آرٹبرابری کے حقوقبرطانیہبین الاقوامیپاکستانپشاورتارکین وطنتعلیمحقوقخواتینکورونا وائرس

خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مردوں کی حمایت ضروری: مشال

’ابھی تک پاکستان میں خواتین اور مردوں کو برابری کے حقوق نہیں دیے گئے اور جب خواتین کو مردوں کی حمایت حاصل ہو جائے تو وہ کسی بھی فیلڈ میں آگے جا سکتی ہیں جس طرح مجھے اپنے والد اور خاندان کے دیگر مردوں کی  حمایت حاصل تھی۔‘

یہ کہنا تھا برطانیہ کا ’لیڈی ڈیانا ایوارڈ‘ حاصل کرنے والی 25 سالہ پاکستانی مشال عامر کا، جنہیں یہ ایوارڈ رواں سال ان کی سماجی کاموں میں کوششوں پر دیا گیا۔

یہ ایوارڈ لیڈی ڈیانا کی یاد میں واحد ایوارڈ ہے جو ہر سال نوجوانوں کے نام کیا جاتا ہے جنھوں نے کمیونٹی کے لیے کچھ کر کے دکھایا ہو۔

ایوارڈ کی تقریب کرونا وائرس کہ وجہ سے ورچوئل منعقد کی گئی تھی، جس میں دنیا بھر سے 30 سال سے کم عمر نوجوانوں کی کوششوں کے سراہا جاتا ہے۔

رواں سال ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کی مشال بھی شامل تھیں۔

مشال کی والدہ کا تعلق چارسدہ کے اتمانزئی قبیلے سے تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پشاور اور اسلام آباد سے حاصل کی جبکہ وہ یونیورسٹی آف کیمبرج سے قانون کی ڈگری حاصل کر رہی ہیں۔

اس کے علاوہ وہ انٹرنیشنل کریمینل کورٹ آف جسٹس، برطانوی حکومت اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں کام کر چکی ہیں۔

سکاٹ لینڈ میں رہنے والی مشال اس سے پہلے سکاٹ لینڈ کے 30 انفلوئنشل نوجوانوں کی لسٹ میں بھی شامل تھیں جبکہ وہ حال ہی میں رائل سوسائٹی آف آرٹ کی فیلو بھی منتخب ہوئی ہیں۔

اس سوسائٹی کے سابق فیلوز میں معروف سائن سدان سٹیفن ہاکنگ، کارل مارکس اور چارلس ڈکن شامل ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے مشال سے ان کے کام اور حالیہ لیڈی ڈیانا ایوارڈ کے حوالے سے گفتگو کی ہے، جو کچھ یوں ہے۔

ایوارڈ جیتنے کے  بعد کے احساسات؟

اس سوال پر مشال کہتی ہیں کہ ’گذشتہ 10 سالوں سے سماجی کاموں میں حصہ لے رہی ہوں اور یہ میں کسی ایوارڈ کے لیے نہیں کر رہی تھی لیکن ایوارڈ جیتنے کے بعد جو سپورٹ مجھے ملی وہ میں بیان نہیں کر سکتی۔

مجھے ایوارڈ ملنے سے بہت زیادہ حوصلہ ملا ہے اور بہت زیادہ خوش ہوں۔ آج کل دنیا ایک سخت وقت سے گزر رہی  ہے اور  یہ ایوارڈ دیگر خواتین کو حوصلہ بھی دے گا کہ وہ آگے بڑھ کر سماجی کاموں میں حصہ لیں۔

کیا آپ سمجھتی ہیں کہ پاکستانی خواتین میں ٹیلنٹ موجود ہے لیکن انہیں موقعے کی ضرورت ہے؟

اس کے برخلاف، میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان میں بہت زیادہ مواقع ہیں لیکن ان مواقعوں سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے ایک مشترکہ کوشش کی ضرورت ہے تاکہ کمزور طبقہ اس کوشش سے فائدہ حاصل کر سکے۔

اس کی مثال یہ ہے کہ خواتین کا ایک بڑا طبقہ پاکستان کے دور دراز علاقوں میں تعلیم سے محروم ہے،  باوجود اس کے کہ پاکستان میں سکول اور اچھے تعلیمی ادارے موجود ہیں۔

اس کا مطلب یہی ہے کہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ لڑکیاں تعلیم حاصل کر سکیں کیونکہ تعلیم کے مواقع موجود ہیں لیکن لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔

آپ کس قسم کے سماجی کاموں میں حصہ لیتی ہیں؟

میں جب 14 سال کی تھی تو تب سے سماجی کاموں میں حصہ لے رہی ہوں۔ اس وقت میرے والد ہسپتال میں ملازم تھے اور اسی وقت سے مختلف ہسپتالوں میں سماجی کاموں میں حصہ لے چکی ہوں۔

اس کے علاوہ میں ماحولیاتی تبدیلی، خواتین اور بچوں کے حقوق سمیت مختلف لوگوں کو قانونی خدمات فراہم کرتی ہوں۔

میں نے ماضی میں ہلال احمر، ہیلپ فار دی ہوپ لیس، لیگل ایڈ سمیت مختلف غیر سرکاری اداروں کے ساتھ کام کیا ہے۔

کیا پاکستان میں خواتین کو مردوں کی سپورٹ کی ضرورت ہے؟

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ظاہری بات ہے کہ سپورٹ کی ضرورت ہے۔ دنیا میں ابھی تک خواتین اور مردوں کی برابری کا ٹارگٹ حاصل نہیں کیا گیا۔

خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے مردوں کی حمایت لازمی ہے۔

میرا تعلق پشتون خاندان سے ہے اور پشتون بنیاد پرست سمجھے جاتے ہیں لیکن میرے والد، دادا اور گھر کے دیگر مردوں نے سپورٹ کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں ان پابندیوں سے آزاد تھی اور معاشرے کے لیے کچھ کرنے کی  کوشش کرتی ہوں۔

اسی طرح تمام خواتین کو سپورٹ کی ضرورت ہے اور ہم سب مل کر یہ کر سکتے ہیں۔

مستقبل میں کیا کرنا چاہتی ہیں؟

میں بہت زیادہ خوش ہوں کہ پاکستانیوں کی طرف سے بہت زیادہ سپورٹ ملی  اور اسی نے مجھے حوصلہ دیا کہ اب میں ایک خیراتی ادارہ قائم کروں جو میرے دادا کا خواب تھا جنھوں نے علاقے میں خواتین کی تعلیم کے لیے بہت کوششیں کی ہیں اور اپنی بیٹیوں کو بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا ہے۔

اب میں اپنی والدہ کی مدد سے اسی مشن کو آگے لے کر جاؤں گی اور خواتین کی تعلیم کے لیے کام کروں گی۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں