اسرائیلامریکہبین الاقوامیتارکین وطنروسسعودی عربفلسطینقطرمتحدہ عرب اماراتیمن

سعودی عرب اور متحدہ عرب کے مابین کشیدگی کا ماحول اور اوپیک ممالک کا لائحہ عمل

اوپیک پلس  کے نام سے منسوب  دنیا کے  پیٹرول پیدا کرنے والے  ممالک  کی جانب سے پیٹرول کے کوٹے  سے متعلق اجلاس میں سعودی عر ب اور متحدہ عر ب امارات کے درمیان پیدا ہونے والے تناؤ  نے  دونوں ممالک کے مابین مسائل کو منظر ِ عام  لایا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان قائم  حکمت عملی شراکت داری کے باوجود  خاصکر حالیہ ایام میں متعدد معاملات  میں تضادات کا جنم لینا حتیٰ تصادم تک  نوبت آنا خلیج  کے اندر توازن کے بارے میں اہم سطح کے سوالیہ نشانات  پیدا کررہا ہے۔

سیتا خارجہ پالیسی امور کے تحقیق دان جان اجون کا اس موضوع پر جائزہ ۔۔۔۔

اوپیک پلس  کے نام سے منسوب اوپیک کے  ارکان اور روس    کی جانب سےتشکیل دیا  گیا ایڈ ہاک ڈھانچہ  ایک طویل مدت سے مانگ و ترسیل  کے توازن  کو قائم کرتے ہوئے تیل کے نرخوں کو ایک نمایاں سطح پر برقرار رکھنے  میں کوشاں تھا۔  خاصکر   امریکی  راک پیٹرول  پیدا کرنے والوں کی جانب سے اپنی پیداوار میں اضافہ کرنے پر  اوپیک پلس کے ارکان کا   بتدریج  منڈی میں اپنے حصے کو کھونے  اور نرخوں میں استحکام  کے درمیان  پھنس کر رہ جانے  کا مشاہدہ ہو رہا ہے تو بھی  یہ ارکان کسی نہ کسی طریقے سے تعاون کو جاری رکھنے میں کامیاب  رہے تھے۔ تاہم نئی مساوات میں  متحدہ عرب امارات کا اس پر ثبت کردہ پیداواری کوٹے سے  کہیں زیادہ  تیل پیدا کرنے کی کوششیں سعودی عرب کو سنگین سطح پر اشتعال دلا رہی ہیں۔ سعودی وزیر تیل  کی جانب سے غیر متوقع طور پر متحدہ عرب امارات کو ہدف بنانے کے بعد دو طرفہ الزام تراشیوں کاسلسلہ جاری رہا۔

کئی ماہرین کا دعوی ہے کہ یہ معاملہ محض اوپیک پلس کے پیداواری کوٹے  تک محدود نہیں بلکہ ان دونوں ممالک کے مابین  سنجیدہ سطح کی کشیدگی جنم لینے لگی ہے۔ مسئلہ فلسطین   کے حوالے سے قطر اور یمن  جیسے معاملات  میں بھی دونوں فریقین کے درمیان تضادات پیدا ہونے کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔

در اصل ٹرمپ کے دور میں اسرائیل اور یہودیوں   کی رہنمائی میں متحدہ عرب امارات اور سعودی  عرب کا اتحاد  نمایاں رہا تھا اور علاقے سے متعلق تمام تر  سٹریٹیجک معاملات میں یہ اتحاد ملک کر کاروائیاں کر رہا تھا۔ امارات کے محمد بن زید اور ان کے زیر اثر ہونے  کے طور پر بیان کردہ سعودی ولی عہد پرنس محمد بن سلمان  ان  پالیسیوں کے    نمایاں کردار کے طور پر ابھرے تھے۔   تا ہم  اس مساوات میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے  مفادات   سعودی عرب کی نظروں کے سامنے  ٹھوس ماہیت  اختیار  کر رہے  ہیں تو  شاہی خاندان کے اندر اس کے برخلاف رد عمل بھی بڑھا ہے۔  خاصکر فلسطین اور یمن کے معاملات میں  اہم سطح کی دوڑ شروع ہو گئی۔ ٹرمپ  کے صدارتی  کرسی کو کھونے کے بعد نتن یاہو حکومت   کی تحلیل  سے اتحاد  منتشر ہوا  تو  سعودیوں نے اپنے مفادات کو   اولیت دینی شروع کر دی۔ مسئلہ فلسطین میں اسرائیل  کی حمایت  کے مؤقف سے پیچھے ہٹنے  کے وقت قطر کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات بھی معمول پر آنے لگے ۔ یمن میں متحدہ عرب امارات    نے حوثیوں کے خلاف محاذ آرائی سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ سعودی حکام نے امارات کو علیحدگی پسند جنوبی محاذ کی پشت پناہی کرنے کا مورد ِ الزام ٹہرایا تو یہ تمام تر عوامل اوپیک پلس اجلاس کے بعد کافی حد تک منظر عام پر آچکے ہیں۔

یہ سوچ ذی فہم نہیں ہو گی کہ یہ دونوں ممالک جھڑپ اور  دو طرفہ جہدوجہد کے  دور میں داخل ہوں گے، لیکن  یہ کہنا   ممکن ہے کہ اب کے بعد خاصکر سعودی عرب  ذاتی  مفادات  کے محور پر  حرکت کرے گا اور متعدد معاملات میں ایک مختلف لائحہ عمل کو اپنائے گا۔  علاوہ ازیں  محمد بن سلمان اس  سلسلے  سے منفی طور پر متاثر ہوں  گے اور اس  پیش رفت کے نتائج انہیں بھگتنے پڑیں  گے۔

سیتا خارجہ پالیسی امور کے تحقیق دان جان اجون کا اس موضوع پر جائزہ

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں