انسانی حقوقبجٹپاکستانحقوقکالم و مضامینکراچیہیومن رائٹس

قومی اسمبلی کے بعد سوشل میڈیا پر بھی وزیر خارجہ اور بلاول کے ایک دوسرے پر لفظی وار

– کالم و مضامین –

قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ہونے والی تلخ کلامی کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان پر تنقید کے لیے ٹوئٹر کا سہارا لیا۔

جس پر جواب دینے میں سوشل میڈیا پر متحرک بلاول بھٹو زرداری نے بھی دیر نہیں لگائی اور کہا کہ وفاقی وزیر ‘حسِ مزاح سے محروم ہیں’۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ ‘قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین اور جمہوری روایات و اقدار کے مبلغ نے سرِ عام ایک منتخب رکن پارلیمینٹیرین کا فون ٹیپ کرنے کا مطالبہ کیا جو بنیادی حقوق، قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کے لیے بہت کچھ ہے’۔

خیال رہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے 2 روز قبل شاہ محمود قریشی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم کو آئی ایس آئی سے کہنا چاہیے کہ شاہ محمود قریشی کا فون ٹیپ کریں کیوں کہ یہ جب ہمارے وزیر خارجہ تھے تو دنیا میں مہم چلاتے تھے کہ یوسف رضا گیلانی کی جگہ انہیں وزیراعظم بنادیا جائے، اسی وجہ سے انہیں وزارت سے بھی فارغ کیا گیا تھا۔

وزیر خارجہ کی ٹوئٹ کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے بھی ٹوئٹر پر ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘یہ بات واضح ہوجائے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ کے حسِ مزاحسے محروم ہیں’۔

ان دونوں ٹوئٹس نے سوشل میڈیا پر دونوں جماعتوں کے حامیوں کی بحث چھیڑ دی، شاہ محمود قریشی کے حامیوں نے بلاول بھٹو زرداری کے مبینہ دہرے معیار پر انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک جانب پیپلزپارٹی سیاست میں فوج اور آئی ایس آئی کی مداخلت نہ ہونے کی بات کرتی ہے دوسری جانب پارٹی کے سربراہ خود اداروں کو اپنی سیاست میں گھسیٹتے ہیں۔

اس پر پیپلز پارٹی کے اراکین دفاعی انداز اختیار کرتے دکھائی دیے اور ان کی بڑی دلیل یہی تھی کہ بلال بھٹو زرداری کا کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا بلکہ انہوں نے طنزاً ایسا کہا تھا۔

بجٹ سیشن کے آخری روز جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے فنانس بل 2021 کی منظوری پر سوالات اٹھائے اور اسپیکر پر جانبداری کا الزام لگایا تو دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی بلکہ ذاتی نوعیت کے ریمارکس دیے گئے۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر میں الزام عائد کیا تھا کہ جب پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ تھے تو وہ دنیا بھر میں یوسف رضاگیلانی کی جگہ اپنے آپ کو وزیراعظم بنانے کی مہم چلاتے تھے۔ چیئرمین پی پی پی نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ وزیراعظم عمران خان سے درخواست کرتے ہیں کہ آئی ایس آئی کو شاہ محمود قریشی کا فون ٹیپ کرنے کا کہیں تا کہ سچ سامنے آئے۔

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ شاہ محمود قریشی کے اسی عمل کی وجہ سے انہیں کابینہ سے نکالا گیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے حکومتی اراکین کو خبردار بھی کیا تھا کہ وزیر خارجہ خود وزیراعظم بننے کے خواہشمند ہیں اس لیے وہ خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ جتنا ہم ملتان کے فاضل رکن کو جانتے ہیں اتنا تو آپ بھی نہیں جانتے، ابھی عمران خان کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ کیا چیز ہیں۔

دوسری جانب شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں انہیں اس وقت سے جانتا ہوں جب کونے میں کھڑے ہو کو جھڑکیاں کھاتے تھے میں ان کو بھی جانتا ہوں ان کے بابا کو بھی جانتا ہو، یہ مجھے کیا جانتے ہوں گے۔ وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ یہ پیپلز پارٹی کی بات کررہے ہیں، آپ بچے کو لکھی ہوئی 2، 4 پرچیاں پکڑا دیتے ہیں اور بچہ آکر آٹو پر آن ہوجاتا ہے، سوئچ آن ہوجاتا ہے آف ہوجاتا ہے۔



جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں .
آواز جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھئے
Close
Back to top button