ایرانتجارتتعلیمحقوقشامصنعتعراقکالم و مضامیننمونیا

جھوٹا خواب خوارزم شاہ کے ہاتھوں چنگیز خان کی شکست اور سچ

– کالم و مضامین –

بخارا سمرقند اور ایران تک پھیلی ہوئی مملکت کے سربراہ جلال الدین خوارزم شاہ نے بہت بڑا اجلاس بلایا تھا۔ مشیر، عمائدین، علما اکرام اور چار بڑی مسجدوں کے خطیبوں کے ساتھ مملکت میں آباد اقلیتوں کو بھی بلایا گیا تھا۔ آج تک خوارزم شاہ نے اس طرح کا مشاورتی اجلاس نہیں بلایا تھا۔ فیصلے وہ خود کرتے تھے یا شاہی خاندان کے افراد سے کبھی کبھار مشاورت ہوجاتی تھی۔ مسلمانوں کی یہ حکومت موثر انداز میں حکمرانی کر رہی تھی اور علاقے پر ان کی مضبوط گرفت تھی۔

خوارزم شاہ کے رویے سے پتا چل رہا تھا کہ وہ انتہائی تشویش میں مبتلا ہیں۔

انہیں ان کے جاسوسوں نے خبر پہنچائی تھی کہ چنگیز خان منگولیا میں ایک بڑی فوج تیار کر رہا ہے۔ منگولوں کی افواج نے قرب و جوار کی ریاستوں میں زبردست جنگ کشی کی تھی اور بڑے ظالمانہ طریقے سے آبادیوں کو تاراج کیا تھا۔ اب ایک بہت بڑی مرکزی منگول حکومت تیار ہو گئی تھی جس کی فوج منظم تھی جو چنگیز خان کی قیادت میں جہاں منگولیا کی ریاست میں عوام کا دل جیت چکی تھی وہاں اس نے منگولوں کے مختلف قبائل کی باہمی رنجشوں کو ختم کر کے ایک مضبوط، متحرک ریاست قائم کردی تھی۔ فوجی مہموں میں حاصل ہونے والے مال غنیمت کی تقسیم کا منظم انتظام تھا۔ فوجیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی اور چنگیز خان کی وفادار لشکر تیار ہو چکی تھی۔

چنگیز خان اپنے بیٹوں جوچی، اوگیڈل، چغتائی، ٹولیو اور الاخائی کو زبردست فوجی تربیت کی تھی اور بھائیوں میں اختلافات کو پروان نہیں چڑھنے دیا تھا۔ چنگیز خان کے ان بیٹوں اور ان کی اولادوں نے دنیا کے ایک بڑے حصے پر حکومت کی۔ چنگیز خان نے اپنے بیٹوں کے ساتھ بیٹیوں کو بھی شامل مشاورت رکھا تھا اور ان کی شادیاں طاقتور جنگجو قبیلوں میں کر کے سیاسی استحکام حاصل کیا تھا۔ اس کی جنگی مہموں میں نہ صرف یہ کہ اس کے بیٹے حصہ لیتے تھے بلکہ بیٹیوں کی مشاورت بھی شامل رہتی تھی۔

خوارازم شاہ نے مشاورت کے دوران حاضرین جلسہ کو آگاہ کیا تھا کہ وہ اپنے جاسوسی کے نظام کو مزید مستحکم کر رہا ہے اور کوشش کر رہا ہے کہ منگولیا اور قراقرم میں موجود جاسوسوں سے روزمرہ کی بنیادوں پر خبریں ملتی رہیں اور منگولوں کی فوجی تیاریوں کے بارے میں مکمل طور پر باخبر رہا جائے۔

خوارزم کی یہ بھی کوشش تھی کہ چنگیز خان سے دوستی کا رابطہ رکھا جائے اور اس قسم کے تعلقات استوار کیے جائیں کہ منگول مسلمانوں کی حکومت اور سلطنت کو دشمن نہ سمجھیں۔ منگولوں کی فتوحات اور بڑھتی ہوئی سلطنت سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ چنگیز خان اپنی فوجی مہموں کو مسلسل جاری رکھے گا۔

بغداد کے بعد بخارا علم و آگہی کا ایک بڑا مرکز تھا جہاں زبردست تعلیمی سرگرمیاں جاری تھیں۔ مسجدوں میں طلبا دینی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم سے استفادہ کر رہے تھے۔ یونانی اور ہندوستانی علوم کا جو ترجمہ بغداد کے دارالحکومت میں ہو رہا تھا وہ بخارا اور سمرقند بھی پہنچ رہا تھا جس پر درس و تدریس کی بڑی بڑی مجلسیں سجائی جاتی تھیں۔ بخارا کے مدرسوں میں بغداد میں ہونے والی تعلیمی بازگشت سنائی دیتی تھی۔

خوارزم شاہ نے فوج کی تربیت پر بھی توجہ دی تھی ایک منظم فوج کی تشکیل دی جا رہی تھی تاکہ اگر منگول حملہ کریں تو انہیں شہروں کے باہر ہی روک کر قتل کر دیا جائے۔ بخارا اور سمرقند کی فصیلوں کو مزید بلند اور مضبوط کیا جا رہا تھا۔ فوج کی تربیت پر توجہ تھی اور بہت کم وقت میں ایک بڑی فوج تیار کرلی گئی تھی۔

اجلاس میں موجود شرکا نے خوارزم شاہ پر اعتماد کا اظہار کیا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ اگر منگولوں نے بخارا پر حملہ کیا تو انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور سمرقند و بخارا حلوہ نہیں ثابت ہوں گے۔ خوارزم کے بیٹے جلال الدین انشا کا خیال تھا کہ منگولوں کے حملے کی صورت میں ہماری فوج کو بخارا سے باہر ان سے لڑ کر انہیں نیست و نابود کرنا چاہیے۔ منگولوں کو اس بات کا موقع دینا ہی نہیں چاہیے کہ وہ شہر میں گھس کر لوٹ مار کریں اور قتل عام کا بازار گرم کریں۔

سچ

چنگیز خان اپنے خیمے کے باہر اپنے مشیروں کے ساتھ اپنے اس خط کے بارے میں بتا رہا تھا جو اس نے خوارزم شاہ کو لکھا تھا۔ اس نے خوارزم کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ میں منگولیا کا ایک بڑا حکمران ہوں اور آپ مسلمانوں کے ایک عظیم بادشاہ ہیں۔ آپ لوگوں کی قالین کی صنعت اور شیشوں سے بنائے ہوئے احباس منگولیا میں بہت پسند کیے جاتے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ دنیا کی ان دو عظیم سلطنتوں میں رواداری کے ساتھ تعلقات ہوں اور ایک دوسرے کے مابین تجارتی سرگرمیاں استوار کی جائیں۔

چنگیز خان کے عیسائی، مسلمان، پارسی اور منگول مشیروں نے خان کے پیغام سے اتفاق کیا تھا۔ چنگیز خان نے تجارتی اجناس کے ساتھ پانچ سو تاجروں کا قافلہ خوارزم شاہ کی سلطنت کی طرف روانہ کیا تھا۔ تجارتی قافلے کے سربراہ کو خوارزم شاہ اور شاہی خاندان کے لیے تحفے تحائف بھی دیے گئے تھے جو تجارتی قافلے کے سربراہ نے خوارزم شاہ کو پیش کرنے تھے۔

بخارا سے بہت پہلے خوارزم شاہ کے حامی قبیلے نے قافلے کو روک کر تجارتی ساز و سامان لوٹ لیا تھا کچھ تاجروں پر چنگیز خان کا جاسوس ہونے کا الزام لگا کر قتل کر دیا تھا اور باقی ماندہ تاجروں کے ساتھ انتہائی نازیبا سلوک کیا تھا۔ لٹا لٹایا قافلہ جب چنگیز خان کے پاس واپس پہنچا تو چنگیز خان نے اپنے مشیروں کے مشوروں کے برعکس ایک پانچ رکنی ونڈ جس میں ایک مسلمان ایک عیسائی اور ایک پارسی شامل تھے کو ایک خط کے ساتھ چنگیز خان کے دربار میں بھیجا تھا۔ خط میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ تجارتی قافلے سے بدسلوکی کرنے والے قبیلے کے لوگوں کو سزا دی جائے۔ تجارتی سامان واپس کیا جائے اور بدسلوکی کی معافی مانگی جائے۔

خوارزم شاہ نے چنگیز خان کے خط کو پھاڑ دیا تھا۔ چنگیز خان کے بارے میں بدکلامی کی اور وفد کے ارکان کی داڑھی مونچھیں، بال اور بھنویں منڈوا دی تھیں۔ مسلمان رکن کا سر قلم کر دیا تھا اور چنگیز خان کا پھٹا ہوا خط وفد کو کٹے ہوئے سر کے ساتھ یہ کہہ کر واپس روانہ کر دیا تھا چنگیز خان جیسے جنگلی قبائلی سردار کے ساتھ مسلمانوں کا کوئی تعلق نہیں ہو سکتا ہے اور نہ ہی وہ اس قابل ہیں کہ کہ ان سے تجارت کی جائے۔

چنگیز خان کو واپس آنے والے وفد نے جب خوارزم شاہ کے سلوک کے بارے میں بتایا تو چنگیز خان کا غصے کے مارے برا حال ہو گیا۔ وہ انتہائی غصے کی حالت میں اپنے پسندیدہ پہاڑ پر چڑھ گیا جو اس کی ہمیشہ سے عادت تھی اور پہاڑ پر ہی چڑھ کر وہ امور مملکت کے بارے میں سوچ بچار کرتا کر کے فیصلے کرتا تھا۔ چنگیز خان نے کوئی بھی مہم بغیر منصوبہ بندی کے نہیں شروع کی تھی۔ اس نے دربار میں قبائلی سرداروں کی نمائندگی کی تھی۔ اس کے دربار میں قبائلی سرداروں کی نمائندگی تھی اور سلطنت میں رہنے والے اقلیتوں سے باضابطہ مشاورت کی جاتی تھی۔

وہ چار دن کے بعد پہاڑ سے اترا اورطبل جنگ بجانے کا حکم دیا۔ نزدیک و دور کے قبائلیوں کو پیغام پہنچا دیا گیا کہ جنگ کی تیاری اور مشقیں شروع کردی جائیں، کئی جاسوسوں کو خوارزمستان کی سرزمین کی طرف مختلف بھیسوں میں روانہ کیا گیا اور فوج میں منصوبہ سازوں کو جنگ کی حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایات جاری کردی گئیں۔

چنگیز خان کی ہدایات کے مطابق منگول آبادی کے طول و ارض میں ایک طویل مہم کی تیاری شروع کردی گئی۔ چنگیز خان کے بیٹے، بیٹیاں اور داماد دور دراز مقام پر ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہونا شروع ہو گئے تھے۔ قبائلیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی کیونکہ جنگ اور جنگ میں کامیابی اور خوشحال مسلمانوں کے علاقوں میں شہروں کے لوٹ مار کے بعد بے شمار مال غنیمت کے ساتھ غلام اور عورتیں بھی سپاہیوں میں بانٹی جاتی تھیں۔ فوجی مہموں کے ذریعے سے ریاست منگولیا مالی طور پر بہت مستحکم ہو گئی تھی۔

چنگیز خان کی فوج میں ہزاروں کی تعداد میں جنگی انجینئر تھے لاکھوں کی تعداد میں بانس بھی تھے جنہیں جنگوں میں استعمال کی جاتا تھا۔ چنگیزی طریقہ جنگ میں ایک معروف طریقہ یہ بھی تھا کہ شہروں کے قریب پہنچ کر دریاؤں اور ندیوں پر بند باندھ کر اور پانی روک کر شہریوں کو غرق کر دیا جائے۔ بخارا اور سمرقند کے علاقوں میں چنگیز خان نے اس طریقے کو بھی اپنانے کا فیصلہ کیا تھا۔

منگول فوج کسی طوفان کی طرح بخارا کے قریب پہنچ گئی تھی۔ مسلمانوں نے منگول آندھی کی کوئی خاص تیاری نہیں کی تھی، جنگ کے پہلے مرحلے میں ہی شہر کی فصیل گرا دی گئی۔ خوارزم شام شہر سے بھاگ نکلا اور منگولوں نے چنگیز خان کے حکم پر قتل عام کا سلسلہ جاری کر دیا۔ چنگیز خان خود گھوڑا دوڑاتا ہوا مسجد کی سیڑھیوں پر چڑھتا چلا گیا۔ مسجد میں موجود مؤذن کے علاوہ سارے نمازیوں کو قتل کر دیا گیا۔ محراب و منبر کے ساتھ الماریوں میں موجود مسلمانوں کی مقدس کتابوں کو مسجد کے صحن میں ڈھیر کر دیا گیا اور چنگیز خان اپنے گھوڑے پر سوار مقدس کتابوں کو موجود نمازیوں اور شہریوں کے سامنے گھوڑے کے پیروں تلے روندتا رہا۔

کئی گھنٹوں کے قتل عام کے بعد اس نے امام مسجد کو حکم دیا کہ وہ اذان دے۔ اذان کی آواز سنتے ہی گھروں میں چھپے ہوئے مسلمان باہر نکل کر مسجد کی طرف آنے لگے تو چنگیز خان کے حکم سے دوبارہ سے قتل عام کا بازار لگا دیا گیا۔ لڑکیوں اور عورتوں کی آبروریزی کی گئی اور شہر کے اہم مقامات کو آگ لگا کر تباہ کر دیا گیا۔ ماضی میں بخاری کو کسی نے اس طرح سے تاراج نہیں کیا تھا۔

عراق کے شہر بغداد کے بعد اس زمانے میں بخارا کی سیاسی، سماجی، تعلیمی، معاشی اور مذہبی اہمیت تھی۔ مدارس میں مسلسل تعلیمی بچت و تکرار کا سلسلہ جاری رہتا تھا علمی مسائل پر گفت و شنید ہوتی تھی۔ حکمرانوں کی نا اہلی کے باوجود علم و دانش کی سرگرمیاں جاری رہتی تھیں۔ سینکڑوں سالوں کی کوششوں سے جو شہر بنا تھا اسے دنوں میں تباہ برباد کر دیا گیا تھا۔

بخارا کو تباہ کرنے کے بعد چنگیز خان نے سمرقند کا رخ کیا تھا۔ جاسوسوں کے اطلاعات کے مطابق سمرقند کا دفاعی نظام بہتر تھا جہاں کے شہر کی حفاظتی دیوار بلند محفوظ اور مضبوط تھی۔ چنگیز خان نے ایک طویل محاصرہ کی تیاری کرلی تھی۔

سمرقند کا گھیراؤ کرتے ہی ایک ایسا حادثہ ہو گیا جس کی بہت بڑی قیمت اہل سمرقند کو ادا کرنی پڑی۔ سمرقند کی فصیلوں سے آنے والے ایک تیر نے چنگیز خان کے داماد بڑا گھاؤ لگایا جس کے بعد اس کے داماد کی موت واقع ہو گئی۔ داماد کی موت کی وجہ سے چنگیز خان کے خاندان میں زبردست اشتعال پھیل گیا۔

چنگیز خان نے اپنی بیٹی کو بلایا اور ابتدائی بات چیت کے بعد پوچھا کہ اس قتل کا بدلہ وہ کس طرح سے لینا چاہتی ہے۔

چنگیز خان کی بیٹی نے مطالبہ کیا کہ سمرقند میں کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑا جائے۔ مرد عورتیں بچوں کے ساتھ جو جانور زندہ نظر آئے اسے قتل کر دیا جائے۔ سمرقند کا محاصرہ ختم ہونے کے بعد شہر پر قبضہ کر لیا گیا، چنگیز خان کی بیٹی کی خواہش کے مطابق تمام شہریوں کو قتل کر دیا گیا اور شہر میں موجود کسی بھی جانور کو زندہ نہیں چھوڑا گیا۔ سمرقند اور بخارا اس تباہی سے صدیوں تک متاثر رہے۔ شہری نظام تباہ ہو گیا اور پڑھے لکھے لوگوں کی بڑی تعداد نیست و نابود کردی گئی۔ سینکڑوں کی تعداد میں پڑھے لکھے لوگ خوارزمستان کے علاقے چھوڑ کر چلے گئے اور ذہنی ارتقا تھم گئی۔

منگول دستوں نے خوارزم شاہ کا تعاقب کرنا شروع کیا۔ وہ فرار ہو کر ایران میں کیسپیئن سمندر کے ایک چھوٹے قصبے میں قیام پذیر ہوا جہاں اس کی موت نمونیا سے واقع ہو گئی۔ خوارزم شاہ نے اپنے بڑے بیٹے کو مرنے سے پہلے اپنا جان نشین قرار دیا۔

تاریخ کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مسلمان حکمرانوں نے نہ دشمن کو سمجھا اور نہ ہی جاسوسی کے ذرائع سے ان کی آگاہی حاصل کی۔ ہزاروں کی تعداد میں مسلمان فوجیوں اور عام شہریوں کی ہلاکت ہوئی۔ عورتیں اغوا کر کے منگولیا بھیج دی گئیں اور مسلم دنیا کے ایک بہت بڑے علاقے کو تاراج کر دیا گیا۔

خوارزم شاہ کی فوج منگولوں کی تعداد میں زیادہ تھی لیکن وہ چنگیز خان کی ذہانت، قائدانہ صلاحیتوں اور دور نظری کا مقابلہ نہیں کر سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ بخارا اور سمرقند کے بعد بھی مسلمانوں کو عقل نہیں آئی اور چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے بغداد پر فوج کشی کر کے بغداد کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

Latest posts by ڈاکٹر شیر شاہ سید (تمام دیکھیں)

ڈاکٹر شیر شاہ سید کی دیگر تحریریں

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں .
آواز جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں