انصافبجٹبھارتپاکستانپشاورتجارتصنعتکراچیلاہورمعیشت

عمران خان تحریک انصاف کو شکست و ریخت سے کیسے روک سکتے ہیں؟

چند روز قبل یہ خبر منظر عام پر آئی کہ حکومت اور جہانگیر ترین گروپ کے پس پردہ جاری معاملات طے پا گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوست جہانگیر ترین کے گروپ نے عید کے بعد آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے معاملے کو لے کر اہم فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے گروپ کی جانب سے بجٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔  ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین کے گروپ سے ایوان وزیراعظم نے رابطہ کرلیا۔جہانگیر ترین گروپ نے بجٹ کی منظوری میں حکومت کو ووٹ دینے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ جہانگیر ترین کا گروپ صوبہ اور مرکز میں بجٹ کی منظوری کے لئے ووٹ دے گا۔خیال رہے کہ وفاقی سیکرٹری خزانہ کامران افضل نے کہا ہے کہ مالی سال 22-2021 بجٹ جون کے دوسرے ہفتے میں پیش ہوگا، بجٹ اسٹریٹیجی پیپر میں تبدیلیاں ہوسکتی ہیں، بجٹ اسٹریٹیجی پر پارلیمنٹ، صنعت کار اور تاجروں سے مشاورت کریں گے۔ یاد رہے کہ جہانگیر ترین کے گروپ میں موجود تحریک انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز نے بجٹ منظوری کے لئے جہانگیر ترین کے خلاف جاری انکوائری ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اطلاعات تھیں کہ حکومت اور جہانگیر ترین گروپ کے پس پردہ معاملات طے پاگئے ہیں جبکہ وزیراعظم اور جہانگیر ترین کا وٹس ایپ پر رابطہ بھی بحال ہوگیا ہے۔

کچھ عرصہ قبل اسد عمر صاحب نے ایک بیان دیا تھا کہ اگر حکومت کو نہ چلنے دیا گیا تو وزیر اعظم صاحب اسمبلیاں توڑ دیں گے۔ بہت سارے لوگوں نے اس بیان کو عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین تعلقات کی کشیدگی سے تعبیر کیا مگر شاید اندرونی حالات کچھ اور ہی ہیں۔ حکومتی جماعت اس قدر اندرونی تضادات کا شکار ہے کہ بسا اوقات عمران خان کو یہ دھمکی دے کر انہیں چپ کرانا پڑتا ہے کہ وہ اسمبلیاں توڑ دیں گے اور تم سبھی ہاتھ ملتے رہ جاؤ گے۔ پارٹی میں شروع سے ہی دو گروپ موجود تھے جہانگیر ترین گروپ اور شاہ محمود قریشی گروپ۔ پنجاب کی سطح پر عثمان بزدار گروپ اور علیم خان گروپ خبیر پختونخوا میں خٹک گروپ اور محمود خان گروپ کراچی میں گورنر عمران اسماعیل، علی زیدی، عامر لیاقت فصیل واوڈا سب اپنی اپنی بانسری بجا رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت میں آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کو تباہ شدہ معیشت ملی اور وزیراعظم عمران خان نہایت نیک نیتی سے ملک کی ڈوبتی کشتی کو پار لگانے میں جت گئے مگر انکی گرفت اپنی پارٹی کے تنظیمی معاملات پر ڈھیلی پڑ گئی اور ضمنی انتخابات میں اپنی ہی خالی کردہ نشت بشمول مانسہرہ اور کراچی ہار گئے۔ مانسہرہ میں خٹک برادران کی باہمی چپکلش اور وزیر اعلیٰ محمود خان کو نیچا دکھانے کے چکر میں ہارے ۔

کراچی کی سیٹ فصیل واوڈا کی وجہ سے ہارے، ان کو الیکشن کمیشن میں اپنی نااہلی نظر آرہی تھی اس سےکراچی سے ہی تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اس وقت کہا تھا یہ غلط فیصلہ ہے اور سب نے دیکھا کہ کراچی کے تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی نے کس قدر غیر سنجیدہ انتخابی مہم چلائی۔  فیصل واوڈا اور علی زیدی نے کیا کردار ادا کیا ،گورنر عمران اسماعیل کس قدر سنجیدہ تھے اور تحریک انصاف پہلے سے  پانچویں نمبر پر آگئی اب رہی سہی کسر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور عثمان ڈار کے سیالکوٹ رمضان بازار کے واقعے نے نکال دی۔  ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ٹھیک کیا ہے یا غلط اس بحث کے لئے الگ دفتر درکار ہے تاہم پارٹی کے دو اہم ترین افراد کے اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔  دوسری طرف جہانگیر ترین اپنی کرپشن پچانے کے لیے 20 کے قریب اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ ہر پشیی پر لے کر پیش ہو رہے ہیں اور پارٹی کے اندر اپنی طاقت دکھا رہے ہیں۔بچنے کے لیے انہوں نے سینٹ میں جانے کے لئے وزیراعظم عمران خان کو غلط گائیڈ کیا کہ میری خالی کردہ نشست تحریک انصاف بآسانی جیت لے گی۔

تضادات کے اس کھیل میں عمران خان کو کرنا صرف یہ پڑتا ہے کہ خود یا اپنے پیروکاروں کے ذریعے اسمبلی توڑنے کی دھمکی دے کر سب کے ہاتھ پاؤں شل کر دیتا ہے۔ اسے پتہ ہے یہاں اخلاقیات کی کوئی حیثیت نہیں اسی لئے تو وہ بطور کامرس منسٹر بھارت سے تجارت کی اجازت دیتا ہے اور جب دو دن میں یہ دیکھتا ہے کہ مجھے بھی نواز شریف کی طرح قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے تو وہ بطور وزیر اعظم اس سمری کو مسترد کر دیتا ہے۔ کوئی جو بھی کہے لیکن اس وقت نواز شریف ہی اس کی حکومت قائم رہنے کی ضمانت ہے ورنہ یہ اعصابی جنگ عمران خان کب کی قومی اسمبلی یا پنجاب میں ہار چکے ہوتے۔بعض لوگ خاص طور پر صحافی حضرات عمران خان کی اسمبلی توڑ دینے کی دھمکی کو دو وجوہات کی وجہ سے مذاق میں اڑا دیتے ہیں۔ پہلی وجہ یہ کہ عمران خان کی کوئی حیثیت نہیں کہ وہ اسمبلی توڑ سکے اور دوسری طاقتور وجہ یہ ہے کہ اسمبلیاں توڑ کر ان کے ہاتھ کیا آئے گا۔ دراصل یہ پیغام بڑا واضح ہے کہ کوئی اکیلا نہیں جائے گا اور یہ کہ جیسا بھی وزیر اعظم ہو اس کے پاس اسمبلی توڑنے کے علاوہ بھی بہت سارے اختیارات ہوتے ہیں اور ان کے استعمال سے پھر اسمبلی توڑنے جیسی فضول دھمکی پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ تاہم یہی صورتحال رہی تو اگلے انتخابات تک تحریک انصاف کے کئی حصے بخرے ہوچکے ہوں گے جن کو سمیٹنا عمران خان کے بس کی بات نہیں رہے گی۔

جمعتہ المبارک، 14 مئی 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں