افغانستاناقوام متحدہبھارتپاکستانچینحقوقکالم و مضامینکشمیرورلڈ کپ

پاکستان میں جس کو غدار کا لقب دیا وہ ا تنا ہی وفادار ہے، مریم نواز

– کالم و مضامین –

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جس جس کو غدار کا لقب دیا وہ ا تنا ہی وفادار ہے.

آزاد کشمیر میں انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف نے اقوام متحدہ میں برہان وانی کا مقدمہ لڑا، نواز شریف آزاد کشمیر کے لوگوں کا مقدمہ لڑیں گے، ہم سلیکٹڈ کی طرح کشمیر کو مودی کے حوالے نہیں کریں گے۔

مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف نے کبھی یہ رونا نہیں رویا کہ مودی میرافون نہیں اٹھاتا، حق کے لیے سامنے آکر مقابلہ کرنا چاہیے، پاکستان میں جس کو غدار کا لقب دیا وہ اتنا ہی وفادار ہے، نواز شریف نے دشمن کے 5 دھماکوں کےجواب میں 6 دھماکے کیے، بھارت سن لے کہ ہم چھین کر رہیں گے آزادی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ کل میں باغ میں گئی، اسی باغ میں مجھ سے ایک دن پہلے اپنی نئی نویلی اے ٹی ایم کے پاس آکر عمران خان نے جلسہ کیا تھا، سرکاری اخراجات کے باوجود اس جلسے میں باغ کے لوگوں نے جانے سے انکار کردیا اور جب میں باغ گئی تو یقین جانیں باغ والوں نے میرا ایسا استقبال کیا کہ میں ساری زندگی نہیں بھول سکتی۔

انہوں نے کہا کہ سننے میں آیا ہے کہ باغ میں جس امیدوار کو اسلام آباد سے اسمگل کرکے آزاد کشمیر لائے ہیں، تنویر الیاس صاحب، ان پر الزام لگا ہے کہ انہوں نے ایک افسر کو ایک ارب روپے کی رشوت دی۔

مریم نواز نے کہا کہ کشمیریوں! مجھے ایک بات بتائیں جو آپ کے ووٹ کو ایک ارب روپے میں خریدنے کی کوشش کرے، کیا وہ گیدڑ آپ کا لیڈر ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2016 میں نواز شریف جب وزیراعظم تھے تو انہی سردار تنویر الیاس نے مسلم لیگ(ن) سے سینیٹ کا ٹکٹ مانگا تھا اور یہ مسلم لیگ(ن) میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے تھے۔ سردار تنویر الیاس نے نواز شریف کو پیغام دیا تھا کہ میں 50 کروڑ روپے پارٹی فنڈ میں دیتا ہوں مجھے ٹکٹ دیں لیکن نواز شریف نے واپس پیغام دیا کہ نواز شریف ٹکٹ دیتا ہے اپنی جماعت کو بیچتا نہیں۔

انہوں نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ پہلے ورلڈ کپ جیت کر بھارت کو اتنا حوصلہ دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کردے اور جب تمہارے وزیر نے آزاد کشمیر کا جھنڈا پکڑایا تو اس جھنڈے کو ہاتھ لگانا بھی مناسب نہیں سمجھا۔

مریم نواز نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ووٹ چوری کرکے کٹھ پتلی حکومت لانے کا فیصلہ ہوچکا ہے،  عمران خان اپنی مرضی کا وزیر اعظم لا کر کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانا چاہتا ہے، جعلی لیڈر، جعلی ووٹ، جعلی منصوبے اور جعلی دعوے کرنے والے یاد رکھیں کہ آزاد کشمیر میں تمہارا کوئی دعوی نہیں چلےگا۔ ککشمیریوں کا مقدمہ عمران خان کو کیا لڑنا ہے، وئی ایک ہمسایہ ملک بتادیں جو اس نااہل حکومت کے ساتھ کھڑا ہو، عمران خان کی کامیاب خارجہ پالیسی  یہ ہے کہ  چین نے سی پیک پر کام بند کردیا ہے، نواز شریف کے دور میں سرمایہ کاری لانے والا چین اب تحقیقاتی  ٹیمیں بھیج رہاہے۔

مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ کشمیریوں کا مقدمہ عمران خان نے کیا لڑنا ہے، نواز شریف کو مودی کو یار کہنے والے نے خود کشمیر مودی کی جھولی میں ڈال دیا۔ عمران خان کی کامیاب خارجہ پالیسی یہ ہے کہ چین نے سی پیک پر کام بند کردیا ہے، داسو ڈیم پر چینیوں پر حملہ ہوتا ہے اور 10 چینی مارے جاتے ہیں، چین جو نواز شریف کے دور میں سرمایہ کاری کررہا تھا آج اپنے لوگوں کی ہلاکت کی تحقیقات کررہا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کی کامیاب خارجہ پالیسی یہ ہے کہ دن دیہاڑے افغانستان کے سفیر کی بیٹی اغوا ہوجاتی ہے اور بجائے اس کے کہ معافی مانگی جاتی وزارت داخلہ کے بیانات آرہے ہیں کہ وہ اس لیے اغوا ہوئی ہے وہ وہاں اکیلی تھی، ٹیکسی میں بیٹھی تھی، انہیں شرم آنی چاہیے، اس کی حفاظت ان کی ذمہ داری تھی۔

انہوں نے کہا کہ جس دن شہید برہان وانی کی برسی تھی اس دن وزارت خارجہ میں ناچ گانا ہورہا تھا۔

مریم نواز نے کہا کہ ’میرا دل نہیں ہے کہ نواز شریف اور عمران خان کا نام ایک جملے میں لیا جائے، عمران خان کی اتنی اوقات نہیں ہے کہ اس کا نام نواز شریف کے ساتھ لیا جائے‘۔

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں .
آواز جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں