اقوام متحدہامریکہانسانی حقوقپاکستانٹیکنالوجیحقوقہالی ووڈ

اگلی دہائی میں دماغ چپ سے کنٹرول ہو گے

نیورو سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ بڑی کمپنیاں ایسی ٹیکنالوجی بنا رہی ہیں جس کی مدد سے وہ آئندہ دس سالوں میں انسانی خیالات اور نظریات پر اثرانداز ہو سکیں گی۔

امریکن  نیورو سائنسدانوں کے ایک گروپ نے تحقیق کی ہے کہ دماغی چپس کے ذریعے اسماٹ فونز سے انٹرنیٹ کی رسائی کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی آئندہ دس سالوں میں تجارتی بنیادوں پر فروخت کی جاسکے گی۔

خیال رہے کہ ہالی ووڈ کی فلم انسپشن میں اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو نے ایک چور کا کردار کیا تھا جواپنے ہدف کے دماغ میں گھس کر معلومات چراتا تھا۔

نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی کے نیورو سائنس پروفیسرز کے مطابق یہ خیال اب سائنس فکشن نہیں رہا بلکہ جلد ہی اس کو ایک حقیقت میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں آنے والے وقت کے لیے ایسے آلات تیار کر رہی ہے جو اسمارٹ فونز کی جگہ ہمارے دماغ انٹرنیٹ سے جوڑ دیں گے۔

فیس بک بھی انسانی دماغوں کو کمپیوٹر کے ساتھ منسلک کرنے میں مصروف ہے۔ایلون مسک کی فرم نیورلنک بندر کے ذہنوں کیساتھ ٹیکنالوجی کے ملاپ کا تجربہ کررہی ہے۔

سوشل میڈیا اور سرچ انجن پہلے ہی تنقید کی زد میں ہیں کہ وہ ہمارے پڑھنے اور دیکھنے والی معلومات کو کنٹرول کرتے ہیں۔

مارننگ سائیڈ گروپ کا دعویٰ ہے کہ انسانیت کے لئے یہ خطرہ سنگین ہے۔ اس پر وہ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ ’نیورو رائٹس‘  کو انسانی حقوق کے تسلیم شدہ چارٹر میں شامل کرے۔

سال2016 میں بنائی گئی نیورولنک دماغی چپس تیار کر رہی ہے جو دماغ کی حرکت کو کنٹرول کرتے ہیں۔

کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر یوسٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دماغ کنٹرول کرنے والی ٹیکنالوجی کو ایسی کمپنیز بھی استعمال کرسکتی ہیں جو کسی کو جوابدہ نہیں ہیں۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں