اسرائیلبین الاقوامیتارکین وطندفاعصحت

اسرائیلی فوج سے جھڑپوں میں فلسطینی ہلاک، 140 سے زائد زخمی

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں ہونے والی جھڑپوں میں اسرائیلی فوج نے جمعے کو ایک نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جبکہ بیتا نامی گاؤں میں ہونے والی ایک جھڑپ میں 140 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہو گئے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تشدد کا واقعہ رام اللہ شہر کے قریب اسرائیلی بستی کے خلاف مظاہرے کے دوران پیش آیا۔

عینی شاہدین کے مطابق فلسطینی نوجوانوں نے اسرائیلی فوج پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں فوج نے فائرنگ کر دی۔ وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے دوران 17 سالہ فلسطینی لڑکے کو گولی لگی جن کی بعد میں موت واقع ہو گئی۔

دوسری جانب اے ایف پی کے مطابق مغربی کنارے کے گاؤں بیتا میں بھی غیر قانونی بستی کے خلاف احتجاج کیا گیا جس میں کئی لوگوں کے زخمی ہونی کی اطلاعات ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ مظاہرے کے دوران ہونے والے تشدد میں دو فوجی ’معمولی زخمی‘ ہو گئے۔

اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق ایواتر کی قریبی چوکی کے خلاف مظاہرے کے لیے سینکڑوں کی تعداد میں فلسطینی مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں بیتا میں جمع ہوئے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فلسطینی سرزمین پر یہودی بستیوں میں توسیع کے خلاف اس علاقے میں باقاعدگی کے ساتھ مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ ’گذشتہ کئی گھنٹے کے دوران نابلس شہر کے جنوب میں گیوت ایواتر بستی کے علاقے میں ہنگامہ کیا گیا۔ سینکڑوں فلسطینیوں نے فوج پر پتھراؤ کیا جس نے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو منتشر کرنے کے وسائل کا استعمال کیا۔‘

اسرائیلی فوج نے مزید کہا ہے کہ اس ہنگامہ آرائی میں ’معمولی‘ زخمی ہونے والے دو فوجیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ادھر فلسطینی انجمن ہلال احمر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں 146 فلسطینی زخمی ہوئے جن میں سے نو عام گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے جبکہ 34 ربڑ کی گولیوں اور 87 آنسو گیس کے استعمال کی وجہ سے زخمی ہوئے۔

یاد رہے کہ یہودی آبادکاروں نے مئی کے شروع میں ایواتر کی بستی قائم کی تھی۔ ہفتوں کے اندر مکانوں کے کنکریٹ کے بنیادی ڈھانچے اور جھونپڑیاں بنائی گئیں۔ یہ تعمیرات بین الاقوامی اور اسرائیل دونوں کے قانون کے خلاف ہیں۔ یہ تعمیرات فلسطینیوں کی جانب سے مظاہروں کا سبب بن گئیں جن کا اصرار ہے کہ یہ ان کی زمین پر کی گئیں ہیں۔

اسرائیل میں قوم پرست وزیر اعظم نفتالی بینت کی نئی حکومت کے قیام کے بعد ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں دو جولائی کو مکینوں نے اس بستی کو خالی کر دیا تھا۔ جو تعمیرات انہوں نے کیں اس کی حفاظت اسرائیلی فوج کے حوالے کر دی گئی۔

اسرائیلی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ یہ جاننے کے لیے علاقے کا جائزہ لے گی کہ اسے اسرائیلی قانون کے مطابق ریاستی زمین قرار دیا جا سکتا یا نہیں۔ علاقے کو اسرائیلی ریاست کی ملکیت قرار دیے جانے کی صورت میں اسرائیل اس علاقے میں مذہبی سکول قائم کرنے کی اجازت دے سکے گا اور اس کا عملہ اور طلبہ وہاں رہ سکیں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی قبضے کے بعد سے مغربی کنارے میں چار لاکھ 75 ہزار یہودی آباد کار رہتے ہیں۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button