اسرائیلانسانی حقوقبھارتپاکستانحقوقفلسطینیورپ

یاسر عرفات کو زہر دے کر قتل کرنے سے متعلق کیس خارج، یورپی عدالت

ہاں


4 آراء

یورپ کی عدالت برائے انسانی حقوق نے فلسطین کے سابق حکمران یاسر عرفات کو زہر دے کر قتل کرنے سے متعلق کیس خارج کردیا جو ان کی بیوہ اور بیٹی نے دائر کیا تھا۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سوہا الکودوا عرفات اور زاہوا الکودوا عرفات نے یورپی عدالت میں 2017 میں دائر کیا تھا، دونوں ماں بیٹی فرانس کی شہری ہیں، تاہم عدالت نے ان کے دعووں کو مسترد کردیا۔

یاد رہے کہ یاسر عرفات 75 برس کی عمر میں 2004 میں پیرس کے پیرسی ملٹری ہسپتال میں انتقال کرگئے تھے اور انہیں ان کے مرکز مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں معدے میں تکلیف ہوئی تھی اور انہیں علاج کے لیے منتقل کردیا گیا تھا۔

فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد نے اسرائیل پر الزام عائد کیا تھا کہ یاسر عرفات کو زہر دے کر مارا گیا ہے جبکہ اسرائیلی نے ان خبروں کی تردید کی تھی۔

بعد ازاں 2012 میں ان کی بیوہ سوہا الکودوا عرفات نے کہا تھا کہ ان کے کپڑوں میں ریڈیو ایکٹیو آئسوٹوپ پولونیم 210 کا سراغ ملا ہے، جس کے باعث فرانسیسی عدالت نے ان کے قتل کا خدشہ ظاہر کیا۔

مغربی پیرس میں نینٹر کی عدالت میں تجزیے اور گواہوں کے بیانات کے سلسلے کے بعد عدالت نے اپیل پر اپنے فیصلے میں حکم کو برقرار رکھا تھا۔

یاسرعرفات کی بیوہ کے وکلا کا فیصلے کے بارے میں کہنا تھا کہ تفتیش ‘بنیادی طور پر جانب دار’ رہی ہے اور ججوں کو تفتیش جلد بازی میں بند کرنے کا مرتکب قرار دیا۔

خیال رہے کہ یاسر عرفات کی بیوہ اور ان کی بیٹی 2017 میں یورپی عدالت میں چلی گئی تھیں اور کہا تھا کہ انہیں شفاف سماعت کا حق دینے سے انکار کردیا گیا، خاص کر یاسر عرفات کے انتقال پر ماہرین کی اضافی رپورٹ کے لیے دی گئی درخواست کو بھی رد کردیا گیا۔

عدالت کے تین رکنی بینج نے مقدمے کا جائزہ لینے کے بعد متفقہ طور پر کہا تھا کہ ‘درخواست گزاروں کو وکلا کے تعاون سے سماعت کے تمام مراحل میں اپنے حقوق کے موثر استعمال کا موقع ملا’۔

ججوں نے کہا کہ ‘جج ان کے سامنے پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پرصوابدیدی نتیجے پر نہیں پہنچی اور فائل میں ثبوت کی تشریح یا متعلقہ قانون غیرمعقول نہیں تھا’۔

یاد رہے کہ نومبر 2017 میں سوئس سائنسدانوں نے فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی موت کے حوالے سے اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی موت زہر سے ہوئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یاسر عرفات کی لاش کے ٹیسٹ اس بات کے حق میں جاتے ہیں کہ ان کی موت پولونیم- 210 زہر دیے جانے کے باعث ہوئی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ عرفات کی ہڈیوں میں پولونیم کی مقدار 20 گنا زیادہ تھی جس سے پرانی رپورٹ کے ان مندرجات کی بھی نفی ہو گئی جس میں کہا گیا تھا کہ پولونیم کی زیادہ مقدار اطراف میں موجود سگریٹ کے دھویں کے باعث تھی۔

منبع: ڈان نیوز

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں