افغانستانامریکہبھارتپاکستانپشاورشامعراقلیبیامعیشت

افغان جنگ کا فاتح کون؟ | Uni-vision News Pakistan


کو شائع کی گئی۔ July 30, 2021    ·(کل ویوز 48) کوئی تبصرہ نہیں۔

ایڈیٹر: محمد ریاض
افغانستان سے امریکی انخلاء کے اعلانات اور عملی اقدامات کے بعد ہر روز کہیں نہ کہیں افغانستان بارے تجزئیے، تبصرے، مقالے، تحاریر دیکھنے سننے اور پڑھنے کو مل رہی ہیں۔مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں افغانستان تنازعہ کے بارے میں دو طرح کی رائے سامنے آرہی ہیں۔ کچھ کے نزدیک افغان طالبان کے دوبارہ مسند اقتدار پر بیٹھنے سے پاکستان کو انتہائی خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا مگر دوسری طرف طالبان کو مسیحاؤں کے روپ میں بھی دیکھایا جارہا ہے۔پہلے تو پکا ارادہ تھا کہ افغانستان موضوع پر کچھ نہ لکھا جائے کیونکہ اس موضوع پرپہلے ہی بہت کچھ دیکھنے اور سننے کو مل رہا ہے۔مگر آج نہ چاہتے ہوئے بھی افغانستان پر لکھنے کو من چاہا کیونکہ پاکستان میں اک بھیڑ چال یا شاید اک منصوبہ بندی کے تحت یکطرفہ ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔کیونکہ جیسے ہی امریکہ بہادر نے افغانستان سے اپنی افواج نکلوانے کے اعلانات کئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بہت سے امریکی اڈے آنکھ جھپکتے ہی خالی ہونا شروع ہوگئے تب سے پاکستان کے اندر طالبان کے حق میں زور شور سے کمپین چلائی جارہی ہے، کوئی تو امریکی انخلاء کو طالبان کی عظیم فتح قرار دے رہا ہے تو کوئی طالبان کو پاکستان کے سب سے بڑے ہمدرد قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ پاکستانی مین سٹریم میڈیا پر آئے روز طالبان کی فتوحات کے نقارے اور شادیانے بجائے جارہے ہیں، نہ جانے ایسا کیوں محسوس ہورہا ہے جیسے افغانی طالبان کو مسیحاؤں کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔یا شاید پاکستانی قوم کا حافظہ بہت کمزور ہے کیونکہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد پاکستانی قوم اپنے اوپر ہونے والے ظلم وبربریت، تباہ و بربادی کو بھول جاتی ہے۔ تقریباً ایک لاکھ سے زائد سول اورملٹری پاکستانیوں کی شہادت، پشاور اے پی ایس سکول سانحہ کے زخم ابھی تک تروتازہ ہیں تقریبا ایک سو ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان پتا نہیں پاکستانی کس کھاتے میں ڈال کر بھول گئے ہیں۔ تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں عظیم شکست ہوئی ہے، چلیں آئیں اس شکست کا جائزہ لیتے ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ امریکی افواج کا انخلاء نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن کے منشور اور انتخابی نعرہ کا حصہ تھا جو وہ پورا کررہے ہیں، دوسری بات کیا امریکہ کو افغانستان میں شکست ہوئی، اسکا جواب ہے ”بالکل نہیں ” کیونکہ گزشتہ بیس سالوں میں عالم اسلام خصوصاً افغانستان اور پاکستان کا افغان جنگ میں جتنا نقصان ہوا ہے اتنا نقصان تو ان دونوں ممالک کے دنیا کے نقشے پر آنے کے بعد سے اب تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ پاکستان اور افغانستان میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے، معیشت کا ستیاناس ہوگیا۔ یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ افغانستان میں امریکی جارحیت کا سب سے زیادہ شکار پاکستان ہوا ہے، دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت آج آئی ایم اور ورلڈ بینک کے قرضوں تلے دبی ہوئی ہے،  قرضے اتارنے کے مزید قرضے لینے پڑ رہے ہیں۔دہشت گردی کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا۔صبح سکول  یا  دفترجانے والے فرد کو یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ شائد واپس گھر پہنچے گا یا نہیں۔ یا پھر کسی روڈ پر خودکش حملہ کا شکار ہوجائے گا۔ سابقہ پاکستانی حکومتوں کی پالیسیوں کے نتیجہ میں (جس کا اظہار اور اعتراف وقتاً فوقتاً پاکستانی لیڈرشپ کرتی رہی ہے)  وجود میں آنے والی طالبان لیڈر شپ اور پھر افغانستان کے مسند اقتدار پر براجمان طالبان حکومت کی پالیسیوں کے نتیجہ (امریکہ کو افغانستان پر حملہ آور ہونے کے جواز) کے بعد افغانستان اور پاکستان میں جو تباہی آئی وہ تاریخ کا ناقابل فراموش حصہ ہے۔ کل تک پاکستان کو اپنی مشرقی سرحد پر اپنے ازلی دشمن بھارت سے خطرات لاحق رہتے تھے مگر اب حالات یہ ہے کہ پاکستان کو مشرقی سرحد سے زیادہ اپنی مغربی سرحد کی حفاظت کو یقینی بنانا پڑ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو پاک افغان بارڈر پر باڑ  لگانا پڑی۔ بندہ ناچیز کی ناقص رائے  (جس کا ماننا آپ کے لیے ضروری نہیں ہے)،  امریکہ افغانستان میں سوویت یونین کی شکست پر پہلے بھی فتح یاب رہا تھا اور آج بھی وہ فاتح بن کر جارہا ہے۔کیونکہ طالبان کی پالیسیوں ہی کی بدولت امریکہ نے افغانستان پر حملہ کا جواز بنایا پھر دیکھتے ہی امریکہ نے عالم اسلام کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، عراق، شام، لیبیا، سوڈان اور دیگر اسلامی ممالک جہاں پر امریکہ نے براہ راست یا پراکسی وار کے ذریعہ سے حکومتوں کا خاتمہ کیا، اور ان ممالک میں سیاسی عدم استحکام ابھی تک جاری ہے۔اسی طرح امریکہ بہادر کی جنگی چالوں کی بدولت آج افغانستان بھارت سے زیادہ پاکستان کے لئے خطرہ بن چکا ہے،  راقم اپنی اس بات کے ثبوت کے لئے بس اتنا ہی کہنا چاہے گا کہ امریکی افواج کے انخلاء کے بعد سفارتی لحاظ پر اتنی بے چینی شاید کابل میں نہیں جتنی بے چینی اسلام آباد میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کیونکہ ایک طرف کابل انتظامیہ اس وقت کھل کر اسلام آباد انتظامیہ کے خلاف بیان بازی کرتی دیکھائی دے رہی ہے۔کیونکہ کابل انتظامیہ کے نزدیک افغانستان میں جاری طالبان کی پیش قدمی کے پیچھے پاکستانی ہاتھ ہے۔ دوسری طرف طالبان کے دوبارہ مسند اقتدار پر براجمان ہونے سے اسلام آباد کو لاحق خطرات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں کیونکہ افغان طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ کس طرح اسلام آباد میں ماضی کی حکومتی پالیسیوں  (امریکی دباؤ پر سابق صدر کا سب سے پہلے پاکستان کے نعرہ) کے نتیجہ میں طالبان حکومت کا خاتمہ اور پھر چن چن کر انکے بندوں کو امریکہ کے حوالے کیا جانا، اور پاکستانی سرزمین سے طالبان حکومت کے خلاف امریکہ کو لاجسٹک و دیگر سپورٹ مہیا کرنا۔اسلام آباد کو شاید یہی خوف لاحق ہے کہ کہیں طالبان کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت پاکستانی قبائلی علاقوں تک نہ پھیل جائے۔ بندہ ناچیز کی نظر میں امریکہ بہادر سوویت یونین کی افغانستان میں شکست اور سوویت یونین کے شیرازہ بکھرنے کے وقت بھی فاتح کے طور پر سامنے آیا اور پھر افغانستان اور پاکستان کو انکے حال پر چھوڑ کر چپکے سے پتلی گلی نکل گیا، اور اس مرتبہ بھی امریکہ بہادرافغانستان میں بیس سالہ تباہی مچا کر نکل رہا ہے اور افغانستان اور پاکستان کو ایک دوسرے کے سامنے کرکے جارہا ہے۔ بظاہر امریکہ نے اربوں ڈالر افغان جنگ میں پھونک دئیے لیکن ہم یہ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے کہ امریکہ نے افغانستان سے معدنیات کے کتنے ذخیرے نکال لئے ہونگے؟ امریکہ نے نجانے اپنے  اورکتنے مقاصد کر حل کرلیئے ہونگے؟ یہ تو امریکی ہی بہتر جانتے ہیں۔درحقیقت آج بھی امریکہ نہایت چالاکی سے افغانستان سے نکل کر افغانیوں کو نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی میں دھکیل کر جارہا ہے، جس کے انتہائی مایوس کن اور خطرناک اثرات یقینی طور پر پاکستان کو بھی برداشت کرنا پڑیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے معاملہ میں انتہائی غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنا چاہیے اور افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ خود افغانیوں کو کرنے دینا چاہیے۔ ہمیں طالبان کی حمایت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ طالبان کابل حکومت کے خلاف مسلح جدو جہد کررہے ہیں اور نہ ہی پاکستانی سرکار کو طالبان کے خلاف افغانستان حکومت کی حمایت کرنی چاہیے۔ اللہ کریم اسلامی دنیا خصوصا پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین ثم آمین

:اسی سے منسلک خبریں جو آپ پڑھنا چاہیں گے

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں