اسرائیلامریکہبھارتپاک بھارتپاکستانتجارتترکیچینکشمیر

ڈرامہ ’دھوپ کی دیوار‘ پر ملک دشمنی کا الزام کیوں لگا؟

https://www.youtube.com/watch؟v=Rbd1DabRLx0
جب نسلوں کی پرورش کرتے ہوئے آپ گداز جذبوں کی بجائے دشمنی اور نفرت کے بیج بوئیں اور بچوں کو بھی درسی کتب میں سرھد کے اس پار رہنے والے راکھشس کی کہانیاں سنائی جائیں تو پھر ایسی نسلیں جوان ہو کر کچھ اور سمجھنے کو تیار نہیں ہوتیں، حتی کہ وہ وقت کی رفتار دیکھنے سے بھی عاری ہوتی ہیں۔ یہی منظر پاکستانی لکھاری عمیرہ احمد نے اپنی نئی ڈرامہ سیریل ‘دھوپ کی دیوار‘ میں کھینچا ہے جو زی ٹی وی پر نشر ہو گا۔ ‘دھوپ کی دیوار‘ نے براڈ کاسٹ ہونے سے قبل ہی بھارت اور پاکستان کے بیچ ایک تنازعے کی دیوار کھڑی کر دی ہے۔
بہت سے پاکستانیوں کا خیال ہے کہ اس سیریل کو بین کر دینا چاہیے اور نشر ہونے سے پہلے ہی روک دینا چاہیے کیونکہ یہ کشمیری عوام سے غداری ہے اور غداری بھی وہ والی، جس میں مصنفہ ایک مشہور پاکستانی ڈرامہ رائٹر ہو، ہیروئن پاکستانی مسلمان لڑکی اور ہیرو بھارتی ہندو لڑکا ہو، دونوں کے والد فوجی ہوں لیکن دونوں ایک جھڑپ میں ہلاک ہو جائیں۔ سونے پر سہاگا کہ اس ڈرامے کی کہانی خاص کر کشمیر میں پلوامہ حملے کے تناظر میں لکھی گئی ہو تو ایسی صورت میں یہ ابال ایک بھونچال کی صوت اختیار کر لیتا ہے، اور ایسا ہی ہوا۔
گوکہ سرحد کے اس پار بھی کچھ ایسے ہی خیالات دیکھنے کو ملے لیکن وہاں اعتدال بھی رہا اور اس کی حمایت میں بھی بیانیہ نظر آیا، کچھ امن پسند اس طرف بھی نظر آئے۔ یاد رہے کہ بھارت اور پاکستان کا ‘لو اینڈ ہیٹ‘ ریلیشن شپ ہے۔ یہ نہ ایک دوسرے کے بنا گزارا کر سکتے ہیں اور نہ ہی میل ملاپ اتنا بڑھنے دیتے ہیں کہ دلوں کی کدورتیں ہمیشہ کے لیے دور ہو سکیں۔ پاکستانی یہ بات تو برداشت کر لیتے ہیں کہ کوئی پاکستانی نوجوان کسی بھارتی کنہیا کو بیاہ کر اپنے وطن لے آئے لیکن ان کو یہ گوارا نہیں کہ ایک پاکستانی لڑکی کسی بھارتی ہندو لڑکے سے محبت کرے۔ اس لئے اس ڈرامے کو ملک دشمن سوچ پر مبنی قرار دیا جا رہا ہے۔
اس ڈرامے کا موضوع کشمیر اور سرحد کے پار دونوں اطراف بسنے والے انسانوں اور خاندانوں کی زندگیاں ہیں۔ اس میں بطور اداکار کام کرنے والے آرٹسٹ بھی پاکستانی ہیں۔ مرکزی کردار سجل علی اور احد رضا میر نے نبھائے ہیں۔ ڈرامے پر تنازعے کا آغاز اس کا ٹریلر ریلیز ہونے کے بعد اس نکتے سے ہوا کہ یہ ویب سیریز زی فائیو خرید چکا ہے اور اب یہ زی فائیو پر نشر ہو گی۔
سرحد کے پار دونوں طرف عوام کے ڈرامے کے حوالے سے ملے جلے تاثرات رکھتے ہیں لیکن اس مرتبہ ناپسند کرنے والوں کی بڑی تعداد ہماری طرف ہے۔ پاکستانی نوجوانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس ڈرامے پر بین لگایا جائے کیونکہ یہ کشمیر کے موضوع پر بنا ہے اور کشمیری عوام ایک قیدی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
متعدد پاکستانیوں کے مطابق کشمیر اپنی خصوصی آئینی حیثیت کھونے کے بعد ‘دنیا کی سب سے بڑی جیل‘ کی صورت اختیار کر چکا ہے تو ایسے وقت میں پاکستانی رائٹر کا بھارت کے لیے ایک ایسا ڈرامہ لکھنا کشمیری عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی مترادف ہے بلکہ دو قومی نظریے کی بھی نفی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے عمیرہ احمد پر غداری کے فتوے بھی لگائے گئے۔ جواب میں عمیرہ نے تفصیلی بیان جاری کیا اور بتایا کہ اس کا ڈرافٹ 2019 میں آئی ایس پی آر کو جانچ پڑتال کے لیے بھیجا گیا تھا جس کو اس میں کچھ غلط نہیں لگا تھا بلکہ اس کو سراہا گیا تھا۔
یعنی اس ڈرامے کی کہانی کو آئی ایس پی آر کی آشیر باد حاصل ہے، جس سے ایک بات تو واضح ہو گئی کہ پاکستان اور بھارت کے بیچ مراسم بڑھانے اور امن کی آشا کی خواہش کا باقاعدہ بیانیہ 2019 سے بھی پہلے ترتیب دے لیا گیا تھا۔ جنرل باجوہ کی کچھ عرصہ قبل صحافیوں سے طویل ملاقات کے بعد جب گفتگو باہر آئی تو لوگ یہ سمجھے کہ اب فیصلہ کیا جا رہا ہے کہ دونوں طرف امن قائم ہو کیونکہ سیز فائر کا معاہدہ بھی ہو چکا تھا۔ لیکن اس ڈرامے کی بابت تفصیلات جان کر یہ آشکار ہوا ہے کہ پاکستان فوج کی جانب سے امن کے بیانیے پر باقاعدہ طور پر کافی عرصے سے کام کیا جا رہا ہے۔
مثبت سوچ رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں سرحد کے اس پار اور سرحد کے اس پار رہنے والوں کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ وقت انسان کی رفتار سے تیز چلتا ہے اور اس کی رفتار کا ساتھ دینے میں ہی زندگی کا حسن قائم رہتا ہے۔ آج مسلم امہ کا لیڈر بننے کا خواہش مند ترکی بھی اسرائیل کے ساتھ بڑے پیمانے پر تجارت جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکا اور چین کی سخت مخاصمت کے باوجود امریکی منڈی میں پہلے نمبر پر جس ملک کے تجارتی مال کی کھپت ہوتی ہے، وہ چین ہے جبکہ بھارت اور پاکستان کے بیچ آلو اور ٹماٹروں کی تجارت بھی بند ہے۔
پاک بھارت دوستی کے داعی کہتے ہیں کہ فلم، آرٹ، موسیقی، رقص اور کتاب کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ فنون لطیفہ کو ہوا کی طرح بے لگام ہونا چاہیے تاکہ دشمنوں کے بیچ بھی دوستیاں اور رشتے قائم رہ سکیں اور انسانیت سانس لیتی رہے۔



مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں