بین الاقوامیپاکستانپشاورتارکین وطنخواتینفیشن

’چترال کے قدرتی حسن کی طرح اس کے ٹیلنٹ کو بھی ثابت کریں گے‘

خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں خواتین کو خودمختار کرنے کے غرض سے انہیں سلائی کڑھائی اور فیشن ڈیزائننگ کا ہنر سکھایا جا رہا ہے۔

گوجل کے علاقے سے تعلق رکھنے والی گل فریا بھی اس کورس کا حصہ ہیں جو قومی ادارہ برائے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کی اور ہلال احمر کی شراکت سے کروایا جا رہا ہے۔

اس تین ماہ کے کورس میں چترال سے تعلق رکھنے والی 25 خواتین حصہ لے رہی ہیں۔

گل فریا پر امید ہیں کہ ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد وہ اس قابل ہوجائیں گی کہ کم از کم اپنے کپڑوں کی ڈیزائننگ اور سلائی خود کر لیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ چترال میں عموماً خواتین کا گھر سے باہر نکلنا مشکل ہوتا ہے جس سے وہ پیچھے رہ جاتی ہیں، تاہم اس ٹریننگ سے اور خودمختار ہو سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’یہ ہنر سیکھ کر میں اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکتی ہوں اور اپنے لیے کما بھی سکتی ہوں۔ جس طرح چترال قدرتی حسن کے لیے مشہور ہے اسی طرح ہم ثابت کریں گے کہ چترال میں ٹیلنٹ کی بھی کمی نہیں ہے۔‘

پاکستان ہلال احمر خیبر پختونخوا کی ڈپٹی سیکرٹری ایڈمنسٹریشن حمیرا اقبال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تین مہینے کا یہ کورس جب خواتین مکمل کر لیں گی تو ان کو ایک سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ٹریننگ کے بعد یہ خود بھی کما سکتی ہیں اور گھروں میں سلائی کی ضرورت ہو تو گھر کے لوگوں کے لیے بھی کپڑے سی سکتی ہیں۔

حمیرا نے کہا: ’اس ٹریننگ میں سلائی کڑھائی، ڈریس میکنگ، ڈرافٹنگ کے کورس کرائے جائیں گے۔‘

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں