بجٹبین الاقوامیپاکستاندفاعکراچیلاہورمعیشت

ہر طرف بجٹ اور تھپڑوں کی باز گشت سنائی دے رہی ہے































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































جون 2021ء کا یہ دوسرا رواں ہفتہ حیرت انگیز واقعات کے جلَو میں گزررہا ہے ۔چند واقعات و سانحات تو ایسے وقوع پذیر ہُوئے ہیں کہ قومی اور بین الاقوامی سرحدیں یکساں ہو گئی ہیں ۔ پاکستان میں اگر تازہ ترین قومی بجٹ ، جسے نئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور جسے ابھی منظور ہونا ہے ، کی باز گشت ہر جانب سنائی دے رہی ہے تو دوسری طرف دو تھپڑوں کی گونج بھی ساتھ ہی سنائی دے رہی ہے ۔ ان تھپڑوں میں ایک تو پی ٹی آئی حکومت کی ایک نہائت ذمہ دار سرکاری خاتون نے اپنے حریف سیاستدان کے منہ پر دن کی روشنی میں جڑا ہے تو دوسری جانب ایسا ہی ایک تھپڑ دور ، بہت دُور فرانس میں فرانسیسی صدر کے منہ پر مارا گیا ہے ۔ فرانسیسی صدر کو طمانچہ مارنے والے کو تو سزا سنا دی گئی ہے لیکن وطنِ عزیز میں تھپڑ مارنے والی ہستی کے بارے میں ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہُوئی ہے ۔ ہم ان تھپڑوں کا تفصیل کے ساتھ ذکر کریں گے لیکن سب سے پہلے قومی بجٹ پر بات کرنی چاہئے کہ بجٹ نے ہر محدود آمدنی والے پاکستانی کی چیخیں نکلوا دی ہیں ۔حکومت اور وزیر خزانہ کا دعویٰ ہے کہ بجٹ ”غریب پرور” ہے ۔ اس کے ساتھ ہی مزید بھی بلند بانگ دعوے کئے گئے ہیں جن پر یقین کرنا اور ایمان لانا ایک غریب اور متوسط طبقے کے فرد کیلئے نہائت دشوار ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ رواں لمحوں میں جب ہمارے عزت مآب وزیر خزانہ بجٹ پیش کررہے تھے ، پورے ملک میں بجلی کی شدید لوڈ شیڈنگ کے کارن قیامت برپا ہے ۔ ہر طرف عوام نے سر پر بانہیں رکھ کر بجلی کی کمیابی کے خلاف دہائی دے رکھی ہے ۔ دن کے 24گھنٹوں میں نصف دن تو بجلی کی آمد کے انتظار میں گزر جاتا ہے ۔ ایسے میں معیشت اور کارخانوں کا پہیہ خاک حرکت میں آنا ہے ۔ ایسے دگرگوں حالات میں کوئی احمق ہی حکومت کے ان دعووں پر یقین کرے گا کہ ”ملکی معیشت ترقی کے مدارج تیزی سے طے کررہی ہے ۔” لا حولہ ولا قوة۔ جون کے اس آگ برساتے مہینے میں بجلی کی شدید، پانی کی کمیابی اور قیامت خیز لوڈ شیدنگ میں مجبور عوام کو جن مہیب مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، اس کا احساس حکومتی ایوانوں کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھنے والی پی ٹی آئی حکومت کے وزرا کیا جانیں؟ ستم طریفی یہ بھی دیکھئے ، بلکہ ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ حکومت، وزرا اور بجلی کے وزیر خاص طور پر بجلی کی کمیابی کے بحران کو تسلیم کرنے کی بجائے اس کا ملبہ بھی گذشتہ نون لیگی اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں پر ڈال رہے ہیں ۔ وفاقی وزیر حماد اظہر ( جو سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کے صاحبزادے ہیں) نے تو غریب اور بیکس عوام کے محرومی کے زخموں پر یہ کہہ کر مزید نمک پاشی کی ہے کہ ”ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ صفر ہے ۔” یہ حکومتی بے حسی اسقدر بڑھ چکی ہے کہ گذشتہ ہفتے ہی ڈھیرکی ( سندھ) میں دو مسافر ٹرینوں کے باہمی تصادم کا ملبہ بھی سابقہ نون لیگی ریلوے وزیر ، خواجہ سعد رفیق، پر ڈال دیا گیا ہے ۔ پی ٹی آئی کے ایک وفاقی وزیر نے فرمایا :” جب نون لیگی سابق وزیر ریلوے کی نااہلیاںاپنی جگہ موجود ہوں تو ہمارا وزیر ریلوے (اعظم سواتی) استعفیٰ کیوں دے ؟۔”اب اس بیان پر عوام کیا ردِ عمل دیں ، سوائے یہ کہ ہم سب اس بے حسی پر اپنا اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جائیں ۔ عوام بجا طور پر سوال کرتے پائے گئے ہیں کہ عمران خان کی حکومت اپنی نااہلیوں کا ملبہ کب تک سابقہ حکومتوں پر ڈال کر اپنی جان چھڑاتی رہے گی؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ ٹرین کے اس جانکاہ حادثے میں 6درجن سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے اور 100سے زائد زخمی ہو گئے لیکن وزیر اعظم عمران خان نے اپنی زبان سے اس پر کوئی بیان نہیں دیا اور نہ ہی اس پر افسوس کرنے اور جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت کرنے والوں کیلئے اسمبلی کے اجلاس ہی میں شریک ہُوئے ۔ اور یہ عمران خان صاحب وہ ہستی ہیں جو نون لیگ اور پی پی پی کی سابقہ حکومتوں میں چھوٹے چھوٹے واقعات کے ظہور پذیر ہونے پر بھی حکومت اور اس کے متعلقہ وزیر کے استعفوں کے مطالبات کرتے رہے ہیں ۔ اور اب اپنا ہی پیدا کردہ انتظامی و حکومتی اسٹینڈرڈ فراموش کر بیٹھے ہیں ۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ بات کہنی تو آسان ہے لیکن اس پر خود عمل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ پی ٹی آئی اور خانصاحب کی حکومت نے اپنا یہ تیسرا بجٹ ایسے حالات میں پیش کیا ہے کہ تیسرا وزیر خزانہ کام کررہا ہے ۔ کسی کو بھی معلوم نہیں ہے کہ موجودہ وزیر خزانہ کی بھی وزیر اعظم صاحب ناراض ہو کر کب چھٹی کروا دیں ۔ اگر اسد عمر اور حفیظ شیخ ایسے وفاقی وزرائے خزانہ کی کسی معلوم وجہ کے بغیر وزیر اعظم صاحب چھٹی کروا سکتے ہیں تو شوکت ترین کی کیوں نہیں ؟ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ بجٹ عوام دوست ہے ۔ ہر حکومت ہر سال ایسے ہی خوشنما اور کھوکھلے دعوے کرتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پچھلے 72برسوں کے دوران پاکستان کی کس حکومت نے اپنے پیش کردہ بجٹ کے بارے میں ایسا خوش کن اور بلند دعویٰ نہیں کیا ہے ؟ لیکن یہ خوش کن دعوے اُس وقت ہوا میں اُڑ جاتے ہیں جب بجٹ کے بعد عوام سودا سلف لینے بازار جاتے ہیں اور کمر توڑ مہنگائی کے کارن خالی ہاتھ واپس آ جاتے ہیں ۔ اور جب مرکزی بجٹ کے بعد ہر ماہ حکومت مِنی بجٹ پیش کر کے عوام کا جینا مزید حرام کر دیتی ہے ۔اب نئے بجٹ میںپاکستان کے غریب عوام پر نئے 382ارب روپے کے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی گئی ہے ۔ عوام جو پہلے ہی ٹیکسوں کی بھرمار سے مری پڑی ہے ، اُن کی ٹوٹی کمر پر مزید ٹیکسوں کا ناقابلِ برداشت بوجھ ڈال دیا گیا ہے ۔ حیرانی کی بات ہے کہ پھر بھی حکومت اور اس کے لاتعداد وزیر و مشیر دعوے کررہے ہیں کہ نئے بجٹ میں پاکستان کے عوام کیلئے خیر ہی خیر ہے ۔ سبحان اللہ ۔ اگر یہ خیر ہے تو پھر بد بختی کس کو کہتے ہیں؟ عوام کو زیادہ حیرانی اور پریشانی یہ بھی ہے کہ اپوزیشن بھی حکومت کے ساتھ ملی ہُوئی ہے ۔ یوں عوام کو پاکستان کی اپوزیشن سے بھی کسی خیر اور بہتری کی توقع نہیں ہے ۔ ہم ایسی اپوزیشن سے بھلا کیا اچھی توقع رکھ سکتے ہیں جو خود بھی اپنے اپنے نجی مفادات کے تحفظ کیلئے باہم دست و گریباں ہو رہی ہو ؟ نئے بجٹ کی شکل میں حکومت نے دراصل غریب عوام کے منہ پر ایک نیا تھپڑ رسید کیا ہے ۔ اور یہ تھپڑ دیگر بھی کئی عالمی اور قومی تھپڑوں کی گونج میں عوام کے منہ پر مارا گیا ہے ۔ خبر ہے کہ پچھلے ہفتے ہی فرانس کے ایک شہری نے فرانسیسی صدر کے منہ پر طمانچہ رسید کر دیا تھا ۔ اور اب11جون 2021ء کو فرانس کی ایک عدالت نے فرانسیسی صدر، ایمانوئیل میکرون ،کو عوام کے سامنے تھپڑ مارنے والے 28 سالہ فرانسیسی شہری کو 4 ماہ قید کی سزا سنادی۔خبرایجنسی ”رائٹرز” کی رپورٹ کے مطابق: عدالت نے تھپڑ مارنے والا نوجوان 28 سالہ ڈیمین ٹیریل قرون وسطیٰ کی تلوار بازی کا مداح ہے اور وہ دائیں بازو کے نظریات سے متاثر ہے۔عدالت نے ڈیمین ٹیریل کو 18 ماہ قید کی سزا سنائی تاہم 14 ماہ کی سزا معطل کردی، جس کے بعد مجرم کو اب 4 ماہ جیل میں گزارنے ہوں گے۔قبل ازیں انہوں نے فرانس کے جنوبی علاقے ویلینس میں عدالت کو بتایا تھا کہ انہوں نے صدر میکرون کو تھپڑ اس لیے مارا کیونکہ وہ فرانس کو نقصان پہنچانے والے تمام لوگوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ میکرون کے جنوبی فرانس میں ڈروم ریجن کے دورے سے کئی دن قبل سوچا تھا کہ ان پر انڈے یا کریم پھینک دوں لیکن تھپڑ مارناپہلے سے سوچا منصوبہ نہیں تھا۔عدالت میں انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں میکرون ہمارے ملک کی بہت صاف دہائی کی نمائندگی کر رہا ہے اور میرا خیال تھا کہ اگر میں میکرون کو چیلنج کروں تو وہ مجھے جواب دیں گے۔دوسری جانب فرانسیسی صدر میکرون نے واقعے کو ایک نظر انداز شدہ واقعہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ تشدد اور نفرت جمہوریت کے لیے خطرہ ہے جبکہ عدالت میں ملزم کے بیان پر ان کے دفتر سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔عدالت نے ڈیمین ٹیریل کو سرکاری عہدیدار کو مارنے کے جرم میں سزا سنائی ہے، جس کی عام طور پر سزا 3 سالہ جیل اور 45 ہزار یورو جرمانہ ہوسکتی ہے لیکن فرانسیسی صدر کی طرف سے نرم معاملہ برتنے پر مجرم کی سزا میں خاصی کمی کر دی گئی ہے ۔فرانسیسی صدر کے منہ پر تھپڑ مارنے کا یہ واقعہ اگر پچھلے ہفتے پیش آیا تھا تو رواں ہفتے ہمارے ہاں بھی ایک ایسے ہی تھپڑ مارنے کی بازگشت سنائی دی گئی ہے ۔ اس تھپڑ کی گونج سے سارا ملک تھرا اُٹھا ہے ۔ یہ تھپڑ پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب عثمان بزدار کی معاونِ خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پیپلز پارٹی کے ایم این اے عبدالقادر مندوخیل کے منہ پر مارا ہے ۔ یہ سانحہ اُس وقت پیش آیا جب رواں ہفتے ایکسپریس نیوز کے ٹاک شو ، جس کے میزبان جاوید چودھری ہوتے ہیں ، پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر مندوخیل ، پی ٹی آئی حکومت کی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور نون لیگ کی ایم پی اے عظمیٰ بخاری شریک تھے ۔دوران ِ گفتگو مندوخیل اور فردوس اعوان میں گرما گرمی اس انتہا کو پہنچ گئی کہ پروگرام میں صاف نظر آ رہا ہے کہ آگے بڑھ کر ڈاکٹر فردوس ایم این اے مندوخیل کے منہ پر تھپڑ رسید کررہی ہیں اور جواب میں مندوخیل نے صرف اپنی حریف کا، اپنے بچاؤ میں ، بازو پکڑا ہے ۔ گویا ایک غیر منتخب شخصیت نے ایک منتخب نمائندے کے منہ پر طمانچہ مارا ہے ۔ اس منظر ، جسے لاکھوں ناظرین نے لائیو دیکھا ہے ، میں حکومتِ پنجاب کی خاتون معاونِ خصوصی کی جارحیت صاف نظر آ رہی ہے ۔ بعد ازاں ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے نجی طور پر اس واقعہ بلکہ سانحہ کی وضاحت کرتے ہُوئے کہا ہے کہ مندوخیل نے اُن کے والد کو گالیاں د ی تھیں اور اپنے دفاع میں اُنہوں نے تھپڑ مارا تھا ۔ اس کے برعکس میں پروگرام کے میزبان جاوید چودھری کا جواب یوں سامنے آیا ہے :” گالی سب سے پہلے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے دی ۔ اور پھر اس کا جواب بھی گالی ہی میں مندوخیل نے دیا ۔” اب خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اصل ذمہ دار کون تھا؟ لیکن دیکھنے والے اتنا ضرور جان گئے ہیں کہ حکومتی صفوں کے ذمہ داران میں صبر کا مادہ کتنا اور کہاں تک ہے !سوشل میڈیا میں ابھی تک اس تھپڑ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے ۔ اگر ہم غور سے دیکھیں تو پی ٹی آئی کی حکومت میں حکمرانوں اور وزیروں کی جانب سے صحافیوں اور دیگر افراد کے خلاف ہتھ چھٹ کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں ۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ پی ٹی آئی کے ایک وفاقی وزیر نے برسرِ مجلس دو اینکروں کے منہ پر تھپڑ مارا تھا ۔ پہلے اس تشدد کا ہدف مبشر لقمان بنے اور پھر بول ٹی وی کے اینکرسمیع ابراہیم کے منہ پر اسی وفاقی وزیر نے طمانچہ رسید کیا ۔ یہ وفاقی وزیر ابھی تک عمران خان کی کابینہ میں شامل ہیں ۔ اگر جناب عمران خان نے اُس وقت اس وفاقی وزیر کے خلاف کوئی قدم اُٹھایا ہوتا تو آج مندوخیل صاحب بھی تھپڑ سے بچ جاتے ۔ اس سے قبل پی ٹی آئی کی ایک اہم شخصیت اور وزیر اعظم کے قریبی اور معتمد دوست ، نعیم الحق، نے ایک ٹی وی ٹاک شو کے دوران کراچی کے ایک معزز سیاستدان پر پانی سے بھرا گلاس دے مارا تھا ۔ اور اس سے قبل پی ٹی آئی کے ایک مرکزی وزیر ، فیصل واوڈا، نے اے آر وائی کے ٹاک شو کے دوران میز پر فوجی بوٹ رکھ کر ہماری سیاسی اور صحافتی آداب کی توہین کی تھی ۔ افسوس ، وزیر اعظم صاحب نے ایسے کسی ایک اقدام کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی ۔

براہ راست اپنے آلے پر حقیقی وقت کی تازہ ترین معلومات حاصل کریں ، ابھی سبسکرائب کریں۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں