اسرائیلبین الاقوامیتارکین وطنصحتہیومن رائٹس

غزہ کے بچوں کی شہید بچوں کی یاد میں فضا میں تصاویر والے غبارے چھوڑنے کی تقریب

غزہ کی ناکہ بندی میں زندگی گزارنے  والے بچوں نے اسرائیلی کے تازہ ترین حملوں میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے اپنے ہم عمر افراد کی تصاویر کوغباروں کے ذریعے  فضا میں  بھیجی ہیں۔

غزہ میں پروٹیکٹریٹ ہیومن رائٹس سنٹر کے زیر اہتمام یادگاری تقریب میں شریک بچے ، اسرائیل کے حملوں میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والے  الکولک خاندان کے مکانات کے سامنے جمع ہوئے جن کو  5 مئی کی صبح کو تباہ کردیا گیا تھا۔

اس کارروائی میں ، جس نے اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کروائی کہ اسرائیل نے غزہ پر اسرائیل نے اپنے حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا ، بچوں نے جو بینر  اٹھا رکھے تھے  ان پر یہ الفاظ  تحریر تھے۔ "ہمارے خواب ” ، "غزہ کے بچوں کو قتل نہ کرو” ، "مجھے بغیر کسی خوف کے زندہ رہنے کا حق ہے” ، "ااپنی زندگیاں  بچاو ،”، میرا گھر  جسے اسرائیل نے تباہ  کیا ہے وہی تعمیر کرے  "”غزہ سب سے بڑی کھلی جیل” ہے ۔

بچوں نے اسرائیلی کے تازہ ترین حملوں میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے اپنے ہم عمر افراد کی تصاویر کوغباروں کے ذریعے  فضا میں  بھیجی ہیں۔

غزہ کی پٹی پر محصور اسرائیل کی جانب سے 10 مئی کو شروع کیے گئے حملے 21 مئی کو حماس کے ساتھ جنگ اوربندی کے خاتمے  پر  اختتام پزیر ہوئے۔

گیارہ روزہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم 254 فلسطینی ، جن میں 66 بچے تھے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

غزہ میں فلسطینی کی وزارت صحت کی رپورٹ کے مطابق الکولک خاندان عام شہریوں کو نشانہ بنائے جانے والے حملوں میں سب سے زیادہ  ہلاک ہوئے۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں