اقوام متحدہجینے کا حقحقوقدینیاتصحتکراچیکشمیرکورونا وائرس

حکومت عوام کے نام پر لئے گئے 1240 ارب روپے کورونا فنڈ کا حساب دے، جماعت اسلامی

– آواز ڈیسک –

اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکریٹری کاشف سعید شیخ نے کورونا کے نام پر بیرونی ممالک سے ملنے والی امداد کے 1240 ارب روپے کا حساب قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی میں پیش نہ کرنے اور خلاف ضابطہ تقسیم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران کورونا کے نام پر عوام کو دھمکانے کی بجائے ملک کے اسپتالوں میں صحت کی سہولیات فراہم کریں، لاک ڈاﺅن سے پہلے بیروزگاری اور مہنگائی سے تنگ عوام کو گھروں تک بنیادی ضروریات فراہم کرکے جینے کا حق دیا جائے۔ اپنے ایک بیان میں کاشف سعید شیخ نے کہا کہ کورونا فنڈ کی مد میں بیرونی ممالک، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے ملنے والی امداد کے 1240 ارب روپے کی تقسیم اور خرچ کرنے کی تفصیلات سیکریٹری خزانہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی میں پیش نہیں کرسکے، کمیٹیوں کے بہانے پر قوم کے نام پرملنے والے 1240 ارب روپے ٹھکانے لگانے کا انتظام کیا جا رہا ہے، جو تبدیلی سرکار کی کرپشن فری دعوؤں اور وعدوں کی نفی ہے۔

کاشف سعید شیخ نے کہا کہ ایک طرف بجلی، گیس، پیٹرول، ایل پی جی سمیت روزہ مرہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، تو دوسری جانب حکمرانوں، عدلیہ اور دیگر اداروں کی سیکورٹی کے نام پر اربوں روپے کے اخراجات اور وفاقی و صوبائی حکومتیں کرپشن کا بازار گرم کرکے عوام کے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب کورونا وائرس کی چوتھی لہر میں شدت آنے کے بعد ایک بار پھر کاروباری بندشوں اور لاک ڈاﺅن کا عندیہ عوام کو مزید بھوک و افلاس اور غربت کے دلدل میں دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام بڑی پارٹیوں اور رہنماﺅں نے حالیہ آزاد کشمیر الیکشن میں ایس او پیز کی دھجیاں اڑائیں، آخر تمام تر پابندیاں عوام کیلئے ہی کیوں، حکومت پہلے 1240 ارب روپے کا حساب، مزدور اور کم اجرت والے افراد کیلئے گھروں تک تمام تر سہولیات فراہم کرنے کا بندوبست کرے تاکہ مجبوری میں نافذ کئے گئے لاک ڈاﺅن میں عام آدمی کی زندگی متاثر ہونے سے بچایا جائے۔

جملہ حقوق بحق مصنف و ناشرمحفوظ ہیں .
آواز دینی ہم آہنگی، جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف یا ناشر کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں. آپکے عظیم خیالات ہمارے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں، لہٰذا ہم نہیں چاہتے کہ برے الفاظ کے چناؤ کی بنا پر ہم انہیں ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیں. امید ہے آپ تہذیب اور اخلاق کا دامن نہیں چھوڑیں گے. اور ہمیں اپنے علم سے مستفید کرتے رہیں گے.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں