امریکہایوی ایشنحقوقخواتینسیاحتصنعتکالم و مضامین

’10 منٹ میں خلا کا سفر‘: جیف بیزوس نے اپنے راکٹ پر خلا کا مختصر دورہ کر لیا

– کالم و مضامین –

پال رنکن – سائنس ایڈیٹر، بی بی سی نیوز

ارب پتی بزنس مین جیف بیزوس نے خلا میں اپنا مختصر سفر مکمل کر لیا ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ’نیو شیپرڈ‘ نامی راکٹ کے ذریعے انسانوں نے خلا کا سفر طے کیا۔

خلا میں بیزوس کے ساتھ ان کے بھائی مارک بیزوس بھی گئے جبکہ اس سفر پر 82 سالہ ویلی فنک بھی موجود تھیں جو خلائی دوڑ میں اپنی مخصوص خدمات کے لیے جانی جاتی ہیں۔ ان سب کے ساتھ ایک 18 سالہ طالب علم بھی تھے۔

انھوں نے ایک ایسے کیپسول میں سفر کیا جس کی کھڑکیاں اب تک خلا میں جانے والے جہازوں میں سب سے بڑی ہیں۔ یقیناً اس سے زمین کے دلفریب نظارے دیکھنے کو ملے۔

جب یہ کیپسول 10 منٹ اور 10 سیکنڈ کی پرواز کے بعد واپس زمین پر اترا تو جیف بیزوس نے کہا کہ یہ ‘ان کی زندگی کا بہترین دن تھا۔’

نیو شیپرڈ کو بیزوس کی کمپنی ’بلو اوریجن‘ نے بنایا ہے۔ اس کے چند مقاصد میں سے ایک امیر ترین افراد کے لیے خلا میں سیاحت کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنا ہے۔

ویلی فنک خلا میں جانے والی سب سے معمر شخص بن گئی ہیں۔ جبکہ اس سفر سے طالبعلم اولیور ڈیمین خلا میں جانے والے سب سے کم عمر شخص بن گئے ہیں۔

اس خلائی جہاز نے ٹیکساس میں وین ہورن نامی علاقے میں ایک نجی لانچ پیڈ سے اُڑان بھری۔

بائیں سے: مارک بیزوس ، جیف بیزوس ، اولیور ڈیمین ، والی فونک

نیلی اوریجن
بیزوں سکے ہمراہ خلا میں جانے والے

کامیاب لانچ کے بعد جیف بیزوس نے میڈیا کو بتایا کہ ‘میری توقعات بہت زیادہ تھیں اور اب یہ ڈرامائی انداز میں مزید بڑھ گئی ہیں۔’

اڑان بھرنے کے دو منٹ بعد کیپسول راکٹ سے الگ ہوا اور اس نے اوپر کارمن لائن کی طرف پرواز جاری رکھی۔ اسے خلا کی سرحد سمجھا جاتا ہے جو زمین کی سطح سے قریب 100 کلو میٹر بلند ہے۔ اس موقع پر نئے خلا بازوں نے ‘واؤ’ کہا اور سفر کے دوران محظوظ ہوتے رہے۔

واپسی پر ان خلا بازوں کی ایسی ویڈیوز دکھائی گئیں جن میں وہ خلا میں گریویٹی نہ ہونے کی وجہ سے کلا بازیاں کھا رہے ہیں۔ ان چار منٹوں کے دوران ان کے لیے اپنا وزن نہ ہونے کے برابر تھا۔ اسی ویڈیو میں کھڑکی سے باہر خوبصورت مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔

جیف بیزوس کا کہنا ہے کہ مائیکرو گریویٹی کے احساس نے انھیں حیران کیا۔ ‘ایسا لگا جیسا یہ عام سی بات ہے۔’

ویلی فنک کہنے لگیں: ‘یہ زبردست تھا۔ مجھے بہت پسند آیا۔ میں دوبارہ یہ کرنے کے لیے بیتاب ہوں۔

مغربی ٹیکساس کے صحرا میں جس لمحے کیپسول نیچے آیا اس لمحے

نیلی اوریجن
وہ لمحہ جب خلائی کیپسول واپس زمین پر اترا

سنہ 1960 کی دہائی میں ویلی فنک خواتین کے ایسے گروہ کا حصہ تھیں جس کا نام مرکری 13 تھا۔ مرد خلا بازوں کی طرح انھیں بھی آزمائشوں سے گزارا گیا مگر خلا میں جانے کا موقع نہ مل سکا۔

بیزوس نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ‘ویلی ہم سب سے تیز بھاگ سکتی ہیں۔ مرکری 13 کے دوران وہ تمام مردوں سے بہتر تھیں۔ میں اس بات کی ضمانت دے سکتا ہوں کہ یہ آج بھی درست ہے۔’

بیزوس کا کہنا ہے کہ وہ ‘کمزور’ دنیا کے تصور پر غور کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس موجودہ تباہی کے دوران زمین کا محفوظ رہنا بہت اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیو شیپرڈ میں ‘ماحول دوست’ پروپیلنٹ (راکٹ کو توانائی بخشنے والا کیمیائی مادہ) استعمال کیا گیا۔

بیزوس کے کاروباری حریف سر رچرڈ برینسن نے 11 جولائی کو اپنے خلائی جہاز میں سفر کیا تھا۔ بیزوس اور برینسن کو گذشتہ دنوں میں کافی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ خلا میں جانے کے لیے خرچ ہونے والے پیسوں کو ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے یا ارب پتی لوگوں کے ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

برینسن کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ کی مدد سے ہی ‘بارانی جنگلات کی کٹائی، خوراک کی ترسیل، حتی کہ ماحولیاتی تبدیلی’ کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

انفوگرافک

بی بی سی

بیزوس نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ بڑی صنعت کو زمین سے باہر منتقل کرنا چاہتے ہیں تاکہ زمین کو بچا کر اسے ‘نیشنل پارک’ بنایا جاسکے۔

کیپسول نے واپسی سے قبل 107 کلو میٹر کی بلند ترین سطح حاصل کی تھی۔ پیراشوٹ کی مدد سے یہ صحرا میں اترا۔

نیچے اترنے کے دوران بیزوس نے مشن کنٹرول کو بتایا کہ ‘یہاں عملہ بہت خوش ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ کو یہ معلوم ہو۔’

لینڈنگ کے بعد مارک بیزوس کا کہنا تھا کہ ‘میں حیرت انگیز طور پر بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں۔’

انھوں نے بتایا کہ مسافر ایوی ایشن کی تاریخ سے بہت سی اشیا اپنے ساتھ پرواز پر لائے تھے۔ اس میں رائٹ برادرز کے پہلے جہاز میں استعمال ہونے والے کینوس کے ٹکڑے اور 1783 میں گرم ہوا کے پہلے غبارے سے بننے والا میڈل شامل تھے۔

جیف بیزوس اپنی ای کامرس کمپنی ایمازون کی سربراہی سے مستعفی ہوچکے ہیں۔ وہ بلو اوریجن سمیت اپنی دیگر کمپنیوں پر مزید دھیان دینا چاہتے ہیں۔

ان کے 53 سالہ بھائی مارک نیو یارک میں قائم ایک فلاحی ادارے رابن ہوڈ کے سینیئر نائب صدر ہیں۔

چوتھا مسافر ایک سرمایہ کار جوز ڈیمین کا بیٹا ہے جو نیدر لینڈز کی ایک کمپنی سمرسیٹ کیپیٹل پارٹنرز کے بانی ہیں۔ اولیور نے درحقیقت دوسری پرواز میں اپنی سیٹ حاصل کی تھی مگر ایک نیلامی میں کامیاب ہونے والے نامعلوم شخص کی سیٹ انھیں دے دی گئی تھی۔

اس نامعلوم شخص نے بیزوس کے ساتھ خلا میں جانے کے دو کروڑ 80 لاکھ ڈالر دیے تھے۔ مگر شیڈول کے مسائل کی وجہ سے انھوں نے اس سفر سے انکار کردیا تھا۔

بی بی سی کی دیگر تحریریں

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں .
آواز جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں