امریکہبرطانیہتعلیمحقوقکالم و مضامین

ظاہر جعفر بڑا ذہین بچہ ہے جی؟

– کالم و مضامین –


کسی جیتے جاگتے انسان کو چاقو کے پے در پے وار کر کے لہولہان کرنا اور اس کا سر تن سے جدا کرنا کیا کسی دماغی لحاظ سے تندرست انسان کا کام کہا جاسکتا ہے؟ اور پھر انسان بھی وہ جس سے آپ بے پناہ محبت کے دعویدار ہوں اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ کر سب کے سامنے سے لا کر اس کی تذلیل کرنا اور اوپر سیڑھیوں پر لے جاتے ہوئے اس کا سر ہر سٹیپ سے وحشیانہ انداز میں ٹکرانا، اسے اذیت دینا اور اس عمل کے دوران گالیاں بکنا اور لطف لینا کیا کسی عام انسان کی کارستانی ہو سکتی ہے؟

وہ اس کے ساتھ لیونگ ریلیشن شپ میں تھا اور اس دوران کہتے ہیں کہ فریقین محبت و اعتماد کے کسی اور ہی لیول پر جھوم رہے ہوتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے کے سوا کسی تیسرے کی بھی خبر تک نہ ہوتی ہے لیکن یہاں جنونیت کا رنگ ایسی انتہاؤں پر کیسے پہنچ گیا کہ ایک فریق نفرت، غصے، بداعتمادی، توہین، ذلالت، کمینگی اور وحشت کی ہر حد کراس کر گیا؟ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ سوچا سمجھا قتل نہیں تو یہ اس کی بھول ہے، وہ ملک سے بھاگنے کے لیے ٹکٹ بھی کٹوائے پھرتا تھا اور چاقو اور پستول کا انتظام بھی اس نے کر رکھا تھا اور جس چاقو سے کسی انسان کی گردن کاٹ دی جائے وہ کوئی سبزی کاٹنے والا عام سا چاقو نہیں ہوگا، یقیناً بدبخت اور سفاک وحشی نے سارا انتظام پہلے سے کر رکھا تھا اور اس نے قتل کا یہ وحشیانہ طریقہ کیا کسی جنونی کیفیت اور وحشت کے زیراثر اختیار کیا ہوگا یا وہ عالمی دہشت گرد تنظیم داعش سے متاثر تھا؟

اس نے بڑے اعتماد سے کئی لوگوں کے سامنے اسے جان بچانے کی کوشش کے دوران سختی اور درندگی سے جکڑا اور کسی نے اس کے اندر بیدار ہوئے پاگل جانور کے سامنے مزاحمت کے لیے آنے کی جرات نہ کی کیونکہ وہ اس کا مکروہ انداز دیکھ کر لرز گئے تھے اور وہ جان چکے تھے کہ جو اپنی محبوب ترین ہستی سے جنگلی وحشیوں جیسا سلوک کر سکتا ہے وہ انہیں کیونکر معاف کرے گا؟ ایسا خوف کسی خوفناک درندے کو دیکھ کر ہی پیدا ہو سکتا ہے کہ کوئی اس کے ہاتھوں سے ایک کمزور زندہ انسان کو نہ چھڑا سکے اور اسے من مانی کرنے دے۔

مارنے اور مرنے دے، ہاں وہ لطف لے رہا تھا کہ قتل کے دوران اور اس سے پہلے وہ نہایت پرسکون تھا، وہ اپنے شکار کے اپنوں سے نہایت اطمینان اور اعتماد سے گفتگو بھی کر رہا تھا اور بعد میں بھی وہ ایسا بے خوف اور پراعتماد رہا کہ اپنی ماں کو اپنے شکار کے اپنے ہاتھوں مرنے کی اطلاع دیتا ہے اور پرسکون رہتا ہے، وہ چلاتا تک نہیں ہے، اس کے اندر ایسا گہرا اطمینان کیسے در آیا؟ کیا وہ کوئی عادی مجرم تھا؟ پہلی بار کسی انسان کو ایسی وحشت، جنون اور درندگی کے عالم میں لہولہان کر کے اس کی گردن تن سے جدا کرنے کا حوصلہ کوئی کیسے کر سکتا ہے؟

وہ بظاہر تھراپسٹ تھا، اس کا کام دوسروں کو ذہنی و جسمانی سکون کی راہ دکھانا تھا لیکن وہ تو کسی بھی طرح سے انسان لگتا ہی نہیں ہے، ممکن ہے وہ دولت کی بے تحاشا ریل پیل کی وجہ سے بچپن سے ہی ہر تشدد رویوں اور طبیعت کا مالک ہو؟ ہاں کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے والد اور چھوٹے بھائی کو بھی پیٹا تھا، وہ قانون کی پیروی کرنے والے ملک امریکہ میں پیدا ہوا اور دنیا کے سب سے تہذیب یافتہ معاشرے انگلینڈ میں پڑھا اور پھر اپنے وطن، ایک اخلاقیات کے سب سے بڑے نام لیوا اسلامی ملک میں آن پہنچا لیکن کسی بھی جگہ اور کسی بھی چیز نے اس کے اندر کے وحشی کو موت کی نیند نہ سلایا، اس میں کس کا قصور ہے؟

اس کی فیملی بھی کیا ذمے دار نہیں جو اس کے لیونگ ریلیشن شپ سے آگاہ تھی لیکن اس کی جنونیت کا راہ نہ روک سکی؟ اس کا باپ ساری صورت حال کا علم ہونے کے بعد تھراپی سنٹر کو یوں اپنے گھر کی طرف روانہ کرتا ہے کہ جیسے کچھ معمولی سا واقعہ ہو کہ ”ظاہر کسی لڑکی کے ساتھ غیر اخلاقی اور غیر قانونی تعلق قائم کرنے میں لگا ہوا ہے، ذرا پتا تو کرو“ یہ سب کیا ہے؟ کس معاشرے میں ایسا ہوتا ہے کہ باپ بیٹے کے قبیح جرم کی نوعیت جاننے کے باوجود بھی مطمین ہے اور اسے کسی انسانی جان کی حرمت کی رتی بھر بھی فکر نہیں ہے، یہ کون سی کلاس ہے؟

ہمارے ملک کی سب سے پڑھی لکھی اور ایلیٹ کلاس کا یہ حال ہے تو پھر اس گداگر عورت نسیم کے ساتھ ایک معمولی فرنیچر ساز امجد نے جو کیا اس کو ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ اگر دولت، اعلی تعلیم، اعلی ماحول، اعلی سوسائٹی اور اعلی تربیت انسان کو نہ بدل سکے تو تف ہے پھر ایسے بے ہنگم، بے ترتیب، بے کار، جاہل انسانوں پر، سر سید احمد خان کہا کرتے تھے کہ ”معاشرے کے اعلی طبقوں کو تربیت و تعلیم دو تو نچلے طبقات تک خودبخود ہی یہ“ اثرات ”پہنچ جائیں گے“

لیکن یہاں تو معاملہ الٹ نظر آتا ہے، اعلی تعلیم یافتہ اور ایلیٹ کلاس کا نمائندہ بے ہودگی، بے حیائی اور کمینگی کے ساتھ ایک جرم کرتا ہے اور اس کے اپنے صرف اس لیے اس کے جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے اور اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں کہ وہ ان کا خون ہے، وہ قانون ہاتھ میں لینے کا جتن بھی کرتے ہیں کہ جرم کے بعد قانونی اداروں کو گھر میں داخل ہونے سے روکنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں، قاتل کو قاتل کہنے پر برہم ہوتے ہیں اور بگاڑ کی پوری کوشش کرتے ہیں۔

یہ تو شکر ہے کہ کسی ہمسائے کا ضمیر زندہ تھا ورنہ ثبوت ضائع کر دیے جاتے اور مجرم جو غیر ملک جانے کے لیے پر تول چکا تھا، نکل بھاگتا، المیہ ہے کہ ماں باپ بھی ایک انسان کے بہیمانہ قتل پر اولاد کی اندھی محبت میں اس کے ساتھ جا کھڑے ہوئے ورنہ پولیس کو اطلاع کرنا ان کا فرض تھا مگر کیا اپنوں نے بیٹے کے جرم کی اطلاع نہ دے کر ایک اور جرم نہیں کیا ہے؟ بیٹا ان سے ٹیلی فونک رابطے میں تھا لیکن وہ پولیس کو اس کی گفتگو اور حرکات و سکنات کی اطلاع نہ دیتے ہیں اور جب اطلاع دیتے بھی ہیں تو ایک پرائیویٹ ادارے کو، اور اس ادارے نے کیا پولیس کا کام اپنے ہاتھ میں لے کر قانون شکنی نہیں کی کہ خود وہاں پہنچ کر کارروائی شروع کردی اور معاملات اپنے ہاتھ میں یوں لے کر سرگرم ہو گئے جیسے یہ ان کی ڈیوٹی ہو؟

اس تھراپی سنٹر والوں کو یہ حق کیسے مل گیا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے ادارے سے بھی آگے بڑھ گئے؟ دکھ کی بات ہے کہ سیکیورٹی گارڈز، اہل علاقہ اور دیگر افراد اس سفاک قاتل کی تمام کارروائی کو اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھتے رہے اور آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ نہ روک سکے، کیا ان کے اندر کسی بزدلی نے ڈیرے جما لیے تھے؟ کوئی مصلحت؟ پردہ پوشی؟ ایک ناتواں لڑکی ان کے سامنے لہولہان ہو گئی، کٹ پھٹ گئی، سر تن سے جدا کرا بیٹھی اور انہیں نہ ترس آیا اور نہ ہی اس پر تشدد کرنے والے وحشی پر غصہ، ایسے بے حس لوگ کہاں سے آتے ہیں؟

اب وہ وحشی قانون کی تحویل میں ہے اور اسے اپنے گرین کارڈ پر ایسا مان ہے کہ وہ بس وکیل کے ذریعے ہی جواب دینے کو تیار ہوتا ہے اور عدالت میں اس کا اطمینان ایسا کہ بآواز بلند کہتا ہے

”مجھے آواز نہیں آ رہی ہے، مجھے بھی کچھ کہنا ہے“

ایسا لاپرواہی والا اور پر اعتماد انداز تو اس ریمنڈ ڈیوس کا نہ تھا جو کہ سپر پاور کا چہیتا تھا، قانون نافذ کرنے والوں کی پکڑ میں ایک بار تو پھنس جانے پر اس کی بولتی بند ہو گئی تھی لیکن یہ کس گھمنڈ میں ایسے بول بچن کے ساتھ اس دھرتی پر کھڑا ہے؟ ہاں یاد آیا کہ ایسا ہی گھمنڈ شاہ رخ جتوئی نامی کو بھی شاہ زیب کے بہیمانہ قتل کے بعد تھا اور اس کے پیچھے دولت کے انبار تھے اور اسی وجہ سے وہ جیل میں بھی شاہانہ اسٹائل سے رہتا تھا اور پولیس بھی اس کو ایسے لے کر آتی تھی جیسے کہ وہ کوئی کارنامہ سرانجام دے کر آیا تھا اور اس ظاہر ذاکر بارے بھی کہا جاتا ہے کہ جب میڈیا نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ کھڑے ایک اے ایس آئی نے کہا

”یہ بڑا ذہین بچہ ہے جی“

اب سمجھنے والے خود سمجھ جائیں کہ ”ذہین بچہ“ کس ذہانت کا مظاہرہ کر کے اس ٹائٹل کا حقدار ہوا ہوگا؟

بہرحال یہ ایک ایسا کیس ہے جس کی وجہ ملک کے دارالحکومت کی جڑیں ہل کر رہ گئی ہیں اور اگر اس قاتل کو عبرت ناک سزا نہ ملی تو پھر کوئی بھی اندھی طاقت کے جنون اور وحشت سے لیس دولت مندوں کے ہاتھوں لہولہان ہو سکتا ہے، ماضی کا تجربہ کچھ اچھا نہیں ہے لیکن اس کیس کو ٹیسٹ کیس کے طور لے کر گھناؤنی واردات کے مرتکب اس مجرم کو عبرت کی مثال بنا کر رکھ دینا چاہیے ورنہ ہمارا ملک چند اتھرے اور گھمنڈی امیر زادوں کے لیے ایک من پسند چراگاہ بن کر رہ جائے گا۔

ابن عسی کی تازہ ترین پوسٹس (تمام دیکھیں)

ابن عاصی کی دیگر تحریریں

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں .
آواز جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button