امریکہایرانحقوقدینیات

ہمارے پاس "ایرانی جوہری معاہدے میں واپسی” کا ہی واحد رستہ بچا ہے، کرس مرفی

– آواز ڈیسک –

اسلام ٹائمز۔ امریکی سینیٹ کے معروف رکن کرس مرفی نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کے پاس واحد رستہ ہی بچا ہے جو ایرانی جوہری معاہدے (JCPOA) میں اس کی واپسی ہے۔ یہودی ای مجلے جیوئش انسائیڈر کے ساتھ گفتگو میں کرس مرفی نے کہا کہ میں اس بات کو بالکل قبول نہیں کرتا کہ ہم اس معاہدے میں واپسی کا رستہ ڈھونڈ نہیں سکتے تاہم اس کام کی انجام دہی امریکہ و ایران کی جانب سے سخت فیصلے اٹھانے پر منحصر ہے۔ امریکی سینیٹر کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے اس معاہدے میں دوبارہ شمولیت نہ کرنے کی صورت میں؛ اس کے پاس آگے کی سمت میں حرکت کا کوئی دوسرا رستہ موجود نہیں۔ کرس مرفی نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ میرا ماننا یہی ہے کہ ہمارے پاس موجود واحد رستہ؛ "ایرانی جوہری معاہدے میں واپسی” ہے۔

واضح رہے کہ کرس مرفی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے منعقد ہونے والے امریکی سینیٹ کے حالیہ جلسے کے بعد سینیئر امریکی سینیٹر رابرٹ مینڈیز (Robert Menendez) کی جانب سے خبرنگاروں کو بتایا جا چکا ہے کہ جوہری معاہدے میں امریکی واپسی جلد وقوع پذیر نہیں ہو گی تاہم اس بارے کرس مرفی کا کہنا ہے کہ میں اس جلسے میں موجود تھا اور نہ ہی اس بارے میں مجھے کوئی اطلاع ہے۔ یاد رہے کہ نہ صرف کرس مرفی کی جانب سے ایران کے خلاف امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کو "شکست خوردہ” قرار دیتے ہوئے شروع سے ہی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے بلکہ امریکی صدر جو بائیڈن کی کابینہ کے متعدد اراکین بھی ایران کے خلاف اس امریکی پالیسی کی ناکامی کا برملا اعتراف کر چکے ہیں تاہم امریکی فیصلہ ساز حلقے ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنے عہد و پیمان پر عملدرآمد سے تاحال انکاری ہیں۔

جملہ حقوق بحق مصنف و ناشرمحفوظ ہیں .
آواز دینی ہم آہنگی، جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف یا ناشر کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں. آپکے عظیم خیالات ہمارے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں، لہٰذا ہم نہیں چاہتے کہ برے الفاظ کے چناؤ کی بنا پر ہم انہیں ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیں. امید ہے آپ تہذیب اور اخلاق کا دامن نہیں چھوڑیں گے. اور ہمیں اپنے علم سے مستفید کرتے رہیں گے.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button