پاکستانحقوقخواتینکالم و مضامین

خواتین کا ٹافی سے موازنہ کرنے پر سوشل میڈیا پر تنقید: ’اب سمجھ آئی نئے پاکستان میں مرد کی شناخت روبوٹ اور عورت کی بطور ٹافی ہو گی‘

– کالم و مضامین –


کیا اب نئے پاکستان میں مرد کا تعارف بطور روبوٹ اور عورت کا کاغذ میں لپٹی ہوئی ٹافی کے طور پر ہوگا؟

یہ اور اس جیسے بہت سے تبصرے گذشتہ روز سوشل میڈیا پر اس وقت سامنے آئے جب ایک نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر نے اپنی ایک رپورٹ میں پردے اور بنا پردے کے عورت کی مثال ایک ٹافی سے دی۔

وہ ہاتھ میں کاغذ میں لپٹی ایک ٹافی اور بغیر ریپر کے ٹافی دکھاتے ہیں اور سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو ٹافی بنا ریپر کے ہو گی اس پر جراثیم حملہ کریں گے اور اسے کوئی نہیں کھائے گا لیکن جو ریپر میں ہو گی وہ محفوظ رہے گی۔

رپورٹر نے اس دوران وزیراعظم عمران خان کے اس حالیہ انٹرویو کا حوالہ بھی دیا جس میں انھوں نے ملک میں ریپ کے بڑھتے واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم روبوٹ نہیں ہیں۔ اگر کسی خاتون نے بہت کم کپڑے پہنے ہیں، اس کے مرد پر اثرات تو ہوں گے۔‘

واضح رہے کہ وزیراعظم کے اس بیان پر انھیں شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ اس سے قبل اپریل میں بھی وزیراعظم نے ملک میں بڑھتے ہوئے ریپ کے واقعات کی وجوہات میں ایک وجہ بے پردگی اور فحاشی کو قرار دیا تھا۔

سوشل میڈیا پر جہاں وزیراعظم کے بیان کے بعد خواتین نے اپنے تجربات بیان کیے کہ کیسے وہ مکمل لباس میں ہوتے ہوئے بھی ہراسانی کا سامنا کرتی ہیں، وہیں عورت کا موازنہ ٹافی سے کرنے پر بھی صارفین متعلقہ رپورٹر پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا صارف ماریہ عامر نے لکھا: ’اب مجھے سمجھ آئی کہ نئے پاکستان میں مرد کی شناخت بطور روبوٹ اور عورت ٹافی کے طور پر ہو گی۔۔۔ ریپر میں لپٹی ہوئی۔‘

لیلیٰ زیدی نے لکھا: ’کیا یہ خود کو سن بھی پا رہے ہیں۔ جیسے کہ عورتیں پاکستان میں ننگی پھر رہی ہیں اور ان کی یہ بازاری، توڑ مروڑ کر پیش کی گئی یہ منطق کیسے وضاحت کرتی ہے کہ کیوں مرد، بچے، حتیٰ کہ مردہ عورتیں اور جانور نشانہ بن رہے ہیں۔ ریپ کے متعلق یہ خطرناک گفتگو کہ عورتوں کو کیسے کپڑے پہننے چاہیں، کو ختم کرنا ہو گا۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’یہ کیا بیوقوفانہ منطق پیش کی جا رہی ہے اور بدقسمتی سے بڑی تعداد میں نوجوانوں کو پاکستان میں یہ ہی سکھایا جا رہا ہے۔‘

ایک اور خاتون نے لکھا: ’سکول میں ہمارے بائیولوجی کے ٹیچر بھی ہمیں ایسی ہی مثال دے کر دوپٹے سے سر ڈھانپنے پر مجبور کرتے تھے۔ پاکستانی مرد اور ان کی بکواس مثالیں۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’مرد اس قسم کی بے وقوفانہ منتطق لے کر تو آ جائیں گے لیکن خواتین، بچوں اور حتیٰ کے دیگر مردوں کو بھی جنسی طور پر ہراساں کرنا نہیں چھوڑیں گے۔‘

تاہم اس موقع پر چند خواتین نے اپنے تجربات کا بھی ذکر کیا۔

ایک صارف نے لکھا: ایک مرتبہ کسی نے میرے لباس کی وجہ سے مجھے بنا کور کی لولی پاپ کہا۔ میں یہ کبھی نہیں بھولوں گی۔‘

صحافی شازیہ نئیر نے بی بی سی کی حمیرا کنول سے بات کرتے ہوئے کہا بتایا کہ دفتر میں بھی خواتین کو ان کے لباس پر طرح طرح کے تبصرے برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر سوشل میڈیا پر بحث: ’مرد مت بنیں، روبوٹ بنیں‘

’جس عمران کو میں جانتی تھی وہ تو کہتا تھا کہ مرد کی آنکھوں پر پردہ ڈالنا چاہیے ناکہ عورت پر‘

جواد بمقابلہ روحیل: ’کیا ہم ایسے مرد کا ساتھ دے سکتے ہیں جو ہمارے لیے آواز بلند کر رہا ہے‘

’کبھی کہا جاتا ہے کہ پیسے پورے دیتی تو پورے کپڑے ملتے۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ آج تو تم بہت چکنی لگ رہی ہو۔ بڑی سیکسی ڈریسنگ ہے۔‘

شازیہ نئیر کہتی ہیں کہ فیس بک پر بھی لوگ بہت عجیب و غریب کمنٹس دیتے ہیں جس کے بعد انھوں نے اب اپنی تصاویر ہی لگانا چھوڑ دی ہیں۔

تاہم شازیہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کمنٹس کو اگنور کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

سوشل میڈیا پر جاری اس بحث میں بہت سے لوگوں نے متعلقہ رپورٹر سے یہ سوال بھی کیا کہ کیا یہ موصوف اپنی اس توجیح میں مردوں کو وائرس، جراثیم یا بیکٹیریا قرار دے رہے ہیں۔

تجزیہ نگار ضرار کھوڑو نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’لوگ بات کرتے رہے ہیں کہ اس ملک میں عورت ہونا کیسا ہے لیکن کوئی یہ بات نہیں کر رہا کہ مرد ہونا کتنا مشکل ہے۔ کیا ہم چیونٹی ہیں جو کھلے ہوئے لالی پاپ کی جانب بڑھتی ہیں یا ہم بپھرے ہوئے کتے ہیں جو بچا ہوا گوشت کا ٹکڑا لینا چاہتے ہیں۔‘

رانیہ نامی صارف نے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوالیہ انداز میں لکھا: ’تو یہ مان رہے ہیں کہ مرد وائرس ہوتے ہیں۔‘

بی بی سی کی تازہ ترین پوسٹس (تمام دیکھیں)

بی بی سی کی دیگر تحریریں

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں .
آواز جرات اظہار اور آزادی رائے پر یقین رکھتا ہے، مگر اس کے لئے آواز کا کسی بھی نظریے یا بیانئے سے متفق ہونا ضروری نہیں. اگر آپ کو مصنف کی کسی بات سے اختلاف ہے تو اس کا اظہار ان سے ذاتی طور پر کریں. اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ہمارے صفحات آپ کے خیالات کے اظہار کے لئے حاضر ہیں. آپ نیچے کمنٹس سیکشن میں یا ہمارے بلاگ سیکشن میں کبھی بھی اپنے الفاظ سمیت تشریف لا سکتے ہیں.

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں