پاکستانحقوقدینیاتکشمیر

انتخابات میں مداخلت پر وزیراعظم آزاد کشمیر کی اسلام آباد میں دھرنے کی دھمکی

– آواز ڈیسک –

اسلام ٹائمز۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق خان نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے مشاورت کے بعد دھمکی دی ہے کہ آزادکشمیر کے انتخابات میں وزیراعظم پاکستان اور ان کے وزرا کی براہ راست مداخلت بند نہ ہوئی تو وہ اسلام آباد میں دھرنا دیں گے۔ مظفرآباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے راجا فاروق خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے اراکین ڈھٹائی سے آزاد کشمیر کے آئین کی بے حرمتی اور خلاف ورزی کر رہے ہیں، میں اپنا معاملہ پاکستان کے عوام کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا آزاد کشمیر کا آئین، قوانین، قواعد و ضوابط ان پر لاگو نہیں ہوتے، کیا وہ ہمیں غلام سمجھتے ہیں جن کو پیسوں سے خریدا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں نے کبھی بھی غلامی قبول نہیں کی اور وہ پاکستان کے یکساں اور آزاد شہری بننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر علی امین گنڈا پور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن نے ناصرف پولیس کو قانون کے تحت ان کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا بلکہ ضابطہ اخلاق اور انتخابی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے ارتکاب پر علاقہ چھوڑنے کی بھی ہدایت کی تھی۔

آزاد کشمیر کے وزراعظم نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ہدایت کے باوجود وزیراعظم عمران خان ناصرف علی امین گنڈاپور کو اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں آزاد کشمیر ساتھ لے کر آئے ہیں بلکہ وہ انہیں تقریر کرنے کی بھی اجازت دیتے رہے ہیں، جس سے آزادکشمیر کے عوام اور اداروں کی بہت بڑی بدنامی ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے 16 جولائی کو علی امین گنڈاپور کی انتخابی مہم میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی تھی، ان پر یہ پابندی اس وقت عائد کی گئی جب انہوں نے انتخابی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آزاد کشمیر میں مختلف عوامی جلسوں میں اپنی تقاریر میں ناخوش گوار تبصرے کیے اور الیکشن کمیشن کے مطابق ان کی سرگرمیوں نے امن و امان کے مسائل پیدا کر دیے تھے۔ اپنی پریس کانفرنس میں وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے راجا فاروق خان نے دعویٰ کیا کہ ریاست کے وسائل کے استعمال کے باوجود وزیراعظم اپنی پارٹی کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرنے میں ناکام رہے کیونکہ لوگوں نے پی ٹی آئی کے مقابلے میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کو ترجیح دی ہے۔

جملہ حقوق بحق مصنف و ناشرمحفوظ ہیں .
آواز دینی ہم آہنگی، جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف یا ناشر کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں. آپکے عظیم خیالات ہمارے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں، لہٰذا ہم نہیں چاہتے کہ برے الفاظ کے چناؤ کی بنا پر ہم انہیں ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیں. امید ہے آپ تہذیب اور اخلاق کا دامن نہیں چھوڑیں گے. اور ہمیں اپنے علم سے مستفید کرتے رہیں گے.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں