افغانستانامریکہایرانبھارتبین الاقوامیپاکستانپشاورتارکین وطنترکمانستانروسکورونا وائرس

ٹی ٹی پی جنگجو پناہ گزینوں کے بھیس میں پاکستان آ سکتے ہیں: معید یوسف

وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے پڑوسی ملک افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’انتہائی خراب اور پاکستان کے کنٹرول سے باہر‘ قرار دیا ہے۔

جمعے کو امور خارجہ سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے معید یوسف نے تحریک طالبان پاکستان کے حملے کے متوقع خطرے سے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’تحریک طالبان کے جنگجو پناہ گزینوں کے بھیس میں پاکستان میں داخل ہوسکتے ہیں، جو ہمارے لیے مسائل کا باعث ہو گا۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی تک پاکستان میں تحریک طالبان کے جنگجو موجود نہیں اور اس متعلق گردش کرنے والی اطلاعات ’بھارتی پروپیگنڈا‘ ہے۔

معید یوسف نے مزید کہا کہ ’امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے بعد وہاں بدلتی ہوئی صورتحال پر پاکستان کو بہت تشویش ہے۔ پاکستان افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد اور خانہ جنگی سے بری طرح متاثر ہو گا۔‘

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے رکن سینیٹر انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ مشیر برائے قومی سلامتی نے اجلاس میں واضح کیا کہ افغانستان میں متحارب گروہوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں اور ان میں سے کوئی بھی پاکستان کے کنٹرول میں نہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں صورت حال کو تشکیل دینے میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں، تاہم اسلام آباد وہاں کی صورت حال سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

خیال رہے کہ روس کا دورہ کرنے والے افغان طالبان کے ایک وفد نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کا 85 فیصد حصہ ان کے کنٹرول میں آ چکا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کے 421 میں سے تقریباً 200 اضلاع کا انہوں نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طالبان جنگجوؤں نے ایران سے ملحقہ سرحدی علاقے اسلام قلعہ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے ’کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر‘ افغانستان سے ملنے والی سرحد طورخم کے مقام پر بند کر دی ہے۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ پاکستان کو توقع تھی کہ افغان پناہ گزین سرحد پر آئیں گے اور وہ سرحدی علاقے میں اپنے کیمپس قائم کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ کوشش کریں گے کہ نقل مکانی کرنے والے افغان شہریوں کو سرحد پر رکھیں اور انہیں مزید اندر نہ آنے دیں۔

فواد چوہدری کے مطابق اس کام کو انجام دینا ایک مشکل ہوگا کیونکہ بڑی تعداد میں خاندان سرحد کے دونوں اطراف موجود ہیں۔

جمعے کو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ کی کمیٹی برائے امور خارجہ کو بریفنگ میں کہا کہ افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت میں پاکستان پناہ گزینوں کی آمد کو نہیں سنبھال سکے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان چاہتا تھا کہ ملک میں موجود تین لاکھ افغان پناہ گزین اپنے ملک لوٹ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خانہ جنگی سے بچنے کے لیے افغانستان میں شراکت اقتدار کی تجویز کرنا چاہتا ہے۔

ازبکستان میں افغانستان سے متعلق ہونے والی کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘ہم اس کانفرنس میں معذرت خواہانہ انداز نہیں رکھیں گے۔’

قریشی نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں واحد سٹیک ہولڈر نہیں اور وہ کانفرنس میں اپنے موقف کو مضبوطی سے پیش کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال ابتر ہوتی جارہی ہے اور اس کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانا مناسب نہیں تھا۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ طالبان کو افغان صدر اشرف غنی کی مذاکرات میں شرکت پر اعتراض ہے۔ ’افغان طالبان وقت کے ساتھ ذہین اور سمجھ دار ہوگئے ہیں اور یہ تبدیلی دوحہ مذاکرات کے بعد آئی ہے۔’

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ افغانستان کو اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے وسائل کی کمی کا سامنا ہے اور پاکستان کو جنگ زدہ ملک میں بدلتی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری کرنا ہوگی کیونکہ بھارت وہاں امن کے عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان بھی غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں صورت حال کے بگڑنے کی طرف اشارہ کرتے رہے ہیں۔

کابل سے نامہ نگار بلال سروری کے مطابق طالبان قیادت کا دعویٰ ہے کہ وہ ابھی تک محدود پیمانے پر افغانستان میں لڑ رہے ہیں، مگر یکم مئی کے بعد وہ افغانستان کے اکثر علاقوں اور خصوصی شمالی خطے میں بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔

طالبان نے تورغنڈی نامی اہم سرحدی قصبہ پر بھی قبضہ کر لیا ہے جو کہ افغانستان اور ترکمانستان کے درمیان ایک اہم گزرگاہ ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہرات میں افغان طالبان کے سب سے بڑے مخالف سمجھے جانے والے افغان سیاسی لیڈر اور تنظیم جمعیت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سابقہ اہم جہادی کمانڈر اسماعیل خان نے اپنے حامی کمانڈروں کا ایک اہم اجلاس طلب کرتے ہوئے طالبان کے خلاف شدید مزاحمت کا اعلان کیا۔

یاد رہے کہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں جب طالبان افغانستان میں پھیلنے لگے تھے تو اسماعیل خان نے ان کے خلاف شدید مزاحمت کی تھی اور بعد میں وہ افغان طالبان کے مرکز قندھار میں ان کے قیدی بھی رہے۔

ادھر صوبہ بادغیس کے مرکزی شہر قلعہ نو پر بھی گذشتہ دو روز سے طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

طالبان جنگجو قندھار کے صوبائی درالحکومت میں مرکزی جیل کے قریب کے علاقوں میں افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید لڑائی میں مصروف ہیں۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button