افغانستانامریکہبین الاقوامیپاکستانپشاورتارکین وطنخواتیندفاع

افغانستان: کہیں ہلاکتوں کے دعوے، کہیں خواتین کی فہرستیں

امریکی فوج کے انخلا کے بعد جہاں ایک جانب افغانستان میں طالبان اور حکومتی فوجوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں وہیں عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے دونوں کے مابین پروپیگنڈا بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔

دونوں فریقین متفق ہیں کہ جنگ افغان مسئلے کا حل نہیں لیکن اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا بھی کرتے ہیں۔

طالبان کا دعویٰ ہے کہ افغان حکومت عوام میں غیر مقبول ہے اور ملک کے 85 فیصد علاقے پر ان کا قبضہ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب افغان حکومت آئے روز عوام کو طالبان دور حکومت کی سختیاں یاد دلاتے ہوئے الزام عائد کرتی ہے کہ طالبان مذاکرات میں سنجیدہ نہیں اور موجودہ لڑائی میں انہیں نقصان ہو رہا ہے۔

حال ہی میں افغانستان میں سوشل میڈیا پر فارسی زبان میں مبینہ طور پر طالبان سے منسوب ایک بیان جاری ہوا جس میں انہوں نے افغانستان کے صوبے بدخشاں اور تخار پر اپنے قبضے کا اعلان کرتے ہوئے وہاں اسلامی نظام رائج کرنے کا اعلان کیا۔

اس بیان میں مذکورہ صوبوں کے عوام، عمائدین اور مساجد کے خطیب حضرات کو مطلع کیا گیا ہے کہ 15 سال سے زائد اور 45 سال سے کم عمر خواتین اور لڑکیوں بشمول بیوہ خواتین کے ناموں کی فہرست تیار کرکے طالبان کے کمیشن دفتر میں جمع کرائی جائے تاکہ طالبان جنگجوؤں کے ساتھ ان کا نکاح کرایا جا سکے۔

مبینہ بیان میں مزید کہا گیا کہ ان خواتین کو اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں واقع شمالی وزیرستان کے مدارس میں داخل کیا جائے گا۔

اس دستاویز کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے تحریری بیان میں اسے رد کیا اور اس کو ’دشمن کی جانب سے ایک سازش‘ اور پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے جعلی بیانات، اسناد اور خطوط سوشل میڈیا حتیٰ کہ ہوائی جہازوں کے ذریعے بعض علاقوں کے مکینوں میں تقسیم کیے جا رہے ہیں تاکہ افغان عوام کے دلوں میں طالبان کا خوف پیدا کیا جا سکے۔

ذبیح اللہ کے مطابق: ’بعض علاقوں میں عوام پر بندشیں، ان کو ڈرانا دھمکانا، مخصوص جنس کے حوالے سے قوانین، لوگوں کی نقل وحرکت پر پابندی، داڑھی یہاں تک کہ بیٹیوں کی شادی کے حوالے سے ہمارے خلاف پروپیگنڈا جاری ہے۔ داعش کی کارروائیاں بھی طالبان کے کھاتے میں ڈالی جا رہی ہیں۔‘

طالبان کے مرکزی ترجمان نے میڈیا کو باور کرایا کہ طالبان کا اطلاعات اور بیانات دینے کا باقاعدہ نظام پچھلے 20 سال سے چل رہا ہے اور کسی بھی مواد کی تصدیق صرف ان ہی متعلقہ چینلز سے کی جائے۔

اس معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے افغان امور کے صحافی وتجزیہ نگار سمیع یوسف زئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مقامی طور پر نچلے درجے کے طالبان عہدے داروں کے ایسے بیانات پہلے بھی آتے رہے ہیں تاہم مرکزی شوریٰ ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کا پروپیگنڈا طالبان کے حق میں نہیں، بالخصوص ایسے حالات میں جب امریکی فوج معاہدے کے تحت انخلا کے عمل سے گزر رہی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سینیئر صحافی طاہر خان کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس دستاویز کی طالبان نے تصدیق نہیں کی۔ ’جب تک طالبان مرکزی حکومت پر قابض ہوکر کوئی پالیسی ترتیب نہیں دیتے، مقامی سطح پر اس قسم کے فیصلے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں وہی قوت کامیاب حکومت کرے گی جو افغان عوام کا دل جیت سکے اور اگر طالبان ایسی خواہش رکھتے ہیں تو اس بار انہیں عوام کے ساتھ اپنے رویے میں بہتری لانی ہوگی۔

افغان حکومت اور طالبان کے مابین پروپیگنڈے کا سلسلہ حالیہ دنوں میں مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

افغانستان کی وزارت دفاع نے ایک جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ حکومتی سکیورٹی فورسز نے پچھلے ایک ہفتے میں لغمان، لوگر، پکتیکا، غزنی، قندھار، فراح، غور، باغدیس، بلخ، سمنگان، ہلمند، نمروز، بدخشان، قندوز اور کابل میں کارروائیوں کے دوران ایک ہزار سے زائد طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا۔

وزارت اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر روز آپریشنز میں مارے جانے والے طالبان جنگجوؤں کے حوالے سے معلومات شائع کرتی ہے۔

وزارت دفاع نے اتنی ہی تعداد زخمیوں کی بتائی ہے۔ تاہم طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس خبر کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے جواباً دعویٰ کیا کہ ان کے جنگجوؤں نے پورے افغانستان میں ملکی فوج کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے ان کے ہزاروں فوجیوں کو نہ صرف بھگا دیا بلکہ ایک بڑی تعداد کو اپنی صفوں میں شامل کر لیا ہے۔

ان کے بقول: ’اسی طرح طالبان نے 200 کے قریب اضلاع کو کابل انتظامیہ کے قبضے سے آزاد کرا کر ان پر اپنی حکومت قائم کر لی ہے۔‘

دونوں جانب سے الزامات کی حقیقت واضح کرنے کے لیے صحافی سمیع یوسف زئی نے کہا: ’طالبان افغانستان میں ایک بہت بڑے رقبے پر قابض ہوچکے ہیں جب کہ ان کے مقابلے میں افغان نیشنل آرمی کسی حد تک ناکام ہوچکی ہے۔ طالبان کے خلاف اگر افغان حکومت کو کہیں کامیابی ملی ہے تو وہ افغان کمانڈو فورسز کی بدولت ممکن ہوئی جب کہ لوکل آرمی، پیرا ملٹری اور پولیس تقریباً بے بس ہوچکے ہیں۔‘

طاہر خان نے بتایا کہ اگر طالبان نے زور زبردستی سے افغان عوام پر حکومت کرنے کی کوشش کی تو یہ بارآور ثابت نہیں ہو گی۔

’اگر اس مرتبہ افغانستان میں خدانخواستہ خانہ جنگی شروع ہوئی تو وہ ماضی کے برعکس زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہوگی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’طالبان عسکریت پسندی کے بعد کابل انتظامیہ کی حامی مختلف قوتوں کو پہلے سے اندازہ تھا کہ مغربی افواج کے چلے جانے کے بعد افغانستان میں بے یقینی کی صورت حال پیدا ہوگی اسی لیے انہوں نے پہلے سے اس کی تیاری کر رکھی تھی۔ اس کے علاوہ، طالبان کے پاس اس مرتبہ باہر سے امداد کے مواقع بھی ختم ہوچکے ہیں۔‘

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں