بین الاقوامیتارکین وطنفٹ بالہالی ووڈ

ڈیانا انٹرویو سکینڈل: بی بی سی کے سابق سربراہ نے استعفی دے دیا

بی بی سی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لارڈ انتھونی ہال نے 1990 کی دہائی میں شہزادی ڈیانا کے ساتھ بی بی سی پینوراما پروگرام کے دھماکہ خیز انٹرویو کی تحقیقات کے تناظر میں نیشنل گیلری کے چیئرمین کے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

لارڈ ہال نیشنل گیلری کے عہدے پر ایک سال سے بھی کم عرصہ تک رہے۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دیا کہ ’اس عہدے پر رہنا اس ادارے کے لیے اچھا نہیں ہوگا جس کا میں بہت زیادہ خیال رکھتا ہوں۔‘

بی بی سی کو اپنے سابق ​​سربراہ کے طرز عمل کے بارے میں سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک سرکاری تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ براڈکاسٹر مارٹن بشیر نے 1995 میں شہزادی ڈیانا کے انٹرویو کو حاصل کرنے کے لیے ’دھوکہ‘ دیا۔ اس تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ طویل عرصے سے دھوکہ دہی کے الزامات کے باوجود براڈکاسٹر کو دوبارہ ملازمت پر کیوں رکھا گیا تھا۔ اور کیا لارڈ ہال بحالی کے عمل میں شامل تھے۔

لارڈ ہال، جو 2013 سے 2020 کے درمیان بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل تھے اور 1990 کی دہائی میں نیوز اور کرنٹ افیرز کی نگرانی کرتے تھے، کو لارڈ ڈیسن کی زیرقیادت تحقیقات میں ادارے کی اندرونی تحقیقات کی نگرانی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ٹم سوٹر نے، جو مارٹن بشیر کو بےگناہ قرار دینے والیبی بی سی کی تفتیش میں شامل تھے، جمعہ کو میڈیا کے نگران ادارے آف کام میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

‘ہم بھول گئے تھے کہ کیا امید تھی’: ویکشام نے آواز اٹھائی جب ہالی ووڈ کے مالکان فٹ بال انقلاب کے اگلے مرحلے کا انکشاف کریں

لارڈ ہال نے ایک بیان میں کہا، ’میں نے آج نیشنل گیلری کے صدر کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔‘

’مجھے ہمیشہ عوامی خدمت کا قوی احساس رہا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ اس کردار میں میرا تسلسل اس ادارے کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔

’جیسا کہ میں نے دو دن پہلے کہا تھا، مجھے 25 سال پہلے کے واقعات پر بہت افسوس ہے اور مجھے یقین ہے کہ قیادت کا مطلب ذمہ داری اٹھانا ہے۔‘

نیشنل گیلری نے کہا کہ لارڈ ہال کے عہدے سے دستبرداری کے فیصلے کو ’سمجھتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔‘

نیشنل گیلری کے بورڈ آف ٹرسٹی کے ڈپٹی چیئر، سر جان کنگ مین نے کہا: ’ٹونی ہال نیشنل گیلری کے چیئر کی حیثیت سے عمدہ کام کر رہے تھے، جہاں ان کا بہت احترام اور انہیں پسند کیا جاتا ہے۔

’گیلری کو انہیں کھونے پر انتہائی افسوس ہے، لیکن یقینا ہم اس کے فیصلے کو پوری طرح سمجھتے اور ان کا احترام کرتے ہیں۔‘

اس ہفتے کے اوائل میں ڈیجیٹل، ثقافت، میڈیا اورسپورٹس کمیٹی کے صدر جولین نائٹ نے کہا تھا کہ لارڈ ڈیسن کی تحقیقات کے نتیجے میں بی بی سی کو ’سنگین سوالات‘ کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’جواب دینے کے لیے ابھی بھی کئی سنگین سوالات باقی ہیں۔‘ مارٹن بشیر کو کیوں دوبارہ ملازمت دی گئی جبکہ بی بی سی کو ان کے بارے میں سب معلوم تھا۔

’میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ بی بی سی کمیٹی کو کیسے یقین دلائے گی کہ یہ سنگین ناکامیاں دہرائی نہیں جائیں گی جنہیں ڈیسن رپورٹ نے نمایاں کیا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بی بی سی کے ایک انٹرویو میں، بی بی سی نیوز کے سابق ​​ڈائریکٹر جیمز ہارڈنگ نے اس سوال کا جواب دینے سے قاصر رہے کہ کیا مسٹر بشیر کی بحالی میں لارڈ ہال ملوث تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں جو کچھ کہہ رہا تھا وہ یہ تھا کہ بی بی سی نیوز نے مارٹن بشیر کی خدمات حاصل کیں، اور اس لیے اس کی ذمہ داری میرے ذمے ہے۔‘

لارڈ ڈیسن کی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ مسٹر بشیر نے شہزادی ڈیانا کا انٹرویو حاصل کرنے کے لیے ’دھوکہ دہی‘ کی جس میں مرحومہ کے بھائی ارل سپینسر کو جعلی دستاویزات دکھانا بھی شامل تھا۔

مسٹر بشیر نے اس اقدام کے لیے معذرت کر لی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ شہزادی ان کی جعل سازی سے قطع نظر اس انٹرویو کے لیے راضامند ہوگئی تھیں۔

شہزادی ڈیانا نے اس دھماکہ خییز انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ شہزادہ چارلس سے ان کی شادی میں ’تین افراد‘ شامل تھے۔

نیشنل گیلری کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر گیبریئل فائنلڈی نے کہا کہ لارڈ ہال کے ساتھ کام کرنا خوشی کی بات تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’اس نے گیلری سے انہوں نے غیر معمولی وابستگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ان کے ساتھ مل کر کام کرنے میں بہت خوشی محسوس ہوئی ہے۔ ’ہم نے کوویڈ کے چیلنجوں کا سامنا کیا ہے اور 2024 میں گیلری کے دو سو سالوں کی تقریبات کے لیے تیاریاں کر رہے تھے۔‘

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں