پاکستانتھائی لینڈخواتینسعودی عرب

سعودی عرب میں خواتین کو تنہا اور آزاد زندگی گزارنے کی اجازت































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































ریاض: سعودی عرب میں پہلی بار خواتین کو اپنے مرد سرپرست یعنی والد، بھائی یا شوہر کے بغیر تنہا رہنے اور آزاد زندگی گزارنے کی اجازت مل گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں ہونے والی نئی قانون سازی میں خواتین کو لازمی طور پر اپنے مرد سرپرست کے ساتھ رہنے کے قانون کے آرٹیکل 169 سے پیراگراف (ب) حذف کردیا گیا جس کے بعد مملکت میں خواتین کو والد، بھائی یا شوہر کے ساتھ رہنے کے بجائے تنہا رہنے کا حق حاصل ہوگیا۔

قانون میں اس ترمیم کے بعد سعودی عرب میں خواتین کو اب طلاق یا کسی جرم میں سزا مکمل کرنے کے بعد ان کے مرد سرپرستوں میں سے کسی ایک کے حوالے کرنے کے بجائے تنہا رہنے کی اجازت حاصل ہوگئی۔ اسی طرح خواتین کو اب کئی معاملات میں مرد سرپرستوں کی اجازت لینا بھی ضروری نہیں ہوگا۔

نئے قانون کے متن میں خاتون کے تنہا رہنے پر خاندان کے مرد سربراہ کی جانب سے مقدمہ کے انداراج کو ممنوع قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بالغ عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کہاں رہنا چاہے۔ علاوہ ازیں سرپرست، آزاد اور تنہا رہنے والی خاتون سے متعلق صرف اسی وقت شکایت درج کرا سکتے ہیں جب وہ خاتون کسی جرم کی مرتکب ہوئی ہوں اور جرم کا ثبوت بھی موجود ہو۔

سعودی عرب میں خواتین کے سرپرست کے حوالے سے قانون کے بڑھتے ہوئے ناجائز استعمال پر کافی عرصے سے غور و خوص جاری تھا تاہم فروری 2019 میں 18 سالہ لڑکی کے چھپتے چھپاتے تھائی لینڈ پہنچنے اور والدین پر زبردستی فیصلے مسلط کرنے کے الزامات پر اس معاملے کو عالمی توجہ ملی تھی۔

ولی عہد محمد بن سلمان نے منصب سنبھالتے ہی کئی تاریخی اور غیر معمولی نوعیت کے اقدامات کیئے ہیں جن میں وژن 2023 کے تحت خواتین کو خود مختار بنانا بھی شامل ہے جس کے بعد سے خواتین کو گاڑی چلانے، ملازمت کرنے، کھیل میں حصہ لینا اور بیرون ملک کے اکیلے سفر کی اجازت ملی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں خاتون کو اپنے کسی مرد رشتہ دار کے ساتھ رہنا لازمی تھا۔ اسی طرح باپ یا شوہر، چچا، بھائی یہاں تک کہ بیٹا کی اجازت کے بغیر شادی، پاسپورٹ کے حصول یا بیرون ملک سفر کرنا ناممکن تھا۔

براہ راست اپنے آلے پر حقیقی وقت کی تازہ ترین معلومات حاصل کریں ، ابھی سبسکرائب کریں۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں