برطانیہبھارتتجارتتعلیمحقوقخواتینروسصنعتفیشنکاروبارکالم و مضامینکرکٹمیگزیننیپال

راج کندرا: ایک بس کنڈکٹر کے بیٹے کا ہیروں کے کامیاب تاجر سے مبینہ فحش فلمیں بنانے کے الزامات تک کا سفر

– کالم و مضامین –

راج

پروڈپ گوہا / گیٹی امیجز

بمبئی پولیس نے بالی وڈ اداکارہ شلپا شیھٹی کے شوہر اور معروف بزنس مین راج کندرا کو مبینہ طور پر پورن فلمیں بنانے اور انھیں موبائل ایپس پر نشر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

منگل کو انھیں عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے راج کندرا کو 23 جولائی تک پولیس تحویل میں دے دیا ہے۔

ممبئی پولیس کے مطابق فروری 2021 میں کرائم برانچ میں ایک کیس درج کیا گیا تھا۔ راج کندرا کو اسی معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا تھا اور ان سے سات آٹھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کرنے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ راج کندرا پورن فلموں کے اس مبینہ معاملے میں اہم ملزم ہیں اور پولیس کے پاس ان کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔

پولیس نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ اس کیس کی تفتیش ابھی جاری ہے۔ ابھی تک راج کندرا کے گھر والوں یا شلپا شیٹھی کی طرف سے کوئی بیان جاری نہیں گیا ہے۔

رواں برس فروری میں ممبئی پولیس کی ایک ٹیم نے مٹی کے گرین پارک بنگلے پر چھاپہ مارا تھا۔ وہاں فحش فلموں کی شوٹنگ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد پولیس نے یہ کارروائی کی۔ اس دوران پولیس نے پانچ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ گرفتار افراد دو اداکار اور دو نوجوان خواتین بھی شامل ہیں۔

پولیس نے عدالت میں کیا کہا؟

راج

سال

عدالت میں پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ راج کندرا مبینہ فحش فلمیں بنا کر بہت پیسہ کما رہے ہیں اور اس لیے ان کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت ہے تاکہ تفتیش کو آگے بڑھایا جائے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ تفتیش سے انکشاف ہوا ہے کہ راج کندرا ’ہاٹ شاٹس‘ ایپ کے کام سے باخبر رہنے اور مالی لین دین کے بارے میں باقاعدگی سے اپ ڈیٹ لے رہے تھے۔ انھوں نے تین واٹس ایپ گروپ بھی بنائے جن کے ایڈمن وہ خود تھے۔ ان گروپس میں ہاٹ شاٹ کلپ شیئر ہوتے، ان کے متعلق تبادلہ خیال کے علاوہ کلپس شیئر کرنے اور مالی لین دین سے متعلق بھی بات چیت کی جاتی تھی۔

راج کندرا نے آرمز پرائم میڈیا کے ذریعے کارنین کے لیے ہاٹ شاٹس ایپ تیار کی تھی جسے کارنین کمپنی کو فروخت کر دیا گیا۔ اس کے بعد کندرا نے اسلحہ ساز کمپنی آرمز پرائم سے استعفیٰ دے دیا۔

کندرا نے مبینہ طور پر فحش فلموں سے پیسہ کمانے کے لیے ایک کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد انھوں نے لندن میں قائم کمپنی کو ہاٹ شاٹس ایپ فروخت کی۔

پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ راج کندرا کے آفس سے بھی کچھ فحش فلمیں برآمد ہوئی ہیں۔

راج کندرا کا پیشہ ورانہ سفر

کندرا جو مختلف کرداروں میں نظر آتے ہیں جیسا کہ ہیرے کے تاجر، پشمینہ شال بنانے والے، آئی پی ایل ٹیم کے شریک مالک اور بہت کچھ۔ اور لگ بھگ اس سب معاملات میں وہ تنازعات میں گھرے نظر آتے ہیں۔

بی بی سی ہندی کے مطابق راج کندرا پر جوا کھیلنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

راج کندرا کے والد ایک برطانوی شہری ہیں جو لدھیانہ سے برطانیہ نقل مکانی کر گئے تھے۔

راج

پروڈپ گوہا / گیٹی امیجز

راج کندرا کے والد برطانیہ میں بس کنڈکٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے وہاں ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔ راج کی والدہ ایک دکان میں اسسٹنٹ کی حیثیت سے کام کرتی تھیں۔ کُندرا نے سکول کی تعلیم تو حاصل کی مگر کالج کی پڑھائی وہ مکمل نہ کر سکے۔

راج کندرا کے مطابق نیپال کے ایک دورے کے بعد ان کی زندگی بدل گئی۔ اس دورے کے دورے کے دوران انھوں نے نیپال سے پشمینہ شالیں خرید کر برطانیہ میں فروخت کیں اور وہیں سے ان کے کاروباری سفر کی ابتدا ہوئی۔ ان کے مطابق اس کاروبار سے پہلے ہی سال میں انھوں نے تقریباً دو کروڑ پاؤنڈ کا منافع کمایا۔

اور پھر آہستہ آہستہ راج نے ہیروں کی تجارت شروع کر دی۔ انھوں نے بیلجیئم اور روس جیسے ممالک میں تجارت شروع کی۔ انھوں نے ’آر کے کلیکشنز لمیٹڈ‘ کے نام سے ایک کمپنی شروع کی۔ اس کمپنی کے ذریعے راج نے لندن میں فیشن ہاؤسز کو مہنگے کپڑے بیچنا شروع کر دیے، اور اس طرح وہ اس صنعت میں ترقی کی منازل طے کرتے گئے۔

راج کندرا پراپرٹی، کان کنی، سپورٹس، سٹاک مارکیٹ اور ہوٹلنگ جیسے کئی شعبوں میں کاروبار کر رہے ہیں۔ انھوں نے بالی وڈ میں فلمسازی پر بھی پیسہ لگایا۔ آئی پی ایل کی ٹیم راجستان رائلز کی ملکیت میں بھی وہ حصے دار تھے۔

کہا جاتا ہے کہ راج کندرا کے لیے ایک معمولی شخص سے امیر بننے کا سفر آسان نہیں تھا۔ مثال کے طور پر وہ اپنی کالج کی تعلیم مکمل نہیں کر سکے اور پھر صرف ڈیڑھ لاکھ روپے کے قلیل سرمائے سے اپنا پہلا کاروبار شروع کیا۔

زندگی کا اندرونی

راج

ملٹی شیلٹ / گیٹی امیج کے ذریعہ انڈیا ٹوڈے گروپ

سنہ 2004 میں سکسیس میگزین نے انھیں برطانیہ کے ایشیئن نسل کے امیر ترین لوگوں کی فہرست میں 198ویں نمبر پر رکھا۔ 29 سالہ راج اس وقت سب سے کم عمر شخص تھے جو اس فہرست میں شامل کیے گئے۔

کُندرا کی پہلی شادی کوویتا سے ہوئی تھی۔ راج اور کویتا میں تین سال بعد سنہ 2009 میں طلاق ہو گئی تھی۔ اس شادی سے ان کے ہاں ایک بیٹی بھی پیدا ہوئی جس کا نام دلینا ہے۔

اس کے بعد ان کی ملاقات شلپا شیٹھی سے ہوئی جو ان دنوں ’بگ برادر‘ ٹی وی شو میں شرکت کے لیے لندن میں تھیں۔ آہستہ آہستہ وہ دونوں قریب آ گئے۔

شلپا اور کندرا نے نومبر 2009 میں شادی کی تھی اور اسی سال راج نے آئی پی ایل ٹیم راجستھان رائلز میں 11.7 فیصد حصص خریدے تھے۔

شلپا اور راج کی شادی 22 نومبر 2009 کو ہوئی۔ 21 مئی 2012 کو ان کا ایک بیٹا پیدا ہوا تھا جس کا نام ویون ہے۔ سنہ 2020 میں راج اور شلپا کی ایک بیٹی ہوئی جس کا نام ریویو ہے۔ راج شلپا شیٹی فاؤنڈیشن کے نام سے ایک رفاہی تنظیم بھی چلاتے ہیں۔

کویتا کا الزام ہے کہ شلپا ان کی طلاق کی ذمہ دار ہیں۔

بہت ساری صنعتیں، بہت سے تنازعات

کندرا نے آن لائن ٹی وی پلیٹ فارم میں بھی سرمایہ کاری کی ہے۔ پلیٹ فارم کو ’بیسٹ ڈیل‘ ٹی وی کہا جاتا تھا۔ بعد میں کندرا کا یہ کاروبار قانون کی گرفت میں آ گیا۔

یہ بھی پڑھیے

اداکارہ شلپا شیٹھی کے شوہر راج کندرا پورن فلمیں بنانے کے الزام میں گرفتار

انڈیا میں لوگ سیکس کے بارے میں بات نہیں کرتے، سو میں ان کی مدد کرتی ہوں‘

’میرا کام ایکشن ڈائریکٹر کی طرح ہے مگر سیکس سینز کے لیے‘

سنہ 2012 میں کندرا نے سپر فائٹ لیگ کا آغاز کیا۔ اداکار سنجے دت کندرا کے بزنس پارٹنر تھے۔ تاہم لیگ چل نہ سکی۔ کُندرا برطانیہ میں ’ٹریڈکراپ لمیٹڈ‘ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر بھی ہیں۔

بٹ کوائن فراڈ

راج کندر کو سنہ 2018 میں مبینہ بٹ کوائن سکینڈل کے سلسلے میں بھی طلب کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دو ہزار کروڑ کا بٹ کوائن سکینڈل ہے جس کی تفتیش اب بھی جاری ہے۔

راج کندرا سمن جاری ہونے کے بعد پانچ جون 2018 کو ای ڈی آفس پہنچے جہاں اُن سے تفتیش کی گئی۔

2017 میں راج کندرا کا نام ایک اور فراڈ میں لیا گیا۔ ان کا اور شلپا شیٹھی کا نام ایک ایسے معاملے میں منظر عام پر آیا جب آن لائن شاپنگ کے ذریعے ایک تاجر سے لاکھوں روپے لوٹ لیے گئِے۔

شلپا شیٹی، راج کندرا اور ان کے تین ساتھیوں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

راج

اجے اگروال / ہندوستان ٹائمز بذریعہ گیٹی امیجز

راج کندرا نے اپنی بیوی شلپا شیٹھی کے نام سے بیسٹ ڈیل ٹی وی کمپنی کے ذریعہ مختلف کمپنیوں کے آن لائن شاپنگ پراڈکٹس کا کاروبار شروع کیا۔ روی موہن لال بھالیریا نامی ایک تاجر نے بزنس میں منافع کمانے کے لیے بیسٹ ڈیل ٹی وی کمپنی کے توسط سے پانچ کروڑ روپے کی بیڈ شیٹس کا آرڈر دیا تھا۔

بھلیریہ نے الزام لگایا تھا کہ اس سودے میں 23 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی ہوئی ہے۔ شلپا شیٹھی، ان کے شوہر راج، درشیت شاہ، ادے کوٹھاری اور ویدنتا وکاس بالی کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ایک صنعت کار نے مارچ 2020 میں شلپا شیٹھی اور راج کے خلاف شکایت درج کروائی تھی۔ یہ معاملہ سونے کی تجارت کرنے والی کمپنی ستیوگ گولڈ پرائیوٹ لمیٹڈ (ایس جی پی ایل) سے متعلق تھا۔

راج کندرا کمپنی کے سابقہ ​​ڈائریکٹر تھے۔ ممبئی کے کھر پولیس سٹیشن میں جوشی نے شلپا شیٹھی اور راج، گنپتی چودھری، محمد سیفی اور دیگر ایس جی پی ایل عہدیداروں کے خلاف دھوکہ دہی کی شکایت درج کروائی تھی۔ سچن جوشی کی راج اور شلپا شیٹھی کے ساتھ 2014 میں ایک معاملے کو لے کر بحث ہوئی تھی۔

جرائم پیشہ افراد سے تعلق کے الزامات

راج پر انڈر ورلڈ ڈان اقبال مرچی سے مبینہ تعلقات رکھنے کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔ کندرا نے اگرچہ ان الزامات کی تردید کی تھی تاہم وہ اس حوالے سے ہونے والی تفتیش کا حصہ رہے تھے۔

لائف ٹائم پابندی اور آئی پی ایل جوئے کے کیس میں کلین چٹ

فن لینڈ

آئی اسٹاک / بی بی سی تھری

راج کندرا اور شلپا شیٹھی انڈین پریمیر لیگ میں راجستھان رائلز کے مشترکہ مالک تھے۔ اس جوڑے نے سنہ 2009 میں راجستھان رائلز میں سرمایہ کاری کی تھی۔

جولائی 2015 میں سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل دی گئی تین رکنی کمیٹی نے بی سی سی آئی کے سابق صدر پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی تھی۔

2015 میں بی سی سی آئی کے اس وقت کے صدر سری نواسن کے داماد اور چنئی سپر کنگز کے ٹیم پرنسپل گرووناتھ مییاپن اور راجستھان رائلز کے شریک مالک راج کندرا پر سپاٹ فکسنگ اور میچ سے متعلق معلومات دینے کا الزام تھا۔

اگرچہ کندرا پر پابندی عائد ہوئی مگر بعد میں دہلی پولیس نے ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے کندرا کو کلین چٹ دے دی تھی۔

اس وقت کندرا کا کہنا تھا ’میری تاحیات پابندی ختم کی جانی چاہیے۔ مجھے عدلیہ پر اعتماد ہے۔ ہم نے عدالت میں بتایا ہے کہ دہلی پولیس نے آر ٹی آئی کے جواب میں کیا کہا ہے۔ اگر پولیس نے مجھے کلین چٹ دے دی ہے تو پھر مجھ پر پابندی کیوں لگائی جائے؟ کیا آپ کو مزا آ رہا ہے؟‘

کندرا کا کہنا تھا ’پابندی نے میرے کردار کو داغدار کر دیا ہے۔ میرے پاس آئی پی ایل میں دوسری ٹیموں کے تمام مالکان سے کم رقم تھی۔ بغیر کسی ثبوت کے میرے خلاف کارروائی کی گئی۔ یہ سب بہت تکلیف دہ تھا۔ آپ نے دیکھا ہے کہ میں راجستھان رائلز سے کتنا جڑا ہوا ہوں۔ میرے جذبات غلط نہیں ہیں۔‘

اس وقت کندرا کا یہ بھی کہنا تھا ’مجھے لگتا ہے کہ جوئے کو قانونی حیثیت دی جانی چاہیے۔ یہ سمجھنا بے وقوفی ہے کہ کوئی جوا نہیں لگا رہا ہے۔ اگر جوا نہ لگایا گیا تو بہت سارے شائقین کرکٹ دیکھنا چھوڑ دیں گے۔ ہر میچ میں چار ہزار سے پانچ ہزار کروڑ کا کاروبار ہوتا ہے۔ جوئے کو قانونی حیثیت دینے کا وقت آ گیا ہے۔‘

بی بی سی کی تازہ ترین پوسٹس (تمام دیکھیں)

بی بی سی کی دیگر تحریریں

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں .
آواز جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں