پاکستانحقوقخواتینکرکٹ

کیا اب بکریوں کوبھی عبایاپہننے کی ضرورت ہے؟

شنیرااکرم اور متھیرانے اوکاڑہ میں بکری کے ساتھ 5 افراد کی زیادتی کے بعد اسے مار ڈالنے پر غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔

شینیرا اکرم نے انسٹاپوسٹ میں بکری کی تصویرشیئرکرتے ہوئے طنزیہ لکھا کہ ‘اس فوٹیج میں عریانی ، فحش نگاری اور جنسی مواد شامل ہے جو کچھ لوگوں کو مشتعل کرسکتا ہے ‘۔

سابق کرکٹ کپتان کی اہلیہ نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ اس بکری کی اپنی غلطی تھی۔

بکری کے مالک کے مطابق 5 افراد نے 24 جولائی کو اس کے گھر کے سامنے بندھی ہوئی بکری کو اغواء کر کے چند کلومیٹر دور ویران علاقے میں لے گئے تھے۔ بعد ازاں اسے قریبی ویٹرنری اسپتال لے جایا گیا جہاں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں عصمت دری کی تصدیق کی گئی۔

شنیرا نے اس افسوسناک واقعے پر غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ‘آج ایک بکرا ، کل کیا ہے؟’۔ جب تک کہ ہماری خواتین اور بچے محفوظ نہیں رہیں گے تب تک کوئی اور بھی محفوظ نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید لکھا ‘ ہمیں عصمت دری کے واقعات کے حوالے سے لازمی رپورٹنگ کی ضرورت ہے، ہمیں تبدیلی کی ضرورت ہے’ ۔ یہ وہ ملک ہے جہاں خواتین ابھی تک اپنے بنیادی حقوق کی جنگ لڑ رہی ہیں۔

اسی واقعے پر ماڈل اورٹی وی ہوسٹ متھیرا نے بھی اپنی پوسٹ میں لکھا’ کیا اب بکریوں کو بھی عبایا پہننے کی ضرورت ہے؟’۔

متھیرانے انسٹااسٹوری میں لکھا کہ ہم وہ لوگ ہیں جو گھر بیٹھے دوسروں کے لباس پر تنقید کرتے ہیں، لباس کا انتخاب اپنی مرضی ہے ہونا چاہیےاوراس کی آزادی ہونی چاہیے۔ آپ سب اپنے معاملات پر توجہ دیں اور دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت سے گریز کریں۔

شنیرااکرم اور متھیرا کے علاوہ بھی معروف شخصیات اور سوشل میڈیا صارفین نے ٹوئٹروانسٹاپرکم و بیش انہی خیالات کا اظہار کیا،عصمت دری اور خواتین کے لباس سے متعلق وزیراعظم کے بیان کے تناظرمیں بیشترنے سوال اٹھایا کہ کیا اس جانور نے بھی نامناسب لباس پہنا ہواتھا۔


مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں