افغانستانامریکہایرانپاکستانتعلیمحقوقخواتینسعودی عربفیشنکالم و مضامینیورپ

حجاب، پردہ یا عرب کلچر

– کالم و مضامین –

حجاب جو کہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی پردے کے ہیں۔ یہ ایک چھوٹا سا ایک گز کا کپڑا ہوتا ہے جو کہ عرب عورتیں اپنے سر پر لپیٹتی ہیں۔ اسی طرح مرد بھی اپنے سر کو کپڑے سے ڈھانپتے ہیں۔ سر کو کپڑے سے ڈھانپنا معاشی ترقی سے پہلے موسم کی شدت کا مقابلہ کرنے کے لئے ضرورت اور اب عرب ثقافت کا حصہ ہے۔ عورتوں نے جینز کی پتلون اور قمیص پہنی ہوتی ہے اور اپنے بالوں کو اس کپڑے سے چھپایا ہوتا ہے۔ اس حجاب کا ہمارے ہاں جو پردے کا تصور ہے اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں عورتیں چاہے مسلمان ہوں، چاہے ہندو یا سکھ وہ اپنے سینے کو دوپٹے سے ڈھانپ کر رکھتی ہیں یہ یہاں کی ثقافت ہے۔ شلوار قمیص بھی صرف مسلمانوں سے خاص نہیں بلکہ ہندو سکھ سب عورتیں اس کو زیب تن کرتی ہیں۔

پورے عرب میں سینے کو اوڑھنی سے ڈھکنے کا کوئی رواج نہیں، بلکہ اگر کسی عورت نے عبایہ بھی پہنا ہو تو سینہ نمایاں ہوتا ہے۔ اور عبایہ کے نیچے پتلون یا سکرٹ ہی ہوتا ہے۔ مغربی عرب کی عورتوں کا لباس تو بالکل ہی ویسٹرن فیشن کا نمونہ ہوتا ہے۔ انہوں نے جینز اور قمیص پہنی ہوتی ہے اور سر کے بالوں کو کپڑے سے ڈھکا ہوا ہوتا ہے۔ اسی طرح یورپ میں جو عرب آباد ہیں ان کی عورتیں مختلف جگہوں پر کام کرتی نظر آتی ہیں انہوں نے جینز کے اوپر ”حجاب“ کیا ہوتا ہے یعنی صرف بالوں کو چھپایا ہوتا ہے۔

یورپ امریکہ میں رہنے والی صرف عرب عورتیں ہی اس کپڑے کو سر پر نہیں باندھتیں بلکہ دوسرے ممالک کی مسلمان عورتیں ان کی دیکھا دیکھی بھی وہی حجاب باندھے نظر آتی ہیں۔ اب اس کی افادیت پردے سے زیادہ ایک شناختی نشان کی ہے کہ یہ عورت ایک مسلمان ہے۔ ہماری پاکستانی عورتیں بھی جو اپنے ملک میں دوپٹہ، چادر وغیرہ اوڑھتی تھیں وہ بھی وہاں حجاب کو ایک علامت کے طور پر پہننے لگتی ہیں۔ شناخت کے بحران کا شاید یہ فطری ردعمل ہے۔

بہرحال جو معیار پردے کا ہند پاکستان کے مولویوں نے طے کیا ہے اس کے معیار پر تو یہ حجاب بالکل بھی پورا نہیں اترتا۔ ہمارے ہاں تو بقول پارسا جینز پہننے سے زلزلے آ جاتے ہیں جب کہ عرب ممالک اور یورپ میں زیادہ تر عرب مسلمان عورتوں نے پہنی ہی جینز ہوتی ہے نہ کوئی زلزلہ آتا ہے اور نہ ان کے جسم کی گولائیاں دیکھ کر کسی کا مذہب بھرشٹ ہوتا ہے۔ نہ فٹبال کھیلتے دیکھ کر اور میدان میں بھاگتے دیکھ کر کسی کی شہوت بھڑکتی ہے۔

اس کے برعکس ہند پاکستان کی عورتیں اپنے محرمات کے سامنے اور گھر میں بھی بالکل پورے لباس میں نظر آتی ہیں، لیکن عرب میں اس کا کوئی تصور نہیں وہ اپنے گھروں میں اپنے باپ بھائی کے سامنے خالص مغربی لباس پہنتی ہیں۔ گھر میں اسکرٹس، شارٹس، سپورٹس ٹراؤزر، سلیو لیس وغیرہ پہن کر وہ رہتی اور چلتی پھرتی ہیں۔ دوپٹہ اوڑھنی وغیرہ کا نہ کوئی تصور ہے نہ کوئی پابندی۔ بلکہ پورا جسم ڈھانپنے کی بھی کوئی پابندی نہیں۔

انتہائی سخت پردے کا رواج جس میں عورت کو کبھی قرآن کے غلاف سے تشبیہ دی جاتی ہے اور کبھی چلغوزہ کہا جاتا ہے اور کبھی لالی پاپ سمجھا جاتا ہے، اور بتایا جاتا ہے کہ تم اتنی قیمتی ہو کہ جیسے قرآن کو غلاف میں رکھا جاتا ہے اسی طرح تم کو ڈھانپا جانا چاہیے جیسے لالی پاپ کو مکھیوں سے محفوظ کرنے کے لئے ریپر سے ڈھکا جاتا ہے۔ یہ لالی پاپ، غلاف اور شٹل کاک برقعے یا خیمے صرف پاکستان میں ہی پائے جاتے ہیں۔ دوسرے ملک یا وہ ممالک جن کی زبان میں قرآن اترا اور جو اسلام کے پہلے پیروکار ہیں وہ یا تو قرآن پڑھتے نہیں اور اگر پڑھتے ہیں تو ان کو پردے کے احکام سمجھ نہیں آتے، اور اگر سمجھ آتے ہیں تو ان پر عمل نہیں کرتے۔ کچھ ملکوں میں البتہ سیاسی وجوہات کی بنا پر عورتوں کو زور زبردستی برقعہ پہنایا گیا۔ یوں لگتا ہے کہ اس روئے زمین پر صرف پاکستانی اچھے سچے پکے مسلمان ہیں باقی سب راندہ درگاہ اور بھٹکے ہوئے مسلمان ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ان پکے مسلمانوں کا ایک ٹریلر اس بقر عید پر نظر آیا ہے جب سڑکوں پر جگہ جگہ نصف ایمان کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ جگہ جگہ جانوروں کی باقیات نے نصف ایمان کی قلعی کھول دی۔ شاید پیارے پاکستانیوں کا اسلام عورت سے شروع ہو کر عورت پر ہی ختم ہو جاتا ہے۔

ہم کو رشوت ستانی جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر، دھوکا، فریب دیکھ کر بالکل غصہ نہیں آتا لیکن جوں ہی عورت ذات کی بات آتی ہے اس کے پردے، اس کی آزادی، اس کی مرضی کی بات آتی ہے ہم ایک دم الرٹ ہو جاتے ہیں ہمارا دفاعی نظام انگڑائی لے کر بیدار ہو جاتا ہے، منہ سے کف بہنے لگتا ہے اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہم عورت کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔ اس کو کوئی چیز گردانتے ہیں، اس کو اپنے معیار کے مطابق درست رکھنا اپنی ذمہ داری خیال کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر ایسا نہیں کریں گے تو ہم جہنم میں جائیں گے، ہم سے پوچھ گچھ ہوگی۔ ہم گناہ گار ہوں گے۔ معاشرہ تباہ ہو جائے گا گویا معاشرہ صرف عورتوں پر مشتمل ہے۔ تمام مرد اجتماعی طور پر تمام عورتوں کے لئے خود کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ دوسرے وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ اپنی خدائی فوجداری صرف عورتوں پر ہی آزما سکتے ہیں۔ کسی مرد کو اس کی بے راہروی پر لیکچر دیں گے تو اگر جبڑا نہ بھی ٹوٹا تو گندی گندی گالیوں سے تو تواضع لازمی ہے۔ اس ساری نفسیات کے پیچھے ملکیت اور طاقت کا احساس کارفرما ہے۔ یہ ملکیت کا احساس ختم ہو جائے، عورت کو اپنے اعمال کی ذمہ دار خود ہی سمجھا جائے اور ہمارے بھائی اس کے جسم و جان کا مالک بننا بند کر دیں تو عورت کے ساتھ جڑی حساسیت بھی کم ہو جائے گی۔

ہجرت مدینہ کے بعد ، مدینہ کے غیر مسلم اوباش، بد قماش، منافق اور بدکردار مرد جب مسلمان عورتیں گھر سے باہر نکلتی تھیں تو ان کو چھیڑتے تھے، تنگ کرتے تھے، ان پر آوازے کستے تھے بلکہ ایک ریپ کا واقعہ بھی پیش آ گیا۔ باز پرس پر انہوں نے یہ عذر پیش کیا کہ ہم تو انہیں لونڈیاں سمجھے تھے۔ یاد رہے کہ لونڈی کی عزت کا تصور اس معاشرے میں ناپید تھا۔ اللہ تعالی نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے حکم دیا ”اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے پر چادر لٹکا لیا کریں۔ یہ امر ان کے لئے موجب شناخت ہو گا تو کوئی ان کو ایذا نہ دے گا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے ( 59 )“ ۔ یعنی چادر لٹکانے کا مقصد شناخت قائم کرنا تھا تاکہ منافقوں اور کافروں کے حیلے بہانے ختم ہوں اور آئندہ ایسی حرکت پر انہیں سزا دی جا سکے۔ پاکستان میں ماشاءاللہ اٹھانوے فیصد مسلمان ہیں اور پوری دنیا کے مقابلے میں سے سب سے پکے مسلمان ہیں، اسلام پر مر مٹنے والے اور اس پر کوئی آنچ نہ آنے دینے والے تو پھر آج کون سے بد قماش اور اوباش مرد ہیں جن سے یہ ڈرتے ہیں اور اپنی ملکیت کو کہتے ہیں کہ باہر جاؤ تو سات پردوں میں جاؤ۔ برقعہ پہنو، نقاب کرو۔ اس وقت یہ حکم تو آیا تھا کہ اوڑھنیاں لٹکا لو تاکہ اوباشوں کو پتہ چل جائے کہ تم مسلمان عورتیں ہو اور وہ تم کو ایذا نہ دیں آج تو ماشاءاللہ مسلمان ملک ہے مرد بھی سارے نہیں تو اکثریت الحمدللہ نیک اور پارسا ہیں، مسلمان ریاست بھی قائم ہے، قانون بھی موجود ہے آج تو عورت کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ایک مسلمان عورت ہے۔ لونڈیوں کا تو دور بھی ختم ہو گیا۔ آج تو اس کو کسی مخصوص شناخت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ایک آزاد مسلمان عورت کے طور پر پہچانی جائے۔ یہ خاص حکم اس وقت کے مخصوص حالات کی وجہ سے آیا تھا، آج تو ایسے حالات نہیں، ایک مسلمان ریاست قائم ہے۔ اگر اسلام صرف عورتوں کے لئے آیا تھا تو بے شک انہیں زمین میں دفن کر دیں لیکن اگر مردوں کے لئے بھی تھا تو اس کا کوئی اثر ان پر نظر کیوں نہیں آتا۔ آج بھی پاکستانی عورتوں کو اپنے مسلمان بھائیوں سے تحفظ اور عزت کی بجائے بے عزتی، ہراسانی اور اذیت کا سامنا کیوں ہے؟ عورتوں کو حجاب و نقاب کے مشورے دینے والے اپنے مسلمان بھائیوں کو نظریں نیچی رکھنے کی آیات کیوں یاد نہیں دلاتے۔ یہ مت کہئیے گا کہ بازار چلتے ہوئے آپ کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ آپ کے ارد گرد موجود آپ کے جیسے اسلامی بھائی کون کون سے طریقوں سے راہ چلتی خواتین کو ہراساں کرتے ہیں۔ مان لیجیے کہ وہاں آپ کے منہ سے آواز نہیں نکلتی اور آپ خود کو یہ کہہ کر تسلی دے لیتے ہیں کہ اگر یہ اچھی عورتیں ہوتیں تو گھر سے باہر ہی کیوں نکلتیں۔ لیکن عورتیں کتنے بھی غیرت مند مرد کی ملکیت ہی کیوں نہ ہوں کسی نہ کسی ضرورت کے لئے کبھی نہ کبھی گھر سے نکلنا تو پڑ ہی جاتا ہے۔

ایران میں انقلاب آنے سے پہلے خمینی نے عورتوں کو انقلاب کی جدوجہد میں شامل کرنے کے لئے ان کو بے شمار سبز باغ دکھائے۔ ان سے کہا گیا کہ وہ عورتوں کے لباس میں بالکل مداخلت نہیں کریں گی اور ان کو اپنی مرضی کے لباس کا حق دیں گے، لیکن فرانس سے واپسی کے چند ماہ بعد ہی ایران کے مذہبی رہنما خواتین کو نقاب کے لئے مجبور کر رہے تھے، بعینہ اب یہ ہی کام طالبان کرنے جا رہے ہیں اب وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے پچھلے دور میں خواتین کے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ اس دور میں روا نہیں رکھیں گے ان کو تعلیم کا حق دیں گے، ملازمت کی اجازت دیں گے۔ ہاں البتہ ان کو حجاب کرنا پڑے گا۔ ان کی بات کا بالکل بھی اعتبار نہ کیا جائے کیوں کہ جب یہ کنٹرول حاصل کر لیں گی تو پھر یہ عورتوں سے بھیڑ بکریوں والا سلوک کریں گے۔ کیوں کہ یہ عورت کو انسان ہی نہیں سمجھتے اس کو کوئی کموڈٹی یا جنس خیال کرتے ہیں۔ اس کو کوئی چیز سمجھتے ہیں۔ دل بہلانے کا آلہ گردانتے ہیں۔ اور خیال کرتے ہیں کہ یہ جنس صرف مرد کی تفریح طبع کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ ویسے بھی کہتے ہیں کہ مومن ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاتا۔

کیا عورت ایک انسان نہیں، کیا وہ دماغ نہیں رکھتی۔ وہ بھی دنیا میں تمہاری ہی طرح امتحان دینے آئی ہے تو تم کون ہوتے ہو ڈکٹیشن دینے والے کب وہ کیا پہنے اور کیا نہ پہنے، کہاں جائے اور کہاں نہ جائے۔ کام کرے یا نہ کرے، جب تم ڈکٹیشن دیتے ہو تو اس سے صاف عیاں ہو جاتا ہے کہ تم اس کو اپنے جیسا انسان نہیں بلکہ اپنی ملکیت سمجھتے ہو۔ سارے المیے یا فساد کی جڑ یہ ہی نفسیات ہے جس دن ہم نے اس نفسیات پر قابو پا لیا یقین کریں یہ بحث ہی ختم ہو جائے گی کہ عورت کیا پہنے اور کیا نہ پہنے۔

ندیم صفدر کی تازہ ترین پوسٹس (تمام دیکھیں)

ندیم صفدر کی دیگر تحریریں

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں .
آواز جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں