افغانستانامریکہبھارتبین الاقوامیپاک بھارتپاکستانپشاورحقوقدینیاتکشمیر

امریکا کے ساتھ تعلقات کیلئے نئے روڈ میپ کو حتمی شکل دی جارہی ہے، ڈاکٹر معید یوسف

– آواز ڈیسک –

طالبان پہلے کے مقابلے میں زیادہ پختہ اور خود سرہوگئے ہیں۔مشیر قومی سلامتی امور کی قایمہ امور کو بریفنگ

مطابق قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن سے تعلقات کا دائرہ افغانستان کی حدود سے آگے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

معید یوسف اور ان کے امریکی ہم منصب جیک سلیوان نے مئی میں ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے تعلقات کی بحالی اور اقتصادی تعاون پر اتفاق کیا تھا۔

ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ ان کی توجہ تعلقات کو آگے بڑھانے کے قابل عمل لائحہ پر ہے، کامراس اور ٹریڈ، سرمایہ کاری، ویکسین کی تیاری، موسمیاتی تبدیلی، دفاعی شعبے اور علاقائی معاشی رابطے کو فروغ دینے پر مشتمل روڈ میپ ہے۔

انہوں نے امید کا اظہار کی کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے مابین کثرت سے اعلی سطح اجلاس ہوں گے۔

افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹرمعید یوسف نے کہا کہ طالبان پہلے کے مقابلے میں زیادہ پختہ اور خود سرہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے آغاز کے بعد طالبان نے جو علاقائی فائدہ حاصل کیا ہے وہ طاقت کے استعمال کے ذریعہ نہیں تھا بلکہ مایوسی کا شکار افغان فوجی ان کے سامنے ہتھیار ڈال رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افغانستان کے بارے میں پالیسی بالکل واضح ہے کہ ایک جامع سیاسی تصفیہ کو فروغ کے ساتھ افغان سرزمین کوکسی کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔

بین الاقوامی برادری کو بھی افغانستان کے ممکنہ بحران خصوصاً مہاجرین کی نئی آمد کے بارے میں پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا جارہا ہے۔

پاکستان کو خدشہ ہے کہ اگر تشدد میں اضافہ ہوا 70 ہزار مہاجرین کا سامنا ہوسکتاہے۔

پاک بھارت تعلقات کے بارے میں ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ بھارت کی ذمہ داری ہےکہ وہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ واپس لے کر دوطرفہ مذاکرات کا آغاز کرے۔

اجلاس کی صدارت کرنے والے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ کمیٹی قومی سلامتی کے معاملے پر بھی اپنے خیالات اور آرا پیش کرے گی تاکہ حکومت پالیسی تشکیل کرتے وقت ان پر بھی غور کرے۔

1164199

جملہ حقوق بحق مصنف و ناشرمحفوظ ہیں .
آواز دینی ہم آہنگی، جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف یا ناشر کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں. آپکے عظیم خیالات ہمارے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں، لہٰذا ہم نہیں چاہتے کہ برے الفاظ کے چناؤ کی بنا پر ہم انہیں ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیں. امید ہے آپ تہذیب اور اخلاق کا دامن نہیں چھوڑیں گے. اور ہمیں اپنے علم سے مستفید کرتے رہیں گے.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں