ایک سفید ہاتھی کی مانند بن چکا ہے ۔ پہلے سے معلوم تھا کہ مون سون کا موسم آن پہنچا ہے لیکن سی ڈی اے نے کو ئی خاطر خواہ نالوں کی صفائی نہیں کی ،کچی آبادیوں میں تباہی آئی ،لوگوں کی قیمتیں گاڑیاں بہہ گئیں ، گھروں میں پانی داخل ہوگیا ، ای الیون ایسے لگ رہا تھا جیسے زمین سے سمندر پھوٹ آیا ہو گوکہ امدادی کارروائیاں جاری رہی ، فوجی جوانوں نے پانی میں پھنسے ہوئے خاندانوں کو ریسکیو کیا ، ضرورت اس امر کی ہے کہ قبل

ازوقت حفاظتی اقدامات کئے جائیں اور سی ڈی اے مستقبل کی منصوبہ بندی کرے تاکہ اس طرح کے نقصان کا دوبارہ سامنا نہ کرنا پڑے ۔ نیز ملک کے مختلف علاقوں میں تیز بارشوں سے کئی شہروں میں نشیبی علاقے زیر ;200;ب ;200;گئے، جس سے نظام زندگی درہم برہم ہوگیا ۔ اسلام ;200;باد میں کئی علاقوں میں گاڑیاں بہہ گئیں ، ;200;زاد کشمیر میں بھی موسلا دھار بارش کے باعث نالوں میں طغیانی ;200;گئی،ملک کے بعض دیگر حصوں کی طرح راولپنڈی اور اس کے جڑواں شہر اسلام آباد میں بھی مون سون کی پہلی مسلسل اور موسلا دھاربارش سے سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی جس نے تباہی مچادی ۔ یہ تباہی متعلقہ اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے ۔

مسئلہ افغانستان ،ایس کے نیازی کی ماہرانہ تجویز

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چئیرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں بہت مسائل ہیں ، امریکہ مانے یانہ مانے لیکن وہ افغانستان سے ناکام ہو کر نکل رہا ہے ، افغانستان کے حوالے سے میں بہت زیادہ چیزیں سمجھتاہوں اور بہت زیادہ با خبر ہوں ، طالبان کی عادتیں تبدیل ہو چکی ہیں ، وہ اب اور لوگوں کے ساتھ مل کر چل رہے ہیں ، میں افغانستان گیا ، اعجا ز الحق میرے ساتھ تھے، ہم نے وہاں پر مختلف متحارب گروپوں کے مابین صلح کرائی، لیکن وہ بعد میں پھر لڑ پڑے ، ہ میں طالبان اور افغانستان سے تعلقات نہیں بگاڑنے چاہئیں ، طالبان اچھے لوگ ہیں ، ا ن کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرنا چاہئے ، وزیرا عظم عمران خان سمجھدار آدمی ہیں ، انہوں نے امریکہ کو اڈے دینے کے حوالے سے absolutely not کہ کر واضح طو رپر امریکہ کو بتا دیا کہ اب پاکستان اغیار کی جنگ میں شامل نہیں ہوگا، طالبان تبدیل ہو چکے ہیں ، اب وہ حالات کو سمجھ کر چل رہے ہیں ، ہ میں طالبان کے ساتھ مل کر چلنا چاہئے ۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں