امریکہایرانپاکستانٹیکنالوجیحقوقخارجہ تعلقاتدینیاتیورپ

پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا ایران کی ترجیح ہے، ایرانی سفیر

– آواز ڈیسک –

اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا ایران کی ترجیح ہے، نئی ایرانی حکومت بھی اس پالیسی کو جاری رکھے گی، ہماری خارجہ پالیسی حکومتوں کے آنے اور جانے سے نہیں بدلے گی، ایران کے آئین میں مغربی ممالک اہم ہیں نہ مشرقی ممالک، کیونکہ ایران کسی تسلط کو قبول نہیں کرتا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید محمد علی حسینی نے کہا کہ ایران نے ناجائز صہیونی حکومت اور امریکہ کے بغیر دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ خارجہ تعلقات کے فروغ میں دریغ نہیں کیا اور کسی بھی ملک کو اپنے تعلقات کے دائرے سے خارج نہیں کیا، سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے اس بیان کے مطابق ملک میں کسی بھی حکومت کی اہم ترجیح دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنانا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی نئی حکومت بھی اسی پالیسی پر عمل کرے گی۔

ایرانی سفیر نے گیس منتقلی منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی حکومت کے ساتھ معاہدے کے مطابق ایران نے اپنے تمام وعدے پورے کردیئے ہیں اور اس بڑے توانائی منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے، ایک ہی وقت میں اس کا بنیادی ڈھانچہ مہیا کیا گیا، ہمارے پاکستانی دوست اب تک کچھ مسائل کی وجہ سے اپنے عہد کو پورا نہیں کرسکے لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ یہ منصوبہ جلد از جلد مکمل ہوجائے گا تاکہ پاکستانی حکومت اور عوام اس عظیم منصوبے کے ثمرات سے لطف اندوز ہوسکیں۔ سید محمد علی حسینی نے یورپ سمیت مغرب کے ساتھ  تعلقات کی سطح کے بارے میں کہا کہ ایران نے کسی بھی ملک بشمول مغربی ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات خاص طور پر پرامن ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنے تعاون کو منقطع نہیں کیا لیکن اُنہوں نے خود اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی۔

جملہ حقوق بحق مصنف و ناشرمحفوظ ہیں .
آواز دینی ہم آہنگی، جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف یا ناشر کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں. آپکے عظیم خیالات ہمارے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں، لہٰذا ہم نہیں چاہتے کہ برے الفاظ کے چناؤ کی بنا پر ہم انہیں ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیں. امید ہے آپ تہذیب اور اخلاق کا دامن نہیں چھوڑیں گے. اور ہمیں اپنے علم سے مستفید کرتے رہیں گے.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں