افغانستانبجٹبرطانیہپاکستانکراچیکشمیرگلگت بلتستانلاہور

سیاست کا جمود اور اگلے دو سال

کشمیر کا انتخاب اپنے آخری مراحل میں ہے۔ ان سطور کے چھپنے تک الیکشن کا حتمی نتیجہ آچکا ہوگا۔ خیال یہی ہے کہ یہ نتیجہ توقع کے مطابق ہی ہوگا۔
ابھی تک آنے والے ابتدائی نتائج بھی پی ٹی آئی کی فتح کی نوید سنا رہے ہیں۔ البتہ اپوزیشن نے بھی خاطر خواہ مقابلہ کیا ہے۔ زیادہ تر جلسوں اور بیانات میں اور مناسب حد تک ووٹوں میں بھی۔
اس انتخاب میں کچھ رونق اور کچھ ہنگامہ رہا۔ اسی طرح جیسے گلگت بلتستان کے انتخاب میں تھا۔ اسی طرح جیسے ڈسکہ اور کراچی کے ضمنی انتخابات میں تھا۔ اسی طرح جیسے سینیٹ کے انتخابات میں تھا۔

افغانستان ماضی کے سائے اور مستقبل کا خوف، ماریہ میمن کا کالم
ہر ایک کے ساتھ اپوزیشن کی طرف سے امید اور دعوے کیے جاتے رہے۔ حکومت کی اپنی بد حواسی اور یوٹرنز سے اکثر ان شبہات کو تقویت بھی ملی۔ اندرونی اختلافات بھی ہوئے اور سینیٹ کی ایک اہم سیٹ پر شکست بھی مگر پھر چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں سنبھالا بھی مل گیا۔
حلیفوں نے بھی ٹف ٹائم دیا مگر کسی کو وزارت اور کسی کو ریلیف دے کر کام چل رہا ہے۔
اب کچھ عرصے سے دیکھا جائے تو حقیقی ایشوز بہت کم کھڑے ہوئے ہیں۔ کچھ تنازعات چائے کی پیالی میں طوفان ثابت ہوئے۔
فلاں نے یہ کہا اور اس کے جواب میں فلاں نے کچھ اور کہا اور پھر جواب بالجواب اور اس وقت تک جب کوئی نیا بیان سامنے نہیں آگیا معاملہ گھسیٹتا رہتا ہے۔ پوائنٹ سکورنگ چلتی رہتی ہے۔ اس سب سے یہی نظر آتا ہے کہ اگلے دو سال یا اس سے ذرا پہلے تک سب کو بقول شخصے اسی تنخواہ میں نوکری کرنا ہوگی یعنی جو جہاں ہے وہیں رہے گا۔ یہ بیانات کی ہلکی پھلی موسیقی چلتی رہے گی مگر کسی بڑی تبدیلی کا امکان فی الحال نظر نہیں آتا۔

بیانات کی ہلکی پھلی موسیقی چلتی رہے گی مگر کسی بڑی تبدیلی کا امکان فی الحال نظر نہیں آتا

اس ٹھہراؤ کا یہ بھی مطلب نہیں کہ حکومت کی کارکردگی میں کوئی ڈرامائی تبدیلی آگئی ہے یا آجائے گی۔ پنجاب میں بزدار سرکار ابھی تک ڈگمگاتی چلی جا رہی ہے۔ اس کا ڈگمگانا کم ہوا ہے اور نہ اس کے چل چلاؤ کا کوئی امکان ہے۔
بزادر سرکار نے تجزیہ کاروں کے اندازوں کو بھی غلط ثابت کیا ہے اور اپنی پارٹی کے پرامید سیاست دانوں کی امیدوں پر بھی مسلسل پانی پھیرا ہے۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں ان کا اپنا کوئی کمال ہے بلکہ یہی کہا جا سکتا ہے اس کی وجہ متبادل پر اتفاق کا نہ ہونا ہے۔
یہی بات کچھ حد تک وفاق کے بارے میں کہی جا سکتی ہے جہاں حکومت کی اکثریت چند ووٹوں کی ہے مگر اس کا کوئی متبادل بھی نہیں۔ مناسب بجٹ بھی پیش ہو چکا ہے اور ایک طرف مہنگائی اور دوسری طرف اقتصادی بہتری کے دعوؤں کے ساتھ حکومت چلی جا رہی ہے۔
بیرونی معاملات میں خصوصاً افغانستان کے حوالے سے کچھ اضطراب ہے مگر ایسا نہیں کہ اندرونی طور پر کسی فوری بحران کا سبب بنے۔
اپوزیشن اپنی سی کوشش کر کے اب اپنے آپ کو اِن رکھنے میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کہیں گوشہ نشین ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ کی حکومت انجوائے کرنے کے ساتھ ساتھ بقیہ پاکستان کو بلاول بھٹو کی سیاسی تربیت گاہ کے طور پر استعمال کر رہی ہے ۔ چاہے اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی راہداریاں ہوں یا کشمیر اور جی بی کے پرپیچ راستے۔

مسلم لیگ ن سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انتخابات میں حصہ لیا۔ (فوٹو:ٹوئٹر مریم نواز)

مریم نواز بھی شاید اپنے آپ کو زیرِ تربیت کہنے سے اتفاق نہ کریں مگر اِن رہنے میں ان سے زیادہ مشتاق کوئی نہیں۔ اپنے گوشہ نشینی کے عرصے کے علاوہ وہ اپنے لیے عوامی رابطے کے مواقع ڈھونڈتی رہتی ہیں۔
پارلیمنٹ میں وہ ہیں نہیں، پارٹی کی تنظیم بھی اب زیادہ شہباز شریف نے اپنے کنٹرول میں کر لی ہے۔ ٹی وی انٹرویوز بھی وہ نہیں دیتی اس لیے اِن رہنے کے لیے دور دراز ہی سہی مگر انتخابی مہم ہے اور وہ نہ ہو تو عدالت میں پیشیاں اور وہ بھی نہیں تو پھر ٹوئٹر۔ اب کشمیر کے بعد شاید کوئی اور ضمنی انتخاب ہو یا پھر مقامی انتخابات مگر یہ بات واضح ہے کہ کوئی بڑا بقول عوامی پنجابی محاورے ’کھڑاک‘ ہوتا نظر نہیں آتا۔
سوال یہ ہے کہ اس سٹیٹس کو کی صورتحال میں فریقوں کی حکمت عملی کیا ہے؟ جیسے کہ اوپر ذکر ہوا زیادہ تر ٹارگٹ سیاسی طور پر متحرک رہنے کا ہی ہے تا کہ جب اگلے انتخابات کا وقت آئے تو پھر ایک دفعہ صف بندی ہو۔ کیا اس وقت بھی یہی صف بندی جاری رہے گی؟ اس کا زیادہ انحصار اس وقت کے سیاست سے باہر کے عوامل پر ہو گا۔

’پارٹی کی تنظیم بھی اب زیادہ شہباز شریف نے اپنے کنٹرول میں کر لی ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

اس میں جڑواں شہروں کی جڑواں حکمت عملی بھی اہم ہو گی۔ سیاست میں بھی الیکٹیبلز اپنی آپشنز کو ایک دفعہ پھر تولیں گے۔ ہوا کے رخ کو دیکھا جائے گا مگر یہ سب ابھی دور ہے۔
نواز شریف کی وطن واپسی کچھ تلاطم پیدا کر سکتی ہے مگر اس کا بھی فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ بلکہ موقع ملتا تو شہباز شریف بھی حبس زدہ گرمیاں لندن میں ہی گزارتے مگر انہوں نے نے لاہور سے بھی اتنی ہی طرح سیاسی سرگرمیاں کی ہیں گویا لندن میں ہی ہوں۔ دوسری طرف باوجود اس کے دارالحکومت چہ مہ گوئیوں کا گڑھ ہے مگر زیادہ تر خبریں خواہشات کا ہی تسلسل ہیں۔ کوئی ایسی نا موافق ہوا بھی نہیں اور کسی طوفان کے آثار بھی نہیں۔ سیاست کا یہ جمود اب کسی بڑے سرپرائز سے ہی ٹوٹے گا ورنہ لگتا ہے کہ سب اسی تنخواہ میں ہی کام کریں گے۔



مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں