اسرائیلافغانستاناقوام متحدہامریکہپشاورترکیحقوقدینیاتشامعراقفلسطینکشمیر

ترکی کی افغانوں سے خیانت

– آواز ڈیسک –

رپورٹ: عدیل زیدی

ترکی نے ہمیشہ سے ہی امت مسلمہ کے انتہائی اہم اور حساس معاملات پر عالم اسلام کیساتھ ‘‘ڈبل گیم‘‘ کھیلی ہے، مسئلہ فسلطین ہو یا کشمیر، افغانستان پر امریکہ کی چڑھائی ہو یا عراق پر یلغار، داعش کا وجود ہو یا شام کی بربادی، بے گناہ یمنیوں کا قتل عام ہو یا مسلم دنیا سے جڑا حتیٰ کوئی بھی مسئلہ۔ ترکی کا کردار ہر مرتبہ منفی رہا ہے، تاہم انقرہ کی یہ خوش قسمتی رہی ہے کہ مختلف مسلم ممالک میں موجود اسے اپنے بعض حمایتیوں، میڈیا پروپیگنڈے اور نام نہاد خلافت کے لبادے کیوجہ سے عوام کو دھوکہ دینے میں زیادہ مشکل درپیش نہیں آئی۔ مسئلہ فلسطین پر ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کمال عیاری سے مسلم امہ کے سامنے ارطغرل بننے کی کوشش کی، جبکہ درحقیقت اسرائیل کا مسلم دنیا میں سب سے بڑا سفارتی دوست اور مدافع ترکی ہی ہے۔ اسی طرح انقرہ کی تمام تر توانائیاں ہمیشہ امریکہ مخالف مقاومتی قوتوں کیخلاف ہی خرچ ہوتی رہی ہیں۔ اب جبکہ 20 سال کی ناکامی کا بوجھ کندھے پر اٹھائے امریکہ افغانستان سے جا رہا ہے تو ترکی ایک مرتبہ پھر اپنی سابقہ روایات کو دہراتے ہوئے امریکی کے مفادات کے تحفظ کو ہی ترجیح دے رہا ہے۔

ترک افواج افغانستان پر ہونے والے نیٹو حملے میں شریک رہی ہیں، اب یہ قوی امکان موجود ہے کہ امریکہ ترکی کو اپنے جانشین کے طور پر افغانستان میں چھوڑ کر جانے کی کوشش کرے اور وہ کام جو امریکہ خود یہاں رہتے ہوئے ادھورے چھوڑ گیا، وہ ترکی کے ذریعے کروائے جاسکیں، کیونکہ انقرہ کو کسی نہ کسی طرح بعض مسلم ممالک میں حمایت حاصل ہے، جس کی بنیاد پر اردوغان امریکہ کیلئے زیادہ موزوں ثابت ہوسکتے ہیں، کابل ائیر پورٹ کا کنٹرول ترکی کے حوالے کرنے کا اقدام بھی اسی منصوبہ کا حصہ ہوسکتا ہے۔ چند روز قبل ترک صدر کا ایک اہم بیان سامنے آیا، جس میں انہوں نے طالبان کی طرف سے ترک فوجیوں کو کابل کا ہوائی اڈہ نہ چھوڑنے کی صورت میں نتائج کی دھمکی پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’طالبان کو اپنے بھائیوں کی سرزمین پر قبضہ ختم کرنا چاہیئے اور دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہے، طالبان کا رویہ ویسا نہیں جو مسلمانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ ہونا چاہیئے۔‘‘

گذشتہ ہفتے طالبان نے ترکی کو ان منصوبوں کے خلاف متنبہ کیا تھا کہ کابل کے ہوائی اڈے کو چلانے کے لیے افغانستان میں کچھ فوجی رکھے جائیں اور اس حکمت عملی کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے نتائج کی دھمکی دی تھی۔ افغان طالبان کا کہنا ہے کہ دوحہ معاہدے میں اس بات پر اتفاق رائے ہوا تھا کہ تمام غیر ملکی قوتیں اگست 2021ء کی ڈیڈ لائن تک افغانستان سے انخلا مکمل کر لیں گی۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے ساتھ ساتھ تمام متعلقہ ممالک بشمول ترکی، جس کے وزیر خارجہ اس معاہدے پر دستخط کے وقت وہاں موجود تھے، نے اس فیصلے کی تائید کی تھی۔
طالبان کے مطابق مگر اب چونکہ ترکی کی قیادت نے امریکہ کے کہنے پر افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے اور افغانستان پر قبضہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے،
لہذا ہم کسی بھی ملک کے ذریعے اپنے وطن میں غیر ملکی افواج کے قیام کو قبضہ مانتے ہیں اور ایسے حملہ آوروں کے ساتھ (انخلا کی ڈیڈلائن کے بعد) سنہ 2001ء میں جاری ہونے والے پندرہ سو ممتاز علماء کے فتوے کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔ یہ وہی فتویٰ ہے جس کے تحت گذشتہ 20 برسوں سے جہاد کیا گیا ہے۔

نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں انقرہ کی مداخلت کا خیر مقدم کرتے ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ترکی بحیثیت ایک مسلم اکثریتی ملک ہندوکش میں ثالث کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ نیٹو حکام کے موقف کے برعکس اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو نیٹو میں شامل تقریباً تمام ممالک کی افواج افغانستان سے دستبردار ہوچکی ہیں، جبکہ اشرف غنی حکومت بہت حد تک تنہاء اور کمزور نظر آ رہی ہے۔ ایسے میں ترکی خود کو ایک نئی محافظ قوت کے طور پر تو ضرور پیش کر رہا ہے اور اس خلا کو پُر کرنا چاہتا ہے، لیکن طالبان کی جانب سے واضح پیغام آنے کے بعد طیب اردوغان ’’خوش فہمی‘‘ پر پانی پھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ترکی افغان افواج کو ٹریننگ دینے اور خانہ جنگی کو روکنے کا کردار ادا کرنے کے بہانے افغانستان میں موجود رہنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا، تاہم درحقیقت موجودہ صورتحال میں ترکی کا یہاں موجود رہنا امریکی منصوبوں کی تکمیل کا حصہ تصور ہوگا۔ طیب اردوغان فلسطین، عراق اور شام کے بعد اب افغان عوام کیساتھ بھی خیانت کرنے پر تلے ہوئے ہیں، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانستان کو اس وقت بغیر کسی بیرونی ڈکٹیشن کے اپنے فیصلے آپ کرنے دیئے جائیں تو بہتر ہوگا۔

جملہ حقوق بحق مصنف و ناشرمحفوظ ہیں .
آواز دینی ہم آہنگی، جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف یا ناشر کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں. آپکے عظیم خیالات ہمارے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں، لہٰذا ہم نہیں چاہتے کہ برے الفاظ کے چناؤ کی بنا پر ہم انہیں ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیں. امید ہے آپ تہذیب اور اخلاق کا دامن نہیں چھوڑیں گے. اور ہمیں اپنے علم سے مستفید کرتے رہیں گے.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں