انسانی حقوقانصافبرطانیہبین الاقوامیپاکستانپشاورتارکین وطنحقوقہیومن رائٹس

ضم شدہ اضلاع: ’پہلے پولیٹیکل ایجنٹ فیصلہ کرتا تھا اب انتظامیہ‘

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے 20 مئی 2021  کو ایک قانون اے ڈی آر (آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن ایکٹ) سات میں سے چھ ضم شدہ اضلاع میں نافذ کرنے کا فیصلہ پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس لعل جان اور جسٹس اعجاز انور کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایڈوکیٹ و درخواست گزار فواد افضل خان صافی کی جانب سے دائر درخواست پر جمعرات 24 جون کو سماعت کی، جس میں درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ نیا قانون اے ڈی آر پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 175 اور آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اس کے پیچھے ’بدنیتی‘ کا عنصر شامل ہے، لہذا اس حکومتی اقدام کو فی الفور منسوخ کیا جائے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اے ڈی آر قانون انگریز دور کے فرنٹئیر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کی ایک نئی شکل ہے جس میں پولیٹیکل ایجنٹ کے اختیارات ضلعی انتظامیہ کو سونپ دیے گئے ہیں اور اس طرح ضم شدہ اضلاع کے عوام کو ایک مرتبہ پھر عدالتی نظام اور انصاف سے محروم کر دیا گیا ہے۔

ایڈوکیٹ فواد افضل خان صافی کا کہنا ہے کہ اے ڈی آر قانون 2020 میں پیش کیا گیا تھا جس کو انہوں نے اس وقت بھی چیلنج کیا تھا۔

جب انڈپینڈنٹ اردو نے ان سے پوچھا کہ وہ کیوں اس قانون کی مخالفت کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’اے ڈی آر کو سرے سے قانون ہی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ قانون کے پیمانوں پر پورا نہیں اترتا۔‘

’اس قانون کے تحت ضلعی انتظامیہ کو عدالت کے اختیارات دیے گئے ہیں جو 1973 آئین، آرٹیکل 175 کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب، اے ڈی آر کو قبائلیوں کے مسائل حل کرنے کا اختیار دے کر بھی فیصلوں پر عمل کروانے کا اختیار لے لیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ فیصلہ اے ڈی آر کرے گا اور نفاذ عدالت کے حکم پر ہوگا۔‘

ایڈوکیٹ صافی نے اے ڈی آر کو ایف سی آر سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پہلے پولیٹیکل ایجنٹ قبائلیوں کی قسمت کے فیصلے کرتا تھا اور اب وہی اختیارات انتظامیہ کو سونپ دیے گئے ہیں۔‘

’پھر یہ بھی ایک غور طلب نکتہ ہے کہ انتظامیہ اور پولیس کو روزانہ کے معملات اور تنازعات میں الجھا کر ان کی اپنی ذمہ داریوں پر کتنا اثر پڑے گا؟ نیز اے ڈی آر کے مطابق، اگر ایک فریق مسئلے میں طلب کیے جانے پر حاضر نہ ہو تو چئیرمین اے ڈی آر کی جانب سے اس پر جرمانہ بھی عائد ہوسکتا ہے، جو عام عدالتی نظام میں نہیں ہوتا۔‘

اے ڈی آر پر تنقید کی مزید وجوہات بیان کرتے ہوئے ایڈوکیٹ پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا میں اس وقت تین متوازی قوانین پر عمل درآمد ہو رہا ہے جن میں 2017 کا پولیس ایکٹ، جس کے تحت تنازعات کی مصالحتی کونسل (ڈی آر سی) کام کرتی ہے۔ دوسرا قانون خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ (ایل جی اے) جس کی دفعہ 118 کے تحت مصالحتی کونسل سول مقدمات کو حل کرنے کا اختیار رکھتی ہے، جب کہ تیسرا قانون اے ڈی آر ہے۔‘

’سوال یہ ہے کہ جب سابقہ فاٹا کا انضمام 2018 میں ہوا، اور ساتھ ہی وہاں عدالتی نظام کا قیام بھی ہوا، جہاں قبائلیوں کے روزانہ معاملات کے فیصلے بہترین انداز میں ہورہے ہیں تو 2020 میں حکومت خیبر پختونخوا کو اے ڈی آر کو متعارف کرنے کی ضرورت آخر کیوں پیش آئی؟ اس قانون کو پورے صوبے کے لیے متعارف کر کے اس کو شمالی وزیرستان کے علاوہ چھ قبائلی اضلاع میں نافذ کرنا بھی کئی شبہات کو دعوت دیتا ہے۔‘

درخواست گزار فواد افضل نے کہا کہ ’اے ڈی آر میں شامل ارکان تک رسائی بھی بہت آسان ہے اور کوئی بھی بااثر شخص اے ڈی آر کے ارکان تک رسائی حاصل کرکے فیصلہ اپنے حق میں موڑ سکتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب پاکستانی آئین کے آرٹیکل 25 کے مطابق قانون کی نظر میں سب شہری برابر ہیں تو پھر کیوں ایک شخص کے لیے جرگہ تو دوسرے کے لیے عدالت فیصلہ کرتی ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اے ڈی آر کمیٹی میں شامل ارکان کون ہیں؟

اے ڈی آر قانون کے تحت کسی بھی ممکنہ تنازعے کا فیصلہ ثالثین سلیکشن کمیٹی کرے گی جو کہ سات ارکان پر مشتمل ہے جن میں ایک ڈویژنل کمشنر بطور چئیرمین، ایک علاقائی پولیس افسر، سینئر سول جج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نمائندہ، وکیل استغاثہ، ایک سپیشل برانچ کانمائندہ اور ایک علاقے کا ڈپٹی کمشنر شامل ہوگا۔

ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر ثالثین سات سال کا تجربہ رکھنے والے وکلا، ریٹائرڈ جوڈیشل افسران، ریٹائرڈ سول افسران، علما، اور علاقائی عمائدین کو تین سال کے لیے اس کمیٹی کے لیے منتخب کر سکتے ہیں۔

نئے اے ڈی آر قانون کی دفعہ 73 کے مطابق، 2017ضم شدہ اضلاع میں پولیس ایکٹ کے اختیارات کو محدود کرکے پولیس کا کام فوجداری مقدمات نمٹانے تک رہ گیا ہے۔

اے ڈی آر کے حق میں دلائل

دوسری جانب، قبائلی ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن حسیب سلارزئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’قبائلی اضلاع میں انضمام کے بعد کئی مسائل تھے جن میں جائیداد کے تنازعات و تقسیم سرفہرست تھے۔ انہوں نے کہا کہ متذکرہ مسائل کو فی الحال عدالتوں کے ذریعے حل کرنا مشکل تھا، لہذا اے ڈی آر کو متعارف کرایا گیا تاکہ فوری اور سستا انصاف مل سکے۔‘

’قبائلی اضلاع میں جائیداد کا ریکارڈ نہ ہونے کی وجہ سے ان مسائل کو صرف اے ڈی آر جیسے قانون ہی سے حل کیا جاسکتا تھا۔کیونکہ اس میں شامل  غیر جانبدارمعزیزین علاقہ کے پاس تمام تر معلومات ہوتی ہیں۔‘

حسیب سلارزئی نے اے ڈی آر کو ایک مناسب قانون گردانتے ہوئےکہا کہ ’اس سے عدالتوں پرمقدمات کا بوجھ کم ہوتا ہے اور علاقہ مکین کو کچہریوں میں جانے کی زحمت نہیں بھی کرنی پڑتی۔‘

’اے ڈی آر کوئی نیامتعارف کردہ نظام نہیں ہے۔ پاکستان کا عدالتی نظام انگلش لا پرقائم ہے۔ مملکت برطانیہ میں ایل ایل ایم اور ایل ایل بی کے کورس میں آج بھی اے ڈی آر کا ایک چیپٹر شامل ہے۔ کیا ہم ان سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہیں؟ دوسری بات یہ کہ اے ڈی آر کے پاس اپنے مسائل لے کر جانا قبائلیوں کی اپنی صوابدید پر ہے۔ لہذا اس کو ایف سی آر سے تشبیہ دینا زیادتی ہے۔‘

تاہم اس دلیل سے قطع نظر اے ڈی آر قانون کی شق نمبر سترہ کے مطابق، ثالثین کے فیصلے کے خلاف نہ تو اپیل کی جا سکتی ہے اور نہ ہی فیصلے پر نظرثانی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اے ڈی آر کے مخالفین اس کو ایف سی آر ہی کی ایک نئی شکل قرار دے رہے ہیں۔

حسیب سلارزئی نے اس کے جواب میں کہا کہ’میں پاکستان تحریک انصاف کابہت بڑا ناقد ہوں۔ لیکن پھر بھی میں کہہ رہا ہوں کہ اے ڈی ار کچھ اتنا برا قانون نہیں ہے۔ اگر یہ اتنا ہی برا ہوتا تو قبائلی اضلاع کے ارکان صوبائی اسمبلی ضرور اس کے خلاف آواز اٹھاتے۔ اے ڈی آر کو فی الحال صرف چھ ضم شدہ اضلاع میں اس لیے نافذ کر دیا گیا ہے کیونکہ ان علاقوں کو باقی صوبے کی نسبت اس کی زیادہ ضرورت تھی۔‘

انہوں نے کہا،’شمالی وزیرستان میں غالباً اس لیے یہ قانون رائج نہیں ہے کیونکہ وہاں ابھی حالات اس قابل نہیں ہیں کہ اے ڈی آر کو وہاں تک پھیلایا جائے۔ پورے ضم شدہ اضلاع میں شمالی وزیرستان ایسا علاقہ ہے جہاں عدالتی نظام بھی پوری طرح قائم نہیں ہوسکا ہے۔‘

حسیب سلارزی نے کہا کہ آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن میں صرف ایسے ارکان کو شامل کیا جاتا ہے جو غیر جانبدار ہوں اور جن کا کوئی سیاسی جھکاؤ نہ ہو۔

’اگر ایسا ہوتا تو قبائلی اضلاع کے عوام سیاسی لحاظ سے اتنا شعور رکھتے ہیں کہ وہ ہر فورم پر آواز اٹھاتے۔ جہاں تک رٹ کی بات ہے تو یہ صرف اس صورت میں کی جاسکتی ہے جب انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔‘

2018 میں انضمام کے بعد سات قبائلی اضلاع میں ترقی یافتہ کاموں کے حوالے سے وفاق اورصوبائی حکومت کی جانب سے کافی وعدے کیے جا چکے ہیں تاہم ناقدین کے مطابق ان اضلاع کو ابھی بھی ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے میں بہت وقت لگے گا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 22 جون کو جاری ایک بیان میں بھی اس جانب اشارہ کیا گیا تھا کہ ضم شدہ اضلاع کے ساتھ کیے گئے وعدے تاحال پورے نہیں ہوسکے ہیں حتی کہ قبائلیوں کے ساتھ کیے گئے 74 بلین روپے ترقیاتی فنڈ میں صرف سینتیس بلین روپے فراہم کیے جاچکے ہیں۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں