امریکہاولمپکسبین الاقوامیتارکین وطنجرمنیخواتین

ٹوکیو اولمپکس میں جرمن خواتین کی ’فل باڈی سوٹس‘ میں جمناسٹکس

جرمنی سے تعلق رکھنے والی خواتین جمناسٹس نے اتوار کو ٹوکیو اولمپکس کے کوالیفائنگ میں ’لیوٹارڈز‘ کے بجائے ’فل لینتھ باڈی سوٹ‘ پہن کر خواتین جمناسٹس کے لیے نئی راہ متعین کی ہے۔

کئی جرمن خواتین جمناسٹس نے یورپین چیمپیئن شپ میں بھی ’ون پیس آؤٹ فٹس‘ میں حصہ لیا تھا جس میں ان کے جسم کا زیادہ تر حصہ چھپا ہوا تھا۔

جرمن اولمپکس ٹیم نے رواں ہفتے اریاک جمناسٹکس سنٹر میں ٹریننگ کے دوران بھی یہی لباس پہن رکھا تھا۔ تین مرتبہ اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے والی اولمپیئن الزبتھ سیز کا اس لباس کے بارے میں کہنا تھا کہ اسے پہن کر وہ آرام دہ محسوس کرتی ہیں۔

جمعے کو تربیت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ دکھانا چاہتے تھے کہ ہر خاتون یا کسی بھی شخص کو اپنا لباس منتخب کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔‘

دن کے آخری سیشن پر ٹیم کی چار اتھلیٹس اس باڈی سوٹس میں نظر آئیں جس کی لیگز جامنی رنگ اور اوپر کے حصے کا رنگ سفید تھا۔

اپریل میں ہونے والے مقابلوں کے دوران بھی الزبیتھ سیز ان کی ساتھی کھلاڑی سارہ ووس اور کم بوئی نے بھی پورا ڈھکا ہوا لباس پہنا تھا۔

سارہ ووس نے جمعے کو کہا کہ ان کی ٹیم اور کوچز نے یہی لباس پہن کر اولمپکس مقابلوں میں شرکت پر اتفاق کیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پہلی بار اولمپکس میں جرمنی کی نمائندگی کرنے والی 21 سالہ سارہ ووس نے کہا: ’ہم اس سے پہلے لیوٹارڈ (خواتین جمناسٹکس کھلاڑیوں کا روایتی لباس) میں جمناسٹک بیم پر کھیلنے کی عادی تھیں لیکن وہ تربیت کے دوران مزید آرام دہ لباس پہننا چاہتی تھیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پھر ہمیں (ٹریننگ کے دوران) شارٹس پہننے کی اجازت مل گئی جس سے آپ کو پورا دن لیوٹارڈ میں رہنے سے چھٹکارا مل گیا۔‘

اس فیصلے کو سارہ سیز نے ’اہم اشارہ‘ قرار دیا ہے اور یہ حالیہ سالوں میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے متعدد سکینڈلز کے بعد سامنے آیا ہے جس کے بعد عالمی جمناسٹک تنظیم کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

امریکہ میں ٹیم کے سابق ڈاکٹر لیری ناسار کو گذشتہ دو دہائیوں کے دوران امریکی جمناسٹک سٹار سمون بلز سمیت 265 شناخت شدہ خواتین کھلاڑیوں پر جنسی حملوں میں ملوث ہونے کا جرم ثابت ہوا تھا۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button