افغانستانایرانبحریہبرطانیہبھارتبین الاقوامیپاکستانپشاورتارکین وطنترکیتعلیمجرمنیچیندفاعروسکراچیکوئٹہلاہوریورپ

اقبال، جو ہمیشہ شعوری ارتقا کے سفر پر گامزن رہے

علامہ اقبال کے بارے ان کے بیٹے جاوید اقبال کی کتاب ’زندہ رود‘ پڑھنے کا مقصد اقبال کو اور قریب سے جاننا، اقبال کو مزید سمجھنا اور دل میں اقبال کے قدر و منزلت کے بوٹے کی آبیاری کرنا تھا۔ اقبال کی شاعری سے عقیدت یا اقبال کی ذات سے محبّت کا تقاضا ہے اقبال کی سوانح حیات کا مطالعہ کیا جائے، کہ وہ کیا حالات وا قعات تھے کہ اقبال پہلے ڈاکٹر اقبال اور پھر شاعر مشرق بنے۔

یہ تو ہو گیا رسمی تعارف، کوئی سچ پوچھے کہ اقبال کو جاننا ہے تو زندہ رود ہی کیوں، تو اس کے پس منظر میں ایک قصہ ہے جو دلچسپ تو شاید نہ ہو لیکن یہ ضرور بتانا ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے کا خیال کیونکر آیا۔

ہوا کچھ یوں کہ الیکشن 2018 کی تربیتی ورکشاپ میں ایک صاحبہ سے ملاقات ہوئی جو اردو ادب میں ڈاکٹریٹ کر رہی تھیں۔ چائے کے وقفے میں ان سے اردو ادب پر گفتگو ہوئی اور بر سبیل تذکرہ ان کو بتایا کہ مجھے اردو ادب سے بڑا لگاؤ ہے اور بچپن گڑیا کھیلنے سے زیادہ کتابیں پڑھنے میں گزرا ہے۔ اس پر وہ محترمہ بولیں پھر تو آپ نے یقنا زندہ رود پڑھی ھوگی، اور جواب نفی میں تھا۔ دراصل ان صاحبہ کا تحقیقی مکالہ اسی کتاب پر تھا۔ لہٰذا 2019 میں یونیورسٹی کی لائبریری سے اس کتاب کا اجرا کروایا لیکن کچھ عرصہ اس کی ضخامت کی وجہ سے اس کو کھولنے کی جرات نہ کی۔

اب تک آپ کو اندازہ ہو چکا ہو گا کہ راقم تحریر ایک غیر سنجیدہ قاری اور ناتجربہ کار لکھاری ہے۔ لہٰذا کسی بھی بھول چوک کے لیے پیشگی معافی کی درخواست ہے۔

مجموعی طور پر زندہ رود ایک شخصیت کی نہیں بلکہ ایک زمانے کی داستان ہے، وہ وقت جب برصغیر کے مسلمان اپنی جداگانہ حیثیت سے آگاہ ہو رہے تھے، مغربی استعمار اپنے پھیلاؤ کا بوجھ اب اٹھا نہیں پا رہا تھا، ایک طرف یورپی طاقتیں ایک دوسرے سے نبرد آزما تھیں تو دوسری جانب اشتراکیت اور سرمایادارانہ نظام کی مابین اقتصادی اختلافات ہولناک ہوتے جا رہے تھے۔ ایک طرف روس اور چین میں انقلاب آ رہا تھا گویا گراں خواب چینی سنبھل رہے تھے اور دوسری جانب نو آبادیاتی نظام کا خاتمہ ہو رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا کہ مسلمانان ہند کو ایک رہبر کی تلاش تھی جو ان کی اندرونی اختلافات سی بالا ہو کر ان کو ایک مقصد کے لیے یکجا کرے۔ وہ مقصد کیا ہو ؟ ابھی اسکا تعین بھی نہیں ہوا تھا۔

کتاب کے پہلے دس ابواب اقبال کی ابتدائی اور ذاتی زندگی کا احاطہ کرتے ہیں۔ میں فیمنسٹ نہیں یا شاید ہوں، فی الحال یہ تو طے نہیں کیا لیکن قاری کو اقبال کی پہلی ازدواجی زندگی نے بہت مایوس کیا۔ اس کا ذمہ دار جاوید اقبال، اقبال کے بزرگ اہل خانہ کو سمجھتے ہیں۔ لیکن دوسرا نکاح اور پھر دوسری زوجہ سے بھی بےاعتنائی اقبال کی ناقدر شناسی ہے۔ یہاں پر پڑھنے والوں کو گستاخی کی بو آ سکتی ہے، لیکن جب بھی کبھی کسی جگہ پر اقبال پر تنقید سنی یا پڑھی، ناقدین نے ہمیشہ اقبال کی ازدواجی زندگی کو نشانہ بنایا جو کسی قدر جائز بھی ہے۔

یہاں یہ واضح کر دوں کہ اس تحریر کا مقصد اقبال کو جانچنا یا جاوید اقبال پر منفی تبصرہ کرنا ہرگز نہیں محض ایک ادنیٰ سی رائے کا اظہار ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے۔ بہرحال آغاز میں ہی ایسی راے قلمبند کر دی کیوں کہ کوشش ہے کہ کتاب کی بارے میں تحریر ہے تو کتاب کی ترتیب کے عین مطابق ہو۔

اقبال کی اس سوانح حیات میں جاوید اقبال بار بار ثابت کرنے پر تلے ہیں کہ اقبال مےنوش نہیں تھے۔ راقم کی اس سلسلے میں بطور مداح رائے ہے کہ اقبال مےنوش تھے یا نہیں، اقبال کو کسی تمغہ پاکیزگی کی ضرورت نہیں۔ بہرحال جس دیانت داری سے مصنف نے اقبال اور عطیہ فیضی سے بےتکلفی اور مراسلہ نگاری کا ذکر کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔

زندہ رود کے مطالعہ کے دوران ایک مسلسل احساس یہ بھی رہا کہ جہاں جہاں جاوید اقبال نے اقبال کی نظموں اور اشعار کے حوالے دیے ہیں بارہا قاری کا دل کرتا ہے کہ کاش میرے پاس کلیات اقبال کا ایک مجلد نسخہ ہو، لیکن کتابت والا۔ کمپیوٹر نے جہاں ہماری زندگی آسان کی ہے وہاں اس کے حسن کو بھی ماند کیا ہے۔ خط کی جگہ فون نے لے لی اور کتابت کی جگہ ٹائپنگ نے۔ زندہ رود کا یہ نسخہ بھی سنگ میل پبلشرز کی ٹائپنگ زدہ اشاعت ہے۔ آج بھی میرے جیسے قدامت پسند لوگ ٹائپنگ پر کتابت کو فوقیت دیتے ہیں۔ کیوں کہ ہمیں لگتا ہے کہ ٹائپنگ کی پرفیکشن تحریر کی روح کو متاثرکرتی ہے۔

کتاب کے پہلے دس ابواب میں قرنطینہ کا لفظ نظر سے گزرا اور قدرے خوشگوار حیرانی ہوئی۔ راقم کا قیاس تھا کہ قرنطینہ لفظ اس سے پیشتر اردو لغت میں سرے سے موجود ہی نہیں تھا، موجودہ حالات میں جب کہ ساری دنیا لاک ڈاؤن کی طرف جا رہی تھی تو شاید پاکستانی صحافیوں نے یہ اصطلا ح تخلیق کی ہے جو انگریزی لفظ quarantine کی بگڑی ہوئی شکل ہے تا کہ ٹیلی ویژن پر خبروں کی پٹی چلانے کے وقت لکھنے اور سمجھنے میں آسانی ہو اور بتدریج یہ لفظ زبان زد عام ہو گیا۔ زندہ رود سے علم ہوا کہ انیسویں صدی کی آخری دہائی میں بھی یہ لفظ لغت میں موجود تھا۔ اس میں راقم جیسے افراد کے لیے ایک سبق ہے جو سمجھتے ہیں کہ اردو زبان محدود ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کتاب کا سب سے طاقتور پہلو ہے جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم کی منظر کشی۔ جاوید اقبال نے نہ صرف جنگ کا سیاسی پس منظر مفصل بیان کیا ہے بلکہ جنگ کی ہولناکیاں اور نو آبادیات پر جنگ کے اثرات کی ایسی بہترین نقشہ کشی کی ہے کہ قاری کے سامنے منظر واضح ہو جاتا ہے۔ تاریخ کے ایک ادنی طالب علم کے طور پر قاری کا مشورہ ہے کہ اگر آپ اردو زبان میں دونوں عالمی جنگوں کی وجوہات اور استعماری طاقتوں کا ان میں کردار سمجھنا چاہتے ہیں تو بھی زندہ رود کا ضرور مطا لعہ کریں۔ اردو زبان میں شاید آپ کو انگریزی کتب کی تراجم میں تو یہ معلومات مل جائیں لیکن مقامی مصنف کا نقطۂ نظر ملنا مشکل ہے، اور مقامی مصنف بھی وہ جو کہ قومی اور بین الاقوامی تاریخ و سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

جاوید اقبال نے ’چراغ تلے اندھیرا‘ کے مقولے کو غلط ثابت کر دکھایا۔ کتاب میں کہیں کہیں ایک بیٹے کے جذبات ضرور ملتے ہیں لیکن جہاں عالمی امن، تحریک پاکستان یا برصغیر کی مقامی سیاست کا ذکرہوتا ہے جاوید اقبال کا قلم غیر جانبدار اور غیر متزلزل نظر آتا ہے۔

راقم کو اقبال اور اس زمانے کے دیگر لوگوں کی ہمہ وقت بہت سے کام کمال مہارت سے سر انجام دینے کی صلاحیت نے اپنا گرویدہ بنا لیا- ذرا غور فرمائیے ایک طرف تو اقبال وکالت کی پریکٹس کر رہے ہیں، دوسری جانب مسلم سیاست میں سرگرم عمل ہیں، سیاسی کانفرنسوں میں شرکت کررہے ہیں بارہا لاہور سے دہلی اور دہلی سے لاہور کے سفر کر رہے ہیں۔ بےنظیر شاعری تخلیق کر رہے ہیں حتی کہ زبور عجم جیسی کتاب منظر عام پر آتی ہے۔ ۔ تشکیل جدید الہیات اسلامیہ کے موضو ع پر دور دراز کے شہروں میں خطبات دے رہے ہیں، ہندوستانی جامعات کے لیے امتحانی پرچے تیار کرتے ہیں اور پھر ان کو چیک بھی کرتے نظر آتے ہیں یہ محض 1927 سے 1930 تک کے احوال ہیں۔

اقبال کو بیک وقت مختلف زبانوں پر دسترس تھی، آپ کی مادری زبان پنجابی تھی، اعلیٰ تعلیم انگریزی اور جرمن زبان میں حاصل کی، آپ کا ڈاکٹریٹ کے مقالے کا دفاع جرمن زبان میں کیا۔ شاعری فارسی اور اردو زبان میں کی۔ علاوہ ازیں انگریزی میں مضمون نویسی کرتے رہے۔ The Reconstruction of Religious Thought انگریزی زبان میں اقبال کی مذہب پر گہری فکر و نظر کا شاخسانہ ہے۔ کتاب میں شامل خطبات کے عنوانات اور ان کی ترتیب سے ہی قاری پر اقبال کی علمی عظمت واضح ہو جاتی ہے۔

زندہ رود میں ایک مقام پر جاوید اقبال نے وہ سوالات نقل کے ہیں جو مذہب کے متعلق اقبال نے ایک دفعہ سید سلیمان ندوی سے پوچھے۔ ان سوالات کا جائزہ اس امر کا شاہد ہے کہ اقبال شاعر مشرق سے بہت بلند مرتبہ شخصیت ہیں۔ مذہب، فلسفے اور معاشرے کے عمیق علم نے ان کو جس مقام پر فائز کیا شاعری تو محض اس کا ایک چھوٹا سا پہلو ہے- جیسا کہ اقبال استفسار فرماتے ہیں کہ کیا اجماع امت نص قرآنی کو منسوخ کر سکتا ہے؟ زمین کا ما لک قرآن کی رو سے کون ہے؟

ان سوالات سے واضح ہوتا ہے کہ اقبال ہمیشہ حقیقت کی جستجو میں رہے۔ تلاش حق کے اس سفر میں متعدد بار اقبال کا اپنے ہی نظریات سے ٹکراؤ ہوا۔ ناقدین نے اس امر کو اقبال کی ذہنی نا پختگی یا موقع شناشی کا نام دیا لیکن اقبال ہمیشہ شعوری ارتقا سے ہمکنار رہے۔ جیسا کہ ایک زمانے میں اقبال مسولینی کی شان میں نظم کی شکل میں قصیدہ لکھتے ہیں، بعد ازاں وہی مسولینی اقبال کے لیے ایک بھیڑیے سے بدتر تھا۔

یہی ذہنی ارتقا اور روشن خیالی تھی کہ ملّاؤں نے اقبال کے ایمان پہ شک کیا اور رندوں نے اقبال کو صوفی گردانا۔ زمانے نے اقبال کو مغربی تہذیب کا دلدادہ کہا، مگر تاریخ نے اقبال کو شاعر مشرق ثابت کر دکھایا۔

اقبال نہ صرف فکری اعتبار سے فلسفہ سیا ست میں گہری دلچسپی رکھتے تھے بلکہ عملی طور پر بھی آپ نی خارزار سیاست میں قدم رنجہ فرمایا۔ زندہ رود کا تقریباً نصف حصہ اقبال کے سیاسی سفر کا احاطہ کرتا ہے۔ اس کی تفصیل میں اس لیے جانے سے گریزاں ہوں کہ تدریسی کتب اس موضوع سے بھری پڑی ہیں۔

اپنے دور کی سیاست دانوں میں اقبال یقیناً ایک ممتاز مقام رکھتے تھے کیوں آپ سیاست محض تقاریر، بیان بازی اور تنقیدکی سیاست سے بالاتر تھی، اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر اقبال نے نا سازی طبع کے باوجود سفر و حضر کی صعوبتوں کو بار ہا برداشت کیا۔ گول میز کانفرنسوں کے سلسلے میں بحری جہازوں کے ذریعے یورپ جاتے رہے۔

زندہ رود اقبال کی زندگی کی کہانی تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ بیسوی صدی کے اوائل کے سیاسی مدو جزر کی ایک تفصیلی داستان بھی ہے اور یہی نہیں بلکہ ڈاکٹر جاوید اقبال نے اس زمانے کے یورپ کا ایسا شاندار نقشہ کھینچا ہے کہ قاری کو بہت جگہ سوانح حیات پر سفر نامہ کا گماں گزرتا ہے۔ جب سمندری جہاز بحر ہند کا سینہ چیرتے ہوئے بحیرہ احمر پھر نہر سوئز پھر بحریہ روم اور بحر اوقیانوس میں داخل ہوتے تھے۔

ہندوستانی بندرگاہ سے لے کر انگلستانی سرزمین تک کا یہ سفر اقبال نے بار بار کیا۔ پہلے تعلیم کی خاطر انگلستان اور جرمنی تشریف لے گئے، پھر ہندوستانی مسلمانوں کی تقدیر بدلنے کے لیے انگلستان پھر اٹلی گئے۔ اسی دور میں اقبال کو یروشلم جانے کی سعادت بھی حاصل رہی۔ تیسری گول میز کانفرنس کے بعد اقبال نے ہسپانیہ کا دورہ بھی کیا، مسجد قرطبہ میں نماز ادا کی۔ الحمرا، غرناطہ اور اشبیلیہ کے محلات دیکھے، ماضی کی مسلمان حکمرانوں کی ان عالی شان یادگاروں نے اقبال کو اشکبار کیا اور انہوں ہسپانیہ اور قرطبہ پر شہرہ آفاق نظمیں لکھیں۔

اقبال دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے جب انگلستان گئے تو دیگر غیر ملکی سیاسی شخصیات مثال کے طور پر ایران کے سابق وزیراعظم سید ضیاء الدین، افغانستان کے سابق حکمران، اور ترکی میں انقلاب سے ناراض ترک سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ ان رابطوں کا مقصد امت مسلمہ کے اتحاد کا پرچار تھا۔ لیکن واضح ہوا کہ لندن محض پاکستانی سیاسی خاندانوں کی پسندیدہ جائے پناہ نہیں بلکہ اور ممالک کے ارباب اقتدار جب بھی شکست کا شکار ہوئے، انگلینڈ ان کی جائے قیام ٹھہرا۔

نجانے انگلستان کی زمین میں ایسی کیا کشش ہے کہ جب بھی ملکی سیاست کے عروج پر زوال کے بادل منڈلاے، نامراد سیاسی رہنماؤں نے بمع اہل و عیال لندن میں اقامت اختیار کی۔ بےنظیر بھٹو کی تصنیف دختر مشرق میں جگہ جگہ ذکر ملتا ہے کہ جب ضیا کے زمانے میں بھٹو خاندان پر کڑا وقت آیا تو سب نے لندن کا رخ کیا، اور آج کل نواز شریف اپنے سب خاندان سمیت لندن میں ہی رہائش پذیر ہیں۔

بہرکیف ذکر ہو رہا تھا اقبال کے غیر ملکی اسفار کا۔ اقبال کو سر زمین افغانستان کے سفر کا بھی تجربہ حاصل رہا۔ افغانستان میں اقبال کے میزبان نادر شاہ تھے اور قابل ذکر ہمسفر سید سلیمان ندوی۔ کند با ہم جنس با ہم جنس پرواز

افغانستان کی سرحدیں چونکہ بر صغیر کے شمال مغربی علاقے سے ملتی تھیں تو اقبال زمینی راستے سے افغانستان پہنچے۔ لاہور سے پشاور، پشاور سے کابل، کابل سے قندہار براستہ غزنی، اور واپسی پر قندہار سے چمن، چمن سے کوئٹہ، کوئٹہ سے ملتان اور ملتان سے لاہور بذریعہ ٹرین۔ اگر دیکھا جائے تو آج بھی لاہور سے کوئٹہ جانے کے لیے یہی راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس دور میں اقبال کو افغانستان میں جس عزت اور تکریم سے نوازا گیا یہی قدرومنزلت دور حاضر میں بھی اقبال کو حاصل ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے سیاسی تعلقات جیسے بھی ہوں اقبال افغانیوں کے لیے بھی اتنے کی معتبر ہیں جتنے پاک و ہند کے مسلمانوں کے لیے۔ بلکہ ترانہ ہندی لکھ کر تو اقبال سارے ہندوستان کے پسندیدہ شاعر ٹھہرے۔ بہرحال ذکر ہو رہا ہے اقبال اور افغان کا، راقم نے 2010 میں افغانستان کا سفر کیا تو افغانوں کی اقبال سے محبّت دیکھ کر ایک خوشگوار حیرت ہوئی۔

غالباً اس کی وجہ اقبال کا فارسی کلام ہے۔ افغانی اقبال کا ذکر اقبال لاہوری کے نام سے کرتے ہیں۔ رسمی یا غیر رسمی گفتگو میں اقبال کے کلام کے حوالے دے جاتے ہیں۔ بلکہ 2010 میں کابل یونیورسٹی میں اقبال آڈیٹوریم کے نام سے ایک کثیرالمنزلہ عمارت بھی زیر تعمیر تھی جس کے احاطہ میں لائبریری، علم مصوری کا تعلیمی ادارہ اور ایک آڈیٹوریم شامل ہیں۔

سنا تھا کہ یہ دنیا تب تک قدر نہیں پہنچانتی جب تک انسان دنیا سے رخصت نہیں ہو جاتا، لیکن اسے اقبال کی خوش اقبالی سمجھے کہ اقبال کے چاہنے والوں نے انکی زندگی میں ہی بیشمار مرتبہ حق قدردانی ادا کیا۔ اقبال کے اعزاز میں ظہرانے، عشائیے اور چاۓ کی دعوتیں تو ایک طرف ان کی زندگی میں ہی مختلف علمی، سیاسی اور معاشرتی تنظیموں نے یوم اقبال منعقد کروائے، جہاں اقبال کی سوچ، شاعری اور فکر پر تحقیقی مقالہ جات پڑھے جاتے تھے۔

زمانہ طالب علمی سے لے کرآخری علالت تک اقبال کو دوستوں، عزیزوں اور رفقائے کار نے محبّت اور بے انتہا عزت دی۔

لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس قدر عزت افزائی اور ان گنت عقیدت مندوں کے باوجود اقبال نے عجیب بیقراری کے عالم میں وفات پائی اور جاوید اقبال کے مطابق روح اقبال کی یہی بےچینی اور تڑپ اقبال کی شاعری میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

زندہ رود اقبال پر لکھی جانے والی سینکڑوں تحریروں میں سے ایک تصنیف ہے جس کی ضخامت آپ کو اس کا مطالعہ کرنے سے باز کرے گی، بعد میں یہی ضخامت آپ کو اس کتاب سے محبّت میں مبتلا کر دے گی۔

مزید دکھائیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button

اپنا ایڈ بلاکر تو بند کر دیں

آواز ، آزادی صحافت کی تحریک کا نام ہے جو حکومتوں کی مالی مدد کے بغیر خالص عوامی مفادات کی خاطر معیاری صحافتیاقدار کی ترویج کرتا ہے اپنے پسندیدہ صحافیوں کی مدد کے لئے آواز کو اپنے ایڈ بلوکر سے ہٹا دیں