بین الاقوامیپاکستانپشاورتارکین وطنکراچیکوئٹہلاہور

سندھ: کیا سابق صدر کی میت کے لیے بھی سرکاری ایمبولینس نہیں؟

کراچی میں اتوار کو انتقال کر جانے والے سندھ کے ممتاز سیاست دان ممتاز بھٹو کی میت کو کراچی سے لاڑکانہ میں ان کے آبائی گاؤں لے جانے کے لیے کوئی سرکاری ایمبولینس موجود نہیں تھی۔

ان کی میت کو ایک نجی ایمبولینس میں لاڑکانہ لے جایا گیا۔ اس سے پہلے گذشتہ ہفتے کراچی میں انتقال کر جانے والے سابق صدر پاکستان اور سابق گورنر سندھ ممنون حسین کی میت کے لیے بھی کوئی سرکاری ایمبولینس نہ ملی۔

ان کی میت کو فلاحی ادارے چھیپا کی ایمبولینس میں ہسپتال سے گھر اور بعد میں گھر سے چھیپا کے سرد خانے پھر قبرستان تک لے جایا گیا۔

ممتاز بھٹو 1971 میں گورنر سندھ، 1972 میں وزیر اعلیٰ سندھ اور 1996 میں نگران وزیراعلی سندھ رہے۔ وہ دو بار قومی اور دو بار صوبائی اسمبلی کے رکن رہے۔

ممتاز بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے کزن تھے اور ذوالفقار علی بھٹو انھیں ‘ٹیلنٹڈ کزن’ کے نام سے پُکارتے تھے۔

ان کی میت لاڑکانہ کے ضلعے میں واقع ان کے آبائی گاؤں میر پور بھٹو لے جانے کے لیے ‘کراچی ایمبولینس سروس’ کی ایک نجی کمپنی کی ایمبولینس لی گئی۔

‘کراچی ایمبولینس سروس’ کے اہلکار شاہد سندھو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ممتاز بھٹو کی میت ہماری ایمبولینس میں لے جائی گئی۔ کراچی سے لاڑکانہ میت لے جانے کے لیے ہم 25 ہزار روپے لیتے ہیں، مگر ممتاز بھٹو کے پاس کام کرنے والے ہمارے جاننے والے ہیں، تو ہم نے کوئی پیسے نہیں لیے۔’

انہوں نے مزید بتایا کہ ممنون حسین کی میت کو لے جانے کے لیے ان کی سروس کی ایک ایمبولینس بھیجی گئی تھی۔ ’ہم نے ایمبولینس بھیجی تھی مگر ان کے گھر والوں نے کہا وہ میت چھیپا ایمبولینس میں لے جائیں گے۔‘

پاکستان میں سابق صدور، وزرائے اعظم، گورنرز اور دیگر ’سٹیس مین‘ کی تدفین کے لیے ریاست کے کیا پروٹوکولز ہیں؟

یہ جاننے کے لیے ماہر قانون اور سابق ایڈووکیٹ جنرل سندھ بیرسٹر ضمیر گھمرو سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا ’سٹیس مین کی تدفین کے لیے آئین میں کچھ نہیں لکھا ہوا کہ ریاست ان کی تدفین کرانے کی پابند ہے۔ البتہ ‘سٹیٹ فیونرل’ یا ریاست کی جانب سے کسی شخصیت کی تدفین کی رسومات ایک الگ بات ہے۔ جس میں ریاست جسے چاہے اس کی ریاستی تدفین کرسکتی ہے۔‘

وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان عبدالرشید چنا نے انڈپیندنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ممنون حسین صدر پاکستان رہے، اس لیے ان کی وفات کے بعد ایمبولینس سمیت سارا پروٹوکول وفاقی حکومت نے کرنا تھا۔ اس کے علاوہ اگر خاندان والے سندھ حکومت کو کہتے تو سندھ حکومت ضرور انتظام کرتی۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’سب سے پہلے سندھ حکومت نے پروٹوکول افسر ظفر ہاشمی کو ان کے گھر بھیجا تھا تاکہ میت کے انتظامات کیے جا سکیں مگر خاندان والوں نے میت دفنانے سمیت کوئی بھی معلومات نہیں دی۔‘

ممتاز بھٹو کی میت کے لیے سندھ حکومت کی ایمبولینس نہ ملنے کے سوال پر عبدالرشید چنا نے کہا: ’ممتاز بھٹو جیسے امیر آدمی کے لیے سرکاری ایمبولینس چاہیے؟‘

سوشل میڈیا سائٹس پر سندھ کی ایسی وائرل ویڈیوز جن میں مریض کو چنگچی رکشا یا گدھا گاڑی پر ہسپتال لے جاتے دیکھا جاتا ہے، پرعبدالرشید چنا نے کہا: ’سندھ میں ہی نہیں پورے پاکستان میں یہ ایک کلچر ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایمبولینس آنے میں دیر لگے گی یا پھر ایمبولینس کو پیسے ادا کرنے ہوں گے اس لیے جو سواری ملی اس پر ہی مریض کو ہسپتال لے جایا جاتا ہے ورنہ سندھ میں ایمبولینس کی کمی نہیں۔‘

امیروں کے لیے کراچی میں نجی وی آئی پی ایمبولینس سروس

کراچی میں سرکاری طور پر ایمبولینس سروس کے فقدان کے باعث کئی نجی ایمبولینس سروسز کام کرتی ہیں، جن میں ‘کراچی ایمبولینس سروس’ بھی ایک ہے۔

کراچی ایمبولینس سروس کے اہلکار شاہد سندھو نے بتایا کہ ان کے پاس جدید اور نئے ماڈل کی ایمبولینسز ہیں اور زیادہ تر سیاست دان اور امیر لوگ ان سے ایمبولینس لیتے ہیں۔

’ہماری ایمبولینس سروس وی آئی پی ہے۔ ہم نے پروفیشنل ڈرائیور رکھے ہیں، گاڑی اچھی ہوتی ہے، جس کے ٹائر سمیت پوری گاڑی کو ریگولر بنیادوں پر چیک کیا جاتا ہے۔ ہم 25 روپے فی کلومیٹر چارج کرتے ہیں۔’

شاہد سندھو کے مطابق ایک بڑے میڈیا گروپ کے مالک کی والدہ کو گذشتہ ایک ماہ سے میڈیکل چیک اپ کے لیے گھر سے ہسپتال ان کی گاڑی لے جاتی ہے۔

سندھ میں ایمبولینس سروس مہیا کرنے والے ادارے

سندھ میں ایمبولینسز کی اکثریت ایدھی فاؤنڈیشن، چھیپا فاؤنڈیشن، الخدمت فاؤنڈیشن، جے ڈی سی اور دیگر فلاحی اداروں کی ہیں جو کراچی سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں سروسز فراہم کرتے ہیں۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے سعد ایدھی نے بتایا کہ صرف کراچی شہر میں ایدھی ایمبولینسز کی تعداد 450 ہے، جب کہ صوبے کے دیگر اضلاع میں تحصیل کی سطح پر ایدھی مراکز ہیں اور ہر مرکز پر ایک سے دو ایمبولینسز کام کرتی ہیں۔

چھیپا فاؤنڈیشن کے ترجمان چوہدری شاہد حسین کے مطابق سندھ  بھر میں چھیپا فاؤنڈیشن کی 1000 ایمبولینسز سروس فراہم کرتی ہیں۔

جے ڈی سی فاؤنڈیشن کے ٹرانسپورٹ انچارج حسنین کے مطابق ان کے پاس سندھ بھر میں 30 ایمبولینس ہیں۔

حسنین نے بتایا: ’ان 30 ایمبولینس میں 22 کراچی میں جبکہ آٹھ سکھر، نواب شاہ، حیدرآباد سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں ہیں۔‘

باقی تینوں صوبوں کی ریسکیو سروس

سندھ کے علاوہ پاکستان کے تینوں صوبوں میں میڈیکل ایمرجنسی، ریسکیو کرنے، کسی حادثے، آگ کے واقعے یا کسی قدرتی آفت میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو سروس کئی سالوں سے چل رہی ہے۔ پنجاب نے 2006 میں ریسکیو 1122 شروع کی تھی۔

حکومت پنجاب نے گذشتہ ماہ ایک نوٹیفکیشن نکال کر پنجاب ایمرجنسی سروس کو ایک خود مختار ادارہ بنا دیا ہے، جس کا سربراہ یعنی ڈی جی ریسکیو 1122 ایک 22 گریڈ کا سرکاری افسر ہوگا۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ پنجاب کی 86 تحصیلوں میں رواں برس ایمرجنسی سروس کے علاوہ 27 اضلاع میں موٹر بائیک ایمبولینس سروس  اور دور دراز اور دشوار گزار راستوں پر بروقت رسپانس کے لیے ایئر ریسکیو سروس شروع کی جائے گی۔

پنجاب میں کسی بھی جگہ پر حادثہ ہونے یا ایمبولینس کی ضرورت پڑنے پر ریسکیو 1122 صرف سات منٹ میں ایمبولنس پہنچانے کا دعویٰ کرتی ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے 2009 میں جبکہ بلوچستان حکومت نے 2019 میں ریسکیو سروس کا آغاز کیا جب کہ سندھ میں تاحال ریسکیو سروس کا آغاز نہیں ہوسکا۔

سندھ کی سرکاری ایمبولینس سروس کے پاس 85 ایمبولنسز

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سندھ کی واحد سرکاری ایمبولینس سروس امن ہیلتھ کیئر سروسز کے پاس کراچی کے سات اضلاع، ٹھٹھہ، سجاول اور حیدرآباد سمیت 10 اضلاع کے لیے صرف 85 ایمبولینسز کام کررہی ہیں۔

سندھ حکومت کی فنڈنگ سے چلنے والے امن فاؤنڈیشن کے زیرانتظام امن ہیلتھ کیئر سروسز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد نوید نے بتایا کہ یہ ایمبولینس سروس بالکل مفت ہے جو سڑک پر کسی حادثے، گھر سے ہسپتال یا ہسپتال سے گھر مریضوں کو منتقل کرنے کا کام کرتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عابد نوید نے بتایا: ’اس وقت امن ہیلتھ کیئر سروسز کے پاس کراچی کے لیے 60 ایمبولینسز اور ٹھٹھہ، سجاول اور حیدرآباد کے لیے 25 ایمبولینسز ہیں۔‘

ترجمان وزیر اعلیٰ سندھ عبدالرشید چنا کے مطابق سندھ کے تمام اضلاع میں ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر موجود تمام ہسپتالوں میں ایمبولینسز موجود ہیں۔

’کراچی، ٹھٹھہ، سجاول اور حیدرآباد میں امن ہیلتھ کیئر سروسز کی ایمبولنس سمیت ان اضلاع میں سرکاری طور پر چلنے والی ایک اور سروس ‘سندھ پیپلز ایمبولنس سروس’ کی 200 سے زیادہ ایمبولینسز فعال ہیں۔‘

دوسری جانب محکمہ سندھ کے ترجمان عاطف وگھیو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سندھ بھر میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال اور یونین کونسل سطح پر موجود رورل ہیلتھ سینٹر اور بیسک ہیلتھ مراکز پر دسمبر 2019 تک سرکاری ایمبولینسز کی تعداد 669 تھی جن میں سے 168 گاڑیاں خراب تھیں۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں