انویسٹمنٹبجٹپاکستانتعلیمچینصحتکاروبارکورونا وائرس

غریب عوام پر ہم بوجھ نہیں ڈالیں گے آئی ایم ایف کو کہہ دیا ہے

وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ پاور سیکٹر میں صلاحیتی ادائیگی کے حوالے سے آئی ایم ایف کو کہہ دیا ہے کہ حکومت، غریب عوام پر بوجھ نہیں ڈالے گی اور بجلی کے ٹیرف میں اضافہ نہیں کریں گے۔
بجٹ پر بحث کے دوران قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاور سیکٹر میں صلاحیتی ادائیگی کا مسئلہ ہے اس کی وجہ سے 900 ارب روپے ہم اس مد میں ادا کررہے ہیں جو ہم استعمال بھی نہیں کرتے، تاہم ٹیرف میں کوئی اضافہ نہیں کر رہے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت نے آئی ایم ایف کو کہہ دیا ہے کہ غریب عوام پر ہم بوجھ نہیں ڈالیں گے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم اس نقصان کو کم کرنے کے لیے ان پاور پلانٹس کی انتظامیہ تبدیل کردی ہے، اسے کنٹریکٹ پر دینے کی کوشش کریں گے تاکہ نقصانات کم ہوں، یہ بہت بڑا چیلنج ہے’۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ‘2018-2019 کے درمیان نمو کم ہوکر 2 فیصد تک آگئی تھی تاہم عمران خان صاحب نے سخت فیصلے کیے جس میں سے ایک تعمیرات کے شعبے کو بڑھاوا دینا ہے، یہ بہت بڑا قدم تھا، اس میں قوانین کو درست کرنے کی ضرورت تھی، مارک اپ کی شرح کم کرنی تھی اور آئی ایم ایف سے مراعات حاصل کرنی تھیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ حکومت نے زراعت کو بڑھاوا دیا جس کی وجہ سے 4 فصلوں کی بہت زیادہ پیداوار ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کے دوران پوری دنیا میں منفی نمو دیکھی گئی مگر اس سال کے بجٹ میں ہم نے کہا تھا کہ 2.1 فیصد نمو ہوگی تاہم یہ اس سے دوگنی 4 فیصد پر پہنچ چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اب ہماری حکمت عملی میں یہ ہے کہ ہمیں اب نمو پر ہی انحصار کرنا ہے، جب تک معاشی نمو نہیں ہوگی نہ نئے روزگار پیدا ہوں گے نہ کمائی بڑھے گی’۔
انہوں نے کہا کہ ‘اس مرتبہ نمو میں ہم نے غریبوں کا خیال رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، 40 لاکھ گھرانوں کو سستے گھر بنا کر دیں گے، زرعی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو 3 لاکھ روپے تک کے بلا سود کے قرضے دیں گے اور 2 لاکھ ٹریکٹر وغیرہ لیز کرنے کے لیے دیں گے’۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ شہری علاقوں کے غریب خاندانوں کو 5 لاکھ تک کا بلا سود قرضہ کاروبار کے لیے دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو صحت کارڈ دیں گے تاکہ وہ صحت کے مسائل میں پریشانیوں سے بچ سکیں، اس کے علاوہ ہر خاندان کے ایک شخص کو تربیت دیں گے تاکہ وہ کما کر اپنا خاندان چلا سکیں۔
محصولات کی وصولی سے متعلق انہوں نے کہا کہ ‘ہم 4 ہزار ارب روپے سے اوپر چلے گئے ہیں اور آئندہ سال کے لیے 5 ہزار 800 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے، ہم ٹیکس نظام میں تبدیلیاں لارہے ہیں’۔
انہوں نے بتایا کہ ٹیکس ادا کرنے والے اور ٹیکس حاصل کرنے والوں کے درمیان خودکار نظام لارہے ہیں تاکہ ان کو آمنا سامنا نہ کرنا پڑے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ‘جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے اور عادتاً ٹیکس نہ دینے والے ہیں، ان کے لیے قوانین میں سے سیکشن 203 کو نکال دیا ہے جس کے ذریعے انہیں پوری کارروائی کرنے کے بعد گرفتار کیا جاسکے گا’۔
انہوں نے بتایا کہ ‘حکومت ودہولڈنگ ٹیکس کو ختم کرنے جارہی ہے اور اس بجٹ میں 12 ود ہولڈنگ ٹیکس کو ختم کر رہے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘موصول ہونے والی تجاویز میں سے ہم نے آٹو پالیسی کو 800 سے 1000 سی سی تک کردیا ہے، میڈیکل بلز پر ٹیکس واپس لے لیا ہے، سرکاری ملازمین کے پرویڈنٹ فنڈ پر ٹیکس کو واپس لے لیا ہے، دودھ اور دیگر مصنوعات پر 10 سے 17 فیصد ٹیکس کے اضافے کو واپس لے لیا ہے’۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ‘ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹریٹ سرٹفکیٹ کو بڑھا کر 25 فیصد کردیا تھا اسے کم کرکے ان ہی کی تجویز پر 15 فیصد کردیا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ای کامرس پلیٹ فارمز پر ٹیکس عائد کیا گیا تاہم اسے رجسٹرڈ پر صفر اور ان رجسٹرڈ پر 2 فیصد کردیا ہے، انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد کردی تھی اسے 20 فیصد کردیا ہے’۔
انہوں نے بتایا کہ ‘حکومت نے آئل ریفائنریز کو کافی مراعات دی ہیں، موبائل فون کالز، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر ٹیکس میں تبدیلی کردی ہے اور انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس پر اب کوئی ٹیکس نہیں ہوگا، صرف فون کالز پر 5 منٹ سے زیادہ بات کرنے پر 75 پیسے ٹیکس عائد ہوگا’۔
اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ‘نابینہ افراد کے استعمال کے خصوصی موبائل فونز پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا’۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ‘دودھ پر لاگو ٹیکس ختم کردیا گیا ہے، سونے اور چاندی پر عائد 17 فیصد ٹیکس کو کم کرکے بالترتیب ایک اور 3 فیصد کیا جارہا ہے جبکہ اس کی ویلیو ایڈیشن پر 17 فیصد ٹیکس برقرار رہے گا’۔
ان کا کہنا تھا کہ پولٹری اور مویشیوں کی فیڈ کے اجزا پر 17 فیصد ٹیکس کو 10 فیصد پر لارہے ہیں، درآمد شدہ انڈوں پر ٹیکس کو ختم کردیا گیا ہے، ٹیکسٹائل اشیا کی ریٹیل پر 12 فیصد ٹیکس لگتا تھا اسے کم کرکے 10 فیصد کردیا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ‘آٹے اور اس کی اشیا سے متعلق ٹیکس کے نفاذ سے متعلق ابہام پیدا ہوا تھا، اسے دور کردیا تھا تاہم دوبارہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم جو ترقی کرنے جارہے ہیں اس میں پی ایس ڈی پی کا بڑا ہاتھ ہے، حکومت نے 40 فیصد اضافہ کیا ہے اور اس سے 630 سے 900 ارب پر لے کر جارہے ہیں’۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ‘ملک کا رواں سال 7.1 فیصد مالی خسارہ رہا ہے اور آئندہ سال اسے 6.3 فیصد پر لے کر جائیں گے، پرائمری خسارہ 2018 میں 3.8 فیصد تھا اور اسے ہم 1.1 فیصد پر لے آئے ہیں اور آئندہ سال یہ 0.6 فیصد پر جائے گا’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت اب زراعت پر پیسے خرچ کرے گی، ہمیں اپنی آمدنی بڑھانی ہے تو زراعت پر توجہ دینی ہوگی’۔
انہوں نے کہا کہ ‘کسانوں اور ملز کے درمیان مڈل مین کو ختم کرنے کے لیے ملک بھر میں ایگری مالز قائم کرنے جارہے ہیں، مڈل مین جو پیسے کمارہا ہے وہ اس حکمت عملی سے ختم ہوجائے گا’۔
انہوں نے بتایا کہ اس سال ہم صنعتوں کو 45 ارب روپے کی مراعات دے رہے ہیں، صنعتوں کا پہیہ چلتا ہے تو نوکریاں بڑھتی ہیں اور کمائی بھی بڑھتی ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ‘ایس ایم ای کو اس دفعہ بڑھاوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں کوئی قرضہ نہیں دیتا تھا، ہم ایک پیکج لارہے ہیں اور ایس ایم ایز کو سستے 9 فیصد پر 100 ارب روپے کے قرضے دیں گے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘آٹو سیکٹر کے لیے نئی پالیسی واضح کی جارہی ہے، میری گاڑی اسکیم متعارف کرائیں گے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں مسئلہ تب ہوتا ہے جب ہماری درآمدات بڑھتی ہیں اور برآمدات اتنی نہیں بڑھتیں جس کی وجہ سے ڈالر کم ہوجاتے ہیں اس لیے ہم روایتی برآمدات میں ویلیو ایڈیشن کے لیے مراعات جاری رکھیں گے’۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ‘اس کے علاوہ ہم نئی لائنز متعارف کرارہے ہیں تاکہ برآمدات کا بیس بڑھ سکے، آئی ٹی 50 فیصد سالانہ نمو پر ہے، اسے مزید بڑھانے کے لیے ان کے تمام مطالبات مان لیے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ آئی ٹی کا شعبہ آئندہ 2 سے 3 سال میں 6 سے 8 فیصد برآمد کرے گا’۔
انہوں نے کہا کہ ‘سی پیک کے لیے ہم چین کے ساتھ بیٹھ کر ان کی ری لوکیٹ ہونے والی صنعتوں کو یہاں لانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ برآمدات پر مبنی صنعتیں یہاں آئیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘صرف چین نہیں خصوصی اقتصادی زونز میں دیگر ممالک سے بھی صنعتوں کو لانے کی کوشش کر رہے ہیں’انہوں نے کہا کہ ‘گزشتہ سال ہم نے برآمد کاروں ڈی ایل ٹی ایل پروگرام کے تحت 10 ارب دیے تھے، اس سال اسے دوگنا کرکے 20 ارب کردیا ہے’۔انہوں نے بتایا کہ ‘نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 30 ارب روپے رکھے گئے ہیں تاکہ چھوٹے گھروں کے لیے 3 لاکھ روپے فی گھر کی ایکوئٹی ادا کی جاسکے’۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ‘احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو 12 ہزار روپے دیے گئے اور آئندہ سال اس پروگرام کے تحت 260 ارب روپے رکھے گئے ہیں جو غریبوں کی صحت اور تعلیم وغیرہ کے لیے ادا کیے جائیں گے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت نے جون 2022 تک 10 کروڑ افراد کو کورونا ویکسین لگانے کا بڑا ہدف مقرر کیا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘وزیر اعظم عمران خان الیکٹرانک ووٹنگ نظام کو متعارف کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ آزاد ووٹنگ کے لیے اس کا اجرا بہت ضروری ہے اور اس بجٹ میں اس کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں’۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ‘آٹے گھی چینی وغیرہ پر حکومت ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا ارادہ رکھتی ہے’۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ‘کئی دہائیوں سے دیکھا گیا ہے کہ ڈیموں کے لیے کوئی پیسے نہیں رکھے جاتے کیونکہ یہ 10 10 سال تک کے منصوبے ہوتے ہیں اور حکومتیں سمجھتی ہیں کہ ان کے دور میں یہ مکمل نہیں ہوگا تو اس پر پیسے کیوں خرچ کریں’۔ انہوں نے کہا کہ ‘عمران خان کا نظریہ گزشتہ حکومتوں سے مخلتف ہے اور اس نے ڈیم کی تعمیر کے لیے پیسے مختص کیے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘وزیر اعظم عمران خان سب کی ترقی پر یقین رکھتے ہیں، اس بجٹ میں ایسے اقدامات اٹھائے ہیں کہ اس نظریے کو عملی شکل مل سکے اور ہمارا مستقبل بہتر ہو’۔



مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button